village

زرعی زمینوں پر 1883-84ءمیں لگائے گئے ٹیکس

EjazNews

کنوﺅں سے سیراب ہونے والی زمین پر شرح آبیانہ:
اس سے پہلے مالئے کی جو شرح متعین کی گئی اس کا اطلاق زیادہ تر بارانی علاقو ںپر ہوتا ہے۔ کنوﺅں سے سیراب ہونے والی زمینوں پر الگ شرح آبیانہ مقرر کی گئی ہے اس طرح کسانوں کو کنوﺅں کے ذریعے آبپاشی سے جو فائدہ ہوتا ہے اس میں حکومت کا حصہ بھی متعین کیا گیا ہے۔ شرح آبیانہ کا تعین کرتے وقت کنوئیں کی گہرائی‘ سیراب ہونے والی زمین کی نوعیت اور زرعی اجناس کی پیداوار کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ یہ شرح کچھ زیادہ نہیںہے۔ نئے کنوﺅں کو بیس سال کے لیے آبیانے کی ادائیگی سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔

نہری پانی پر ٹیکس :
نہری پانی کے استعمال سے زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کے پیش نظر زمینداروں پر آبیانہ ٹیکس نافذ کیا گیا ہے۔ یہ ٹیکس صرف اسی مدت کے دوران وصول کیا جاتا ہے جب کھیتوں کو نہری پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں زمین کی نوعیت‘ علاقے کی زرعی پیداواراور اجناس کی قیمت کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ آبیانے کی شرح کا تعین صرف موجودہ حالات کو سامنے رکھ کر کیا جائے گا اور مستقبل میں نہری پانی سے حاصل ہونے والے فوائد کو پس پشت ڈال دیا جائے گا۔مسٹر ایڈورڈ پرنسپ نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف شکایت کی چنانچہ اب پورے پنجاب کے لیے یہ اصول طے کرلیا گیا ہے کہ بارنی علاقوں میں مالیہ مقرر شرح کے مطابق وصول کیا جائے گا۔ اور پانی پر آبیانہ صرف اسی صورت میں وصول ہوگا جب نہروں سے پانی حاصل کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  خیبرپختونخوا میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے کی تاریخ

آبیانے کی مقررہ شرح:
نہری پانی وصول کرنے والے ہر سرکل کے لیے درج ذیل شرح مقرر کی گئی ہے تحصیل لاہور‘ بھیٹ I اور III ماجھا مٹھا اور ماجھا کھارا ایک روپے سے لے کرآٹھ آنے فی ایکڑ۔ تحصیل چونیاں  تہاراتار  ماجھا مٹھا اور ماجھا کھارا بارہ آنے فی ایکڑ۔ تحصیل قصور  میرا  روہی والا  12 آنے فی ایکڑ۔

