pakistan

وہ کیا پاکستان تھا اور آج کیا پاکستان ہے

EjazNews

پاکستان میں پانی کی کمی اور مستقبل میں جس خوفناک صورتحال کی منظر کشی میڈیا میں کی جارہی ہے عوام کی ایک بہت بڑی تعداد اس سے لا تعلق اور لا پرواہ نظر آرہی ہے کیونکہ جو حکومتیں اور سیاستدان اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں وہ آج بھی ووٹوں کے حقدار پائے جاتے ہیں۔ گزشتہ حکومت کے آخری دور میں عدلیہ اور تحریک انصاف نے پاکستان میں مستقبل کے پانی کے بحران سے عوام کی توجہ مبذول کرائی اور چیف جسٹس صاحبان نے ملک میں ڈیموں کی تعمیر کو پاکستان کیلئے آب حیات قرار دیا اور یہ مہم اب بھی تیزی سے جاری ہے مگر اب بھی کچھ ناعاقبت اندیش اس کاوش کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہیں ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میںماضی کی حکومتیں اس مسئلے پر مجرمانہ غفلت کی شکار رہیں، کیا ہمارے بڑے بڑے معیشت دان خواب غفلت میں پڑے رہے ،کیا ہندوستان پاکستان کو بنجر بنانے کی دھمکی کئی سالوں سے نہیںدے رہا تھا ،کیا مودی کی پاکستان دشمن تقریریں ہمارے ارباب اختیار کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی نہ تھیں ،کیا ہمارے افلاطون کالم نگار اس اہم مسئلہ کیلئے توجہ دلانے میں ناکام رہے۔ تو جناب سنئے آج ہم آبادی کے بڑھتے ہوئے سیلاب سے بھی ہم طوطے کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کئے بیٹھے نہیں ہوئے۔

اگر آبادی اسی طرح بڑھتی گئی تو ہماری گورننس کیلئے بہت بڑے بڑے چیلنجز کھڑے ہو جائیں گے۔ کہا جاتا ہے کہ 2025ءتک ہم تقریباً 31ملین ایکڑ فٹ پانی کی کمی کا شکار ہو جائیں گے۔ پانی کی کمی کے بڑے اسبا ب میں قدرت اور انسان دونوں ذمہ دار ہیں ۔ہماری ناقص منصوبہ بندی حکومتوں کی بے حسی اور انسانوں کا پانی کا ضائع کرنا یہ سب ہماری موجودہ صورتحال کی ذمہ دار ہیں۔ دنیا میں تقریباً 70 کروڑ لوگ ایسے ملکوں یا علاقوں میں رہ رہے ہیں ہونگے جو انتہائی پانی کی کمی کا شکار ہونگے یعنی دنیا کی دو تہائی آبادی اس سنگین مسئلے سے دو چار ہوگی۔

انڈس بیسن معاہدہ کے بعد ہم صرف دو دریاﺅں یعنی جہلم اور چناب کے رحم و کرم پر ہیں جبکہ راوی، ستلج اور بیاس ہندوستان کے رحم و کرم پر ہیں۔ دریا ئے جہلم اور چنا ب پر ہندوستان کے ڈیمز اور بیراج تعمیر کرنے کی وجہ سے آج ہم پانی کی سنگین کمی کا شکار ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں پانی سے متاثر ہونے والے ممالک میں ساتویں نمبر پرہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  کیسے کیسے میرے ملک کو لوٹا گیا لیکن آج بھی وسائل سے مالا مال ہے

پاکستان کی آبادی کے بڑھنے کی شرح تقریباً 32فیصد ہے اور 22کروڑ لوگوں کی یہ تعداد اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 2025ءمیں آبادی دو گنا ہونے کا احتمال ہے جس سے زیر زمین پانی کے استعمال میں اضافہ ہوگا اور ہم گلوبل وارمنگ اور موسمی تبدیلیوں کے شکار ہو چکے ہوں گے۔ اربوں ڈالر کا پانی ہم ہر سال سمندر میں ضائع کر دیتے ہیں جس سے ملک کے زمبادلہ کے ذخائر 20ارب ڈالر سے بھی کم ہوں گے ۔

پاکستان میں پانی کی کمی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس استعمال کیلئے صرف ایک ماہ کا پانی ذخیرہ ہے۔ پانی کے استعمال میں دنیا میں پاکستان کا چھوتھا نمبر ہے۔ آپ سوچئیں کہ ماضی کی حکومتیں اس سنگین مسئلے کا بہتر طریقہ سے ادراک کیوں نہ کر سکیں۔ ہمارے ہاں اربوں روپے اورنج ٹرین پر خرچ کر دئیے جاتے ہیں اور ڈیموں کی تعمیر جو ملک کی بقاءاور اتنی بڑی آبادی کیلئے انتہائی ضرورت تھی اس کو نظرانداز کیا گیا اس غفلت میں جہاں سیاستدان ، بیوروکریٹ اور ٹیکنوکریٹ حضرات ذمہ دار ہیں اس میں میڈیا یعنی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی برابر کا ذمہ دار ہے۔ ہم الیکشن جیتنے کی سیاست میں اتنے مدہوش ہو گئے کہ ہم نے اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ ہی نہیں دی۔

پانی انسان کی بقاءکیلئے ضروری ہے۔ ہماری زراعت جو اتنی بڑی آبادی کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، پانی کے رحم و کرم پر ہے۔ آبادی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے سیلاب نے کھیتوں اور کھلیانوں کو ویران کر دیا ہے۔ شہر ویران ہو رہے ہیں اور دیہات ویران ہو رہے ہیں دیہات سے آبادی کے تیزی سے انخلا نے شہروں میں آبادی میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔ جہاں پانی کی کمی ہسپتالوں کی کمی بجلی گیس کی طلب میں اضافہ حکومت کیلئے ایک درد سر بن گیا ہے۔ بجلی کی طلب میں اضافہ اس بات کا اہم ثبوت ہے کہ ہم آج وہی کاٹ رہے ہیں جو ہم نے کل بویا تھا۔

جب میں پانی کی کمی کا ذمہ دار ماضی کی حکومتوں کو ٹھہراتا ہوں تو یاد رکھیے آج آبادی کے بڑھتے ہوئے طوفان کو ہمارے موجود ہ ارباب اختیار جس طرح نظرانداز کر رہے ہیں کرنے والا کل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ پاکستان کے موجود ہ چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے آبادی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر بارہا لب کشائی کی مگر جن لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے۔ وہ اس سے چشم پوشی کرتے نظرآتے ہیں ہمارے پالیسی میکرز یا سیاستدان آبادی کے بارے میں لب کشائی سے گریزاں نظر آتے ہیں آبادی کے بارے میں جو سروے کیا گیا اس میں نے انسانی خامیاں اور غفلتیں سامنے آئیں مگر کسی نے ان کی تحقیقات کا حکم نہیں دیا۔ کراچی کی آبادی کو مذاق کی حد تک کم دکھایا گیا کیا یہ ملک سے محبت ہے یا دشمنی۔ کیا ہمارے ملک کے سیاستدان اور حکمران اب ہماری عدلیہ کے ہی محتاج ہو کر رہ گئے ۔ کہ وہ نہ تو آبادی پر بات کرتے ہیں۔نہ کالا باغ ڈیم کی تعمیرپرپارلیمنٹ بحث کی ہمت رکھتے ہیں۔ شہروں میں ہسپتالوں کی ناگفتہ بہ صورتحال ہزاروں کی تعداد میں مریض، شوگر ،بلڈ پریشر ،گردے جگر کی خوفناک بیماریوں میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں مگر کیا صوبائی حکومتوں نے نئے ہسپتال تعمیر کروائے۔ لاہور میں اگر دس ہسپتال اور بن جائیں تب بھی وہ یہاں کی آبادی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے آپ ذرا ہسپتالوں کے آﺅٹ ڈور کا منظر دیکھیں ایمر جنسی کی صورتحال دیکھیں تو رو ح کانپ جاتی ہے ۔جہاں غریب کو انصاف نہیں ملتا ۔ اس کو ہسپتالوں میں بستر دستیاب نہیں ہے۔ بچوں کے ہسپتال میں دوسے تین بچے ایک بیڈ پر اپنے علاج کے منتظر نظرآتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت نے کشمیریوں کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب کشمیری آزادی کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں

غریب آدمی جتنا غریب ہوتا ہے اس کو مرض بھی اتنا سنگین ہوتا ہے اور تو اور پرائیویٹ ہسپتال لوگوں کی کھالیں اتارنے پر لگے ہیں یعنی اس لئے کہ سرکاری ہسپتالوں میں تو ہزاروں لوگوں کو ڈاکٹرز کیسے دیکھ سکتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں ڈائلیسز کی مشینیں ناکارہ ہو چکیں ہیں۔ ونئی لیٹرز کی عدم دستیابی اور بستروں کی کمی کیا ہم آبادی کنٹرول کریں یا ہسپتال تعمیر کریں؟۔ کون سوچے گا پرائیویٹ ہسپتالوں کی موجیں لگیں ہیں سرکاری ہسپتال میں تو بلڈ کی رپورٹس بھی مشکوک ہو تیں ہیں۔ ڈاکٹرز حضرات آج سے چالیس سال پہلے بھی دیہاتوں میں کام کرنے سے گریزاں اور معذور تھے اور آج بھی کوئی ڈاکٹر دیہات اور گاﺅں میں غریب لوگوں کی مدد کیلئے تیار نہیں ہے۔ تھر میں بچے مر رہے ہوتے ہیںمگر سندھ حکومت ڈاکٹروں کے آگے بے بس نظر آتی ہے ۔

غریب لوگ جو نہ تو صاف پانی پی سکتے ہیں نہ علاج معالجے کی سہولتیں ان کو میسر ہیں نہ دیہاتوں میں صاف ستھری لیٹرین دستیاب ہیں نہ وہاں خاندانی منصوبہ بندی کیلئے کوئی ہسپتال دستیاب ہے۔ جو کسان دیہاتوں میں ہمارے لئے اناج پیدا کرتا ہے ہم ان کو ڈاکٹرز فراہم نہیں کر سکتے۔
غریب کا علاج تب ہیممکن ہے جب ہم دیہاتوں میں اچھے ہسپتال ڈاکٹرز اورپانی کی نکاسی کا انتظار ان کو فصلوں کی اچھی قیمت دیں وگرنہ پانی کا مسئلہ آبادی کا مسئلہ صحت کا مسئلہ گورننس کا مسئلہ، مہنگائی کا مسئلہ یہ سب مل کر ہماری آنے والی نسلوں کیلئے ایک خوفناک شکل اختیار کرے گا۔
آئے کالا باغ ڈیم پر سیاست چھوڑ دیں۔ آبادی کے بڑھتے مسئلے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث کریں۔ بڑھتی انتہا پسندی پر سب لوگ یکجا ہو جائیں، جہالت سے پیچھا چھڑانے کیلئے قرآن کوسمجھ کر پڑھیں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں ۔ان کے تہواروں کا احترام کریں۔پانی کی چوری کو بند کریں، اپنے شہروں اور گاﺅں میں صفائی کو اولین ترجیح دیں یا رکھیے جو قومیں کرپٹ ہو جاتی ہیں وہ ذلت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ کرپشن کیخلاف جہاد میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیں اورسیاسی خود غرضوں سے بالا تر ہو کر پاکستانی بنیں۔ ہمارے اس ملک میں قدرت نے ہمیں بہت سی نعمتوں سے نوازا مگر ہم نے ان سے فائدہ نہ اٹھایا اور بھول گئے کہ شاید ہمیں مرنا بھی ہے اربوں روپے لوٹ مار کر کے ثبوت نہ چھوڑنے والے ہمارے حکمران آج اس قوم کو بھکاری بنا گئے جس قوم کو قائداعظم محمد علی جناح نے ایک نئے پاکستان کی نوید سنائی ۔وہ کیا حکمران تھے جن کے نہ اثاثے تھے، نہ بڑے بڑے محل اور نہ ان کے بچے اپنے باپ سے زیادہ امیر تھے ، نہ ان کی اولادیں چھوٹی عمروں میں ارب پتی بن جاتی تھیں۔ عوام کے پیسوں کی قدر کی جاتی تھی۔ کفایت شعاری بحث اور قومی خزانے کا بھرم رکھاجایا تھا۔ وہ کیا پاکستان تھا اور آج کیا پاکستان ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ماضی سے کرکٹ کی دنیا کےدلچسپ حقائق