isalm_allaha

اللہ تعالیٰ او ررسول اللہ ﷺ کا رُعب

EjazNews

(سورۃ الحشر ۵۹)
۲۔۔۔ وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلے حشر کے وقت نکالا، تمہارا گمان (بھی) نہ تھا کہ وہ نکلیں گے اور وہ خود (بھی) سمجھ رہے تھے کہ ان کے (سنگین) قلعے انہیں اللہ تعالیٰ (کے عذاب) سے بچالیں گے، پس ان پر اللہ تعالیٰ کا (عذاب) ایسی جگہ سے آپڑا کہ انہیں گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے رعب ڈال دیا وہ اپنے گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں اجاڑ رہے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھوں (برباد کروا رہے تھے ) پس اے آنکھوں والو ! عبرت حاصل کرو۔

اس رعب کی وجہ سے ہی انہوں نے جلا وطنی پر آمادگی کا اظہار کیا، ورنہ عبد اللہ بن ابی (رئیس المنافقین) اور دیگر لوگوں نے انہیں پیغامات بھیجے تھے کہ تم مسلمانوں کے سامنے جھکنا نہیں، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو یہ خصوصی وصف عطا فرمایا تھا کہ دشمن ایک مہینے کی مسافت پر آپ ﷺ سے مرعوب ہو جاتا تھا۔ اس لیے سخت دہشت اور گھبراہٹ ان پر طاری ہو گئی اور تمام تر اسباب و وسائل کے باوجود انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے اور صرف یہ شرط مسلمانو ں سے منوائی کہ جتنا سامان وہ لاد کر لے جا سکتے ہیں انہیں لے جانے کی اجازت ہو، چنانچہ اس اجازت کی وجہ سے انہوں نے اپنے گھروں کے دروازے اور شہتیر تک اکھیڑ ڈالے تاکہ انہیں اپنے ساتھ لے جائیں ۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن پرنٹنگ)

یہ بھی پڑھیں:  قربانی کی مختلف صورتیں