Delhi-violence

مودی سرکار کو بے نقاب کیا ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی

EjazNews

اقلیتی کمیشن کے مطابق مسلمانوں کے خلاف منظم منصوبہ بندی کے تحت فسادات ہوئے، مسلمانوں کے قتل اور املاک کو نقصان پہنچانے میں پولیس بھی ملوث رہی۔
بھارت میں 11 دسمبر2019 کو بی جے پی حکومت نے قومی اسمبلی میں متنازعہ شہریت بل منظور کرایا تھا جس کے تحت 31 دسمبر 2014 کے بعد بھارت آنے والے لوگوں کو شہریت نہیں ملے گی تاہم ہندووں، بدھوں، سکھوں اور عیسائیوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔بھارتی حکومت کی طرف سے منظور کیے گئے متنازعہ شہریت بل کے خلاف شمال مشرقی ریاست آسام سے شروع ہونے والے مظاہرے دارالحکومت سمیت میگھالے، مغربی بنگال، اروناچل، اترپریش، کیرالہ، ہریانہ اور پنجاب تک پھیل گئے تھے۔

فروری2020 میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔ ان مظاہروں کے دوران ہندو مسلم فسادات ہوئے جس میں بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ مسلمانوں کے گھروں، دکانوں، مساجد، مدارس، ایک درگاہ اور قبرستان کو نقصان پہنچایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  میانمار میں مٹی کا تودہ زمین میں دھنس جانے سے کم سے کم 90 افراد ہلاک

دہلی میں فسادات کو جس پلاننگ اور منظم انداز سے سرانجام دیا گیا تھا اس سے اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ یہ کسی منظم گروہ کا کام ہے۔ اور انڈیا میں وہ گروہ جو مسلمانوں کیخلاف منظم انداز میں کام کر رہا ہے کسی سے ڈھکا چھپا ہوا نہیں ہے۔ ہمارے ساتھ ساتھ اب دنیا بھر کے انٹرنیشنل ادارے بھی اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ز یادہ تر مسلمان قتل اور زخمی ہوئے اور دائیں بازوں کے رہنماوں نے نفرت انگیز تقاریر کے ذریعے ہنگاموں کو ہوادی۔
دہلی فسادات میںانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی اور بھارت کے مسلمان اس وقت بدترین مشکل حالات سے دو چار ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم کے مطابق فسادات کے دوران دہلی پولیس نے مظاہرین پر تشدد کیا، حراست میں لیے گئے افراد پر مظالم ڈھائے اور بعض اوقات مشتعل ہندو گروہوں کے ساتھ مل کر فسادات میں حصہ لیا۔دہلی فسادات میں مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ ایمنسی انٹرنیشنل نے دہلی فسادات کا فرانزک جائزہ بھی لیا۔ جس میں پولیس نے منظم انداز میں مشتعل گروہوں کو مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت دی۔

یہ بھی پڑھیں:  ترکی میں قومی شجر کاری مہم میں ایک ملین افراد نے گیارہ ملین پودے لگائے