آبیانے کی شرائط:
(۱)آبیانے کی رقم بارانی علاقے کے مالئے کی طرح وصول کی جائے گی۔(2)جاگیردار فاضل ٹیکس عائد کر سکیں گے۔ (3) آبیانے کی رقم مالک اراضی سے وصول ہوگی جو یہ رقم اپنے مزارعوں سے حاصل کر سکے گا۔(4) کینال آفیسر سالانہ قسط بندی تیار کریں گے جس کے بعد ڈپٹی کمشنر آبیانے کی رقم جمع کریں گے۔ (5) اضافی ٹیکس فی ایکڑ کے حساب سے وصول ہوگانہ کہ فی گھماﺅں کے حساب سے۔ (6) آبیانہ نہری پانی سے سیراب ہونے والے فی ایکڑ رقبے کے حساب سے پانی حاصل کرنے کی صورت میں مالک اراضی سے وصول کیا جائے گا۔ (7) نہر سے پانی لینا یا نہ لینا زمیندار کی صوابدیدپر ہوگا۔ (8) آبیانہ پورے سال کے لیے وصول کیا جائے گا خواہ کسی کھیت کو ایک فصل کے لیے سیراب کیا جائے یا دو فصلوں کے لیے آبیانہ سال میں صرف ایک مرتبہ وصول کیا جائے گا۔(اب اس قانون میں ترمیم کردی گئی ہے اور نصف رقم دوسری فصل پر وصول کی جاتی ہے۔(9) اگر خریف کے لیے پانی لیا جاتا ہے اور اس کی نمی سے ربیع کی فصل کو فائدہ پہنچتا ہے تو زمیندار سے کوئی اضافی رقم وصول نہیں کی جائے گی۔ (10) اگر کسی زمین کو جزوی طورپر کنوئیں اور جزوی طورپر نہر سے سیراب کیا جاتا ہے تو اس صورت میں آبیانے کی شرح میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ زمینداروں کو چاہیے کہ اگر وہ محنت کر کے کنوﺅں سے پانی حاصل کرسکتے ہیں تو وہ نہری پانی حاصل نہ کریں۔ اس کا علاج خود ان کے ہاتھ میں ہے۔ (11) آبیانے کی موجودہ شرح اگلے بندوبست تک برقرار رہے گی البتہ محکمہ انہار کو پانی کے نرخوں میں اضافے کا اختیار حاصل رہے گا۔ (12) موجودہ نرخوں کا اطلاق تمام تشخیصی علاقوں پر ہوگا۔(13) محکمہ انہار کے حکام پانی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے البتہ وہ پانی کی سپلائی برقرار رکھنے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ پانی کی عدم فراہمی کی صورت میں آبیانے کی شرح میں کمی کے لیے کینال افسروں سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ (14) نمبردار  اعلیٰ نمبردار  پٹواری اور ذیلدار کا ٹیکس صرف نہری رقبے سے وصول کیا جائے گا اور محکمہ انہار اس رقم کو آبیانے سے منہا کردے گا۔ (15) محکمہ انہار کے حکام علاقے کے گوشواروں کی مدد سے ہر فصل پر آبیانہ وصول کریں گے۔ (16) بہتے ہوئے نہری پانی یا لفٹ سسٹم کے تحت حاصل ہونے والے پانی پر یکساں شرح سے آبیانہ وصول کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  محی الدین اورنگ زیب عالم گیر کی اصلاحات و فتوحات

تشخیص کے نتائج :
ضلع لاہور میں کل زرعی اجناس کے چھٹے حصے کا تخمینہ 994922 روپے لگایا گیا ہے جبکہ سیٹلمنٹ سے پہلے مالئے سے حاصل ہونے والی رقم 655,046 روپے تھی ابتدائی طورپر مالئے کی شرح میں 16 فی صد کے حساب سے اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن بعد میں سڑکوں اور ڈاک خانے کے انتظامات کے لیے علیحدہ ٹیکس لگادیئے گئے جس سے اس شرح میں اور اضافہ ہوگیا۔

سیٹلمنٹ کی مدت:
مسٹر سونڈرز نے رپورٹ کے آخر میں سفارش کی ہے کہ اس سیٹلمنٹ کی مدت تیس سال ہونی چاہیے تاہم مسٹر ایجرٹن نے ضلع لاہور کے حالات  دیہات میں ناکارہ زمینوں کی بہتات  آبادی میں اضافے پہلی سیٹلمنٹ کے دس برسوں میں ترقی کی رفتار اور آبپاشی کے نہری نظام میں وسعت کے پیش نظر سیٹلمنٹ کی مدت تیس سال کے بجائے دس سال مقرر کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

یہ بھی محسوس کیا گیا ہے کہ کنوﺅں سے سیراب ہونے والی زمینوں کے لیے مالئے کی تشخیص کے سلسلے میں سرکاری ریونیو کی بڑی حد تک قربانی دی گئی ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر نے فنانشل کمشنر کی رائے سے اتفاق کیا اور یہ میعاد 1877-78 کے مالی سال کے آخر میں ختم ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور تاریخی کتب سے

بعد میں سیٹلمنٹ کمشنر کو میعاد مقرر کرنے کا اختیار دے دیا گیا اور انہوں نے سیٹلمنٹ کی مدت بیس سال مقرر کرنے کا اعلان کردیا چنانچہ ہندوستان کی حکومت نے مالئے میں کمی کے باوجود اس مدت کی منظوری دے دی ہے۔