Twins

جڑواں بچے، دوہری مشکل

EjazNews

بچے خدا کا تحفہ ہوتے ہیں اور ان سے گھروں میں رونق رہتی ہے لیکن اگر کوئی جڑواں بچوں کی ماں بن جائے تو پھر اس کے لئے دو بچوں کی متوازن پرورش اور ان کی دیکھ بھال خاصا مشکل کام بن جاتی ہے۔ جڑواں بچوں کی پیدائش کے بعد ان کی پرورش تو اگرچہ خصوصی توجہ کی طالب تو ہوتی ہی ہے لیکن جڑواں ہونے کے سبب یہ بچے قدرتی طورپر ایک خاص قسم کی داخلی قوت کے بھی مالک ہوتے ہیں اور اسی قوت کی بنا پر نہ صرف ان کی شرارتیں، سونے جاگنے اور کھیلنے کودنے اور رونے تک میں بھی یکسانیت آجاتی ہے بلکہ دونوں بچوں میں ایک مسابقت کا جذبہ بھی بیدار ہو جاتا ہے اورا س کی بنا ءپر ان میں سے کسی ایک پر ماں کی خاص توجہ دوسرے کو جذباتی طور پر مشتعل بھی کر دیتی ہے۔ ایسے میں والدین خصوصاً ماں کے لئے دونوں بچوں میں توازن پیدا کرنا ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔

جب تک جڑواں بچے شیر خوار رہتے ہیں ، اس وقت تک تو وہ والدین کے لئے ان کی پرورش کوئی خاص مسئلے کا سبب نہیں بنتی ہے لیکن جوں جوں بچے بڑے ہونے لگتے ہیں ان کی تربیت والدین کے سامنے کئی مسال کھڑے کر دیتی ہے۔

جیسا کہ پہلے کہاگیا ہے کہ جڑواں ہونے کے سبب ان میں مسابقت کا جذبہ اکیلے پیدا ہونے والے بچوں کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہوتا ہے، لہٰذا ان کی شرارتیں اور کھیل کود بھی بہت حد تک والدین کو پریشان کر دیتے ہیں۔ شرارتیں بچوں کے بچپن کا لازمی حصہ ہوتی ہے لیکن جب ان شرارتوں میں مقابلے کا رجحا ن آجائے تو پھر ا کو قابو کرنا خاصا مشکل ہو جاتا ہے۔
میری جونز ایک ایسی ہی ماں ہیں جنہیں قدرت نے ایک ساتھ دو بیٹوں سے نوازا ۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میرے یہ بچے پہلی اولاد ہیں لہٰذان کی پیدائش سے پہلے مجھے بچوں کی تربیت کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔جب ڈاکٹر نے مجھے حمل کے پانچویں مہینے میں اطلاع دی کہ میں دو بچوں کی ماں بنوں گی تو مجھے بہت خوشی ہوئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ پریشانی بھی ہوئی ۔ میں فکر مند تھی کہ دو بچوں کی پرورش اور وہ بھی ایک ہی وقت میں ، مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میں سب کچھ کیسے کر سکوں گی، لیکن میرے شوہر نے مجھے اخلاقی اور جذباتی سہارا دیا اور پھر بالآخر میں دو پیارے پیارے سے بیٹو ں کی ماں بن گئی۔ ابتدائی مہینوں میں میرے لئے تشویش کی بات یہ تھی کہ دونوں ایک ساتھ ہی بیدار ہوتے اورتقریباً ان کی تمام حرکتیں یعنی سونا، جاگنا ، ہنسنا اور رونا، سب ہی ایک جیسا تھا۔ اب بچہ ایک ہی ہو تو ماں اسے روتے ہوئے آسانی سے بہلا سکتی ہے لیکن دو ہوں تو پھر مشکل تو پیش آتی ہے ہم نے یہ کیا کہ ایک بچے کو میرے شوہر سنبھال لیتے تھے اور دوسرے کو میں۔ لیکن اس کے باوجود یہ دونو ں اس وقت تک رونا بند نہیں کرتے تھے جب تک میں خو د ان دونوں کو اپنی گود میں ایک ساتھ لے کر دودھ نہ پلائوں۔ مجھے چند مہینوں میں ہی اندازہ ہو گیا کہ صرف اور صرف مجھے اکیلے ہی ان دونوں کو سنبھالنا ہوگا ورنہ قدرتی طور پر دوسرا بچہ خود کو احساس محرومی کا شکار سمجھے گا۔ لہٰذا میں نے ایسا ہی کیا اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنے بچوں کے اندر قدرتی طور پر مسابقت کے عنصر کو جان کر اس کے مطابق ہی ان کی نگہداشت کا عمل شروع کیا اور اس کے بہتر نتائج نکلے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں عورتوں کے مسائل

جڑواں بچوں میں مسابقت کا یہ رویہ صرف ان کی باہمی مسابقت تک ہی نہیں رہتا بلکہ جوں جوں یہ بڑے ہوتے چلے جاتے ہیں ان کی مسابقت کا عنصر انہیں دوسروں سے بھی مقابلے پر ابھارنے لگتا ہے۔

جڑواں بچوں کی ماں ایلزبتھ کا کہنا تھا کہ میرے دو جڑواں بیٹے ہیں۔ میں نے ان میں یہ بات نوٹ کی ہے کہ وہ ہر عمل پر اتنی ہی شدت سے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہیں ۔ میں نے جب یہ بات نوٹ کی تو پھر اپنے رویے میں تبدیلی لائی۔ اس طرح مجھے ان بچوں کی تربیت میں نہایت آسانی ہوگئی۔مثلاً پہلے میں جب انہیں زیادہ شرارتیں کرتے ہوئے دیکھتی