julahah

وہ کون تھی؟

EjazNews

ایک گائوں میں ایک جلاہا رہتا تھا جس کا نام کرمو تھا۔کرموں کے پاس ایک ہی کھڈی تھی جس پر وہ اور اس کی بیوی راحمہ دن رات ایک کر کے کپڑا بنتے اورپھر قریبی قصبے میں جا کر بیچ آتے۔ اس طرح ان کی دال روٹی چل رہی تھی۔ چونکہ ان کی اولاد نہ تھی اس لئے ان کوزیادہ کمانے کی فکر بھی نہ تھی۔ مگر وہ دونوں اداس ضرور رہتے تھے۔

کرمو کا گائوں ملک کے ایک حصے میں تھا۔جہاں برف تو جمی رہتی تھی۔ بس اگست سے اکتوبر تک کا موسم ذرا بہتر ہو جاتا تھا۔ پھر بھی برف باری کی وجہ سے شہر جانے والا راستہ کئی کئی دن بند رہتا تھا۔ کرمو اور راحمہ کو کبھی کبھی تو بھوکا ہی سونا پڑتا۔

ایک صبح کا واقعہ ہے۔ راحمہ نے ناشتے پر اپنے شوہر کو بتایا کہ ڈبل روٹی اور پنیر کا یہ آخری ٹکڑا ہے۔ اب گھر میں رات کے کھانے کےلئے کچھ بھی نہیں ۔ کرمو کے جانے کے بعد وہ بارش اور برف باری کو کوستی رہی۔ اسے پہاڑی علاقوں کی یہ طوفانی بارشیں ایک آنکھ نہ بھاتی تھیں کیونکہ وہ میدانی علاقے کی رہنے والی تھی۔

ادھر کرمو احتیاط کے ساتھ قدم ر کھتا ہوا اپنی منزل کی طرف جارہا تھا۔ بڑی مشکل سے پہاڑوں پر سفر طے کر کے وہ قصبے کے بازار میں پہنچا ۔ کرمو کو معلوم تھا کہ اس دفعہ کپڑا کچھ زیادہ نہیں ہے اوربنائی بھی اچھی نہیں تھی ۔ چنانچہ وہ ایک چھوٹی دکان کی طرف گیا اور ڈرتے ڈرتے دکان دار سے پوچھا۔

کیوں بھئی! یہ کپڑا لو گے ؟۔
دکان دار نے کپڑے کو ادھر ادھر سے پلٹ کر دیکھا اور زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے پوچھا
کتنے میں بیچو گے ؟۔
کرمو نے کہا پچاس روپے میں۔
ہیں! اس کپڑے کے پچاس روپے! جائو کوئی اور دکان دیکھو ۔ ویسے بھی آجکل کاروبار مندا ہے۔

کرمو نے دکاندار سے پوچھا کہ تم کتنے دو گے۔ تو دکاندار نے کہا پندرہ روپے۔ کرمو نے چپ چاپ پندرہ روپے میں کپڑا بیچا اور آگے بڑھ گیا۔ راستے میں اس نے کچھ کھانے پینے کی چیزیں خریدیں اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔

ابھی کرمو وادی میں پہنچا ہی تھا کہ اسے محسوس ہوا کہ سامنے زیتون کے درخت کے نیچے برف گلابی ہو رہی ہے۔ اس نے آگے بڑھ کر دیکھا۔ درخت کے بالکل نیچے ایک کونج بری طرح زخمی پڑی تھی۔ اس کے سیدھے پیر کے بالکل نیچے چھوٹا سا تیر گڑا ہوا تھا۔

تو یہ برف کونج کے خون سے گلابی ہو رہی ہے! کرمو نے سوچا کونج کی کراہ نے کرمو کے پائوں پکڑ لئے۔ اس نے اپنا سامان نیچے رکھا اور بڑی احتیاط سے زخمی کونج کو لگا ہوا تیر نکال دیا کونج حالانکہ بہت نڈھال ہو چکی تھی۔ مگر رہائی کا احساس اتنا خوش گوار تھا کہ نہ جانے کہاں سے اس میں اتنی طاقت آگئی کہ اس نے اپنے ز خمی پر پھڑ پھڑائے اور اڑ گئی۔ کونج ابھی فضا میں بلند ہوئی تھی کہ کہیں سے اس کا شکاری نازل ہو گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  کمرہ نمبر 9

تم نے اڑائی ہے میری کونج ؟ وہ چلایا۔
ہاں بھئی! وہ بے چاری زخمی تھی، مجھ سے تو اس کی تکلیف دیکھی نہ گئی۔کرمو نے سر جھکا کر کہا۔
تکلیف کے بچے ! اب رات کا کھانا مجھے کون دے گا؟۔
کرمو نے کہا تم ناراض نہ ہو۔ یہ لو۔ اس میں پنیر اور ڈبل روٹی ہے اور گوشت بھی ہے۔ یہ میں اپنے گھر لے جارہا تھا مگر خیر، تم لے لو۔ اس نے سب سامان اسے دے دیا ۔ شکاری کر مو کا شکریہ ادا کئے بغیر وہاں سے چلا گیا۔

اب کرمو کو گھر پہنچتے پہنچتے رات ہو چکی تھی۔ اور راحمہ برے وقت کے لئے بچائے ہوئے آلو بھون رہی تھی۔ راحمہ نے کرمو کو دیکھ کر کہا: شکر ہے تمہیں گھر تو یاد آیا۔ اور یہ خالی ہاتھ کیوں آرہے ہو؟۔ کیا کپڑا ہو ا میں اڑ گیا؟۔ کرمو نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ جب راحمہ چپ ہوئی تو اس نے کونج کا قصہ سنانا چاہا۔
کونج کا نام سنتے ہی راحمہ بولی ۔ کونج ، کونج کیا؟ کیا تم کو نج خریدنے گئے تھے ؟۔

کرمو نے شروع سے آخر تک ساری بات راحمہ کو سنائی۔ راحمہ یہ سن کر خاموش ہو گئی۔ کچھ نہیں بولی پھر اس نے کرمو سے کہا۔
اچھا چلو ہاتھ منہ دھو کر باورچی خانے میں آجائو آلو بھن چکے ہیں۔ پھر دونوں نے کھانا کھایا اورآتش دان کے پاس بیٹھ گئے اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی ۔ کرمو نے حیرت سے کہا۔ اتنی رات گئے کون آگیا ہے؟ ہو سکتا ہے کوئی مسافر راستہ بھٹک گیا ہو۔ کرمو یہ کہہ کر اٹھا اور دروازہ کھولا تو حیران رہ گیا۔ سامنے برف جیسے کپڑے پہنے ایک ننھی منی سی بچی کھڑی تھی۔

کیا میں اندر آسکتی ہو؟۔ لڑکی نے سردی سے کانپتے ہوئے کہا۔
آئو بیٹی اندرآجائو۔ کرمو نے محبت سے کہا۔ اتنے میں راحمہ بھی آگئی۔ اس نے بچی سے کہا آجائو میری بچی ضرور آئو۔ یہ تمہارا ہی گھر ہے۔ پھر وہ بچی کو باورچی خانے میں لے گئی ۔ اس وقت راحمہ کی آنکھو ں میں آنسو تھے۔ کیونکہ اس کو اولاد نہ ہونے کا بہت دکھ تھا۔ اس روز ساری رات برف باری ہوتی رہی۔ صبح تھوڑی دیر کے لئے رکی پھر دوبارہ ہونے لگی۔
اس ننھی بچی کا نام سارہ تھا۔ سارہ برف باری رکنے کا انتظار کرتے کرتے تھک گئی اور آخر اللہ اللہ کر کے جب برف باری ری تو سارہ نے وہاں جانے کی اجازت مانگی۔ یہ سن کر راحمہ کا چہرہ برف کی طرح سفید ہو گیا اور کرمو بے خیالی میں اپنے دانت کردینے لگا۔ تھوڑی دیر بعد کرمو نے پوچھا۔

یہ بھی پڑھیں:  سانپ کا انعام

بیٹی! ہمارے پاس تمہیں کوئی تکیف ہے؟ سارہ نے کچھ کہنا چاہا مگر اتنے میں راحمہ تیزی سے اٹھی اور باورچی خانے میں جا کر رونے لگی۔ سارہ کا دل کٹ کر رہ گیا اور اس  نے وہاں سے جانے کا ارادہ چھوڑ دیا۔ پھر سارہ نے سوچا کہ اب دو چار دن کی بات تو نہیں ہے۔ نہ معلوم مجھے اب کتنے دن تک یہاں رہنا پڑے۔ مجھے ان دونوں کی مدد کرنی چاہئے چنانچہ اس نے کرمو سے کہا۔

آپ دونوں اب آرام کریں۔ میں کپڑا بنوں گی مگر میری ایک شرط ہے وہ یہ کہ جب میں کپڑا بنوں گی تو کوئی میرے کمرے میں جھانکے گا نہیں۔
اس روز سارہ ساری رات کپڑا بنتی رہی۔ ساتھ ہی اس کے گنگنانے کی بھی آواز آتی رہی۔ صبح جب وہ کپڑا لے کر باہر آئی تو اسے یکھتے ہی دونوں میاں بیوی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
ارے !اتنا عمدہ کپڑا! یہ تتلی کے پروں جیسا نرم و ملائم کپڑا تم نے بنا ہے ۔ راحمہ نے خوشی سے بے قابو ہو کر سارہ کو گلے سے لگا لیا۔ کرمو وہ کپڑا لے کر فوراً بازار چلا گیا۔ اب وہ کسی بڑی دکان کی طرف جارہا تھا کہ اسی چھوٹے دکاندار نے اتنا عمدہ کپڑا اس کے ہاتھ میں دیکھا تو اسے آواز دی کرمو اس کے پاس گیا اور کپڑا اس کے آگے پھیلا دیا ۔ دکان دار کو ایسا لگا کہ جیسے اس کے سامنے ریشم کا آبشار گر رہا ہو۔

یہ کپڑا تم نے بنا ہے ؟ دکان دار نے حیرت سے پوچھا۔
نہیں، میری بیٹی نے۔ کرمو نے فخر سے جواب دیا۔
دکان دار نے پوچھا کتنے کا دو گے ؟
کر مو نے کہا: دو سو روپے میں۔
دکاندار نے کہا میں تمہیں چار سو روپے دوں گا مگر ایک شرط ہے۔ تمہاری بیٹی اب جو بھی کپڑا بنے گی وہ تم صرف اب میرے ہاتھ ہی بیچوں گے۔اور تمہیں اب آنے کی ضرورت بھی نہیں۔ میرا ملازم ہر ہفتے آکر تمہارے گھر سے یہ کپڑا وصول کر لیا کرے گا اور تمہیں پیسے بھی ادا کر دیا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  انبیاء علیہ السلام کا بچپن

کرمو نے خوشی سے ہامی بھر لی اور چار سو روپے لے کر گھر کی طرف چل دیا۔کرمو نے زندگی میں کبھی اتنے سارے روپے اکٹھے نہیں دیکھتے تھے۔ اس لئے وہ بہت محتاط انداز میں گھر جارہا تھا۔ گھر جا کر کرمو نے جب راحمہ کو چار سو روپے دئیے تو وہ بھی بہت خوش ہوئی اور دونوں نے سارہ کا شکریہ ادا کیا۔
رفتہ رفتہ کرمو نے اپنا گھر بھی پکا بنالیا۔ صحن بھی بڑا کر الیا۔ مرغیاں بھی بڑھالیں اور اچھی زندگی بسر کرنے لگا۔ اب ہرہفتے کپڑے والے کا ملازم آکر کپڑا لے جاتا اور بدلے میں پیسے دے جاتا۔

ایک رات جب دونوں میاں بیوی کھانا کھانے کے بعد آتش دان کے پاس بیٹھے تھے تو کرمو نے اپنی بیوی سے کہا: یہ سارہ آج کمرے میں اتنی جلدی کیوں چلی گئی؟۔
اس پر تو بس کام کی دھن سوار ہے۔ راحمہ نے پیار بھرے غصے سے کہا۔ ابھی وہ کچھ اور کہتی کہ دونوں کی توجہ سارہ کے کمرے سے آتے ہوئے گانے پر ہو گئی۔یہ تو یقیناً سارہ ہی گا رہی ہے۔ آج اس کی آواز میں اتنا دکھ کیوں ہے؟۔ دونوں نے ایک دوسرے کو فکر مندی سے دیکھا راحمہ سو چ رہی تھی کہ سار ہ روز بہ روز پیلی کیوں ہوتی چلی جارہی ہے اور کھڈی کی آواز بھی برابر آہستہ ہوتی چلی جارہی ہے۔

کبھی تم نے سوچا کہ سارہ نے ہمیں اپنے کمرے میں جھانکنے سے کیوں منع کیا ہے ؟۔
راحمہ نے پوچھا یہ بات وہ کرمو سے اس سے پہلے بھی کر چکی تھی مگر کرمو نے ہمیشہ اسے نظر انداز کر دیا تھا۔ مگر آج راحمہ کے لہجے میں کوئی ایسی بات تھی کہ وہ بھی پریشان ہوگیا۔

چلو آج جھانک کر دیکھتے ہیں۔ راحمہ نے کرمو سے کہا۔ پھر دووں دبے پائوں سارہ کے کمرے کی طرف گئے اور ذرا سا دروازہ کھول کر اندر جھانکا۔

ارے ! راحمہ کے منہ سے بے اختیار ایک چیخ نکلی۔ کمر کے اندر ایک کھڈی کے قریب ایک کونج بیٹھی اپنے پروں کو اپنی چونچ سے الگ کر کر کر کے ان سے کپڑا بن رہی تھی۔ وہ دونو ں یہ دیکھ کر سہم گئے اور واپس چلے آئے۔

صبح انہوں نے سارہ کے کمرے کا دروازہ کھولا تو اندر کوئی نہ تھا۔ کمرے میں ادھر ادھر کچھ سفید پر بکھرے ہوئے تھے۔ انہیں اپنی وعدہ خلافی پر بہت افسوس ہو رہا تھا مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
آپ تو جان گئے ناکہ سارہ کون تھی؟۔

کیٹاگری میں : بچے