karachi_city

شہر قائد ، شہر قائد ، شہر قائد

EjazNews

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ سندھ گورنمنٹ نے کہا ہو کہ اس مسئلے کے بعد ہم مسائل حل کر لیں گے۔ ایسا ہر اس موقع پر کہا جاتا ہے جب مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ چاہے وہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ ہو یا پھر وہ مسئلہ سیو سٹی کا ہو۔

گزشتہ روز وزیراعلیٰ سندھ نے جیو نیوز کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم مانتے ہیں ہم سے غلطیاں ہوئیں ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے بلدیاتی اداروں سے اختیارات کیوں واپس لیے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اختیارات کا ناجائز استعمال کر رہے تھے ۔

ان سے پوچھا گیا ٹھیک ہے وہ ناجائز استعمال کر رہے ہوں گے آپ نے اختیارات واپس لے کر کون سا نظام ٹھیک کر لیا ہے ۔جس کا جواب تھا کوشش کر رہے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں 200 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی جس کے بعد شہر کی اہم سڑکیں اور شاہراہیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔جمعرات کو بارش کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حادثات کے نتیجے میں خاتون اور بچوں سمیت 21 افراد ہلاک ہو گئے۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں چھٹی کا اعلان کیا ہے۔ ضروری خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے سوا تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی ادارے بند رہیں گے۔
صوبائی حکومت نے دو روز قبل فلڈ ایمرجنسی نافذ کردی تھی، تاہم یہ صرف بیان کی حد تک محدود رہی اور کوئی عملی اقدامات نہیں ہوئے، نتیجتاً کراچی شہر میں جمعرات کو بارش سے صورت حال مزید خراب ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  ثلاثیاتِ نبویﷺ

منگل کو بھی جب شہر کے کئی علاقے بارش میں ڈوبے تھے تو دن کے اختتام پر وزیر اعلیٰ سندھ نے شہر کے کچھ مقامات کا دورہ کیا تھا جس کے بعد انہوں نے چیف سیکرٹری سندھ کو صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے احکامات دئیے تھے۔

تاہم ان احکامات کی روشنی میں شہر میں کہیں کوئی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔ وزیر اعلیٰ نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو بھی ریلیف کے کام کرنے کا حکم دیا تھا مگر دو دن گزر جانے کے باوجود کسی حکومتی ادارے کی جانب سے کوئی بڑا امدادی کام ہوتا دکھائی نہیں دیا۔

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ شدید برسات کے سبب کراچی میں ڈیزاسٹر کی صورت حال ہوگئی ہے۔ انہوں نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ ملیر کے علاقے میں سکول کی عمارات خالی کروا کر وہاں کے قریبی علاقوں میں پھنسے لوگوں کو منتقل کیا جائے۔
اس کے برعکس کراچی میں ریلیف آپریشن فلاحی اداروں اور فوج کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ آرمی کے جوان تین دن سے سرجانی کے علاقے میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے اور انہیں خوراک اور ضروری اشیا بھی فراہم کر رہے ہیں۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاک فوج کے دستوں نے کراچی حیدرآباد موٹروے کو پانی کے ریلے سے بچانے کے لیے اس کے گرد کئی کلومیٹر طویل بند باندھا۔ دوسری جانب ملیر ندی میں طغیانی اور بند ٹوٹنے کی صورت میں پاک بحریہ کے دستوں نے ریلیف آپریشن میں حصہ لیا اور ندی کے کنارے بند پختہ کرنے کے علاوہ ندی میں پھنسے لوگوں کو ڈوبنے سے بھی بچایا۔

یہ بھی پڑھیں:  سعودی عرب میں گونگے بہرے بچے قرآن سیکھنے لگے!

سرچ اور ریسکیو آپریشن کے دوران پاک بحریہ نے شاہ فیصل ٹاون اور کورنگی کراسنگ کے علاقوں سے دو افراد کی نعشیں برآمد کیں جبکہ ملیر اور کورنگی کراسنگ کے سیلاب زدہ علاقوں سے 55 افراد کو نکالا گیا۔ علاوہ ازیں پاک بحریہ کی ریسکیو ٹیموں نے سمو گوٹھ میں پھنسے ہوئے 20 خاندانوں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا۔
شہر کے پوش علاقوں میں بھی دو دن سے پانی کھڑا ہے، شارع فیصل بھی ڈوب چکی ہے، شاید یہی وجہ ہے اب پیپلز پارٹی کے صوبائی وزیر نہ تو شہر کا دورہ کر رہے ہیں نہ ہی اس حوالے سے کوئی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔کراچی کے شہریوں کا بارش میں برا حال ہے، سڑکوں پر پانی جمع ہونے کی وجہ سے لاتعداد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں خراب ہو چکیں۔ شہری اپنی گاڑیاں روڈ پر ہی چھوڑ کر چلے گئے۔

کاروباری مراکز کے علاقوں میں بے تحاشا بارش کے نتیجے میں ملازمت پر آئے لوگوں کی گاڑیاں پارکنگ میں کھڑی کھڑی ڈوب گئیں۔ شہر میں سیلابی کیفیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا کہ تمام انڈرپاسز پانی سے بھر گئے۔
پولیس نے شہر کے ساتوں انڈرپاسز کو آمدورفت کے لیے بند کردیا ہے۔ کے پی ٹی، سب میرین چوک، شارع فیصل اور لیاقت آباد میں واقع انڈر پاس میں مکمل طور پر پانی بھر گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  گلگت بلتستان کے مسائل پر بلایا گیا تھا :مریم نواز\ ایک نہیں 2 ملاقاتیں ہوئی ہیں:شیخ رشید

کراچی میں سب سے زیادہ بارش پی اے ایف فیصل بیس پر ہوئی جہاں 223.5ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ سرجانی ٹاو¿ن میں 193.1 ملی میٹر بارش ہوئی۔اس کے علاوہ کیماڑی میں 167.5 ملی میٹر، نارتھ کراچی میں 166.6ملی میٹر، ناظم آباد میں 159.1ملی میٹر، پی اے ایف مسرور بیس پر 148.5ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔کراچی میں لانڈھی کے علاقے میں 121ملی میٹر، اولڈ ایریا ایئرپورٹ میں 109.9، جناح ٹرمینل پر 104.2 ملی میٹر، سعدی ٹاو¿ن 101.7ملی میٹر، یوینورسٹی روڈ پر 68.2 ملی میٹر اور گلشن حدید میں 49ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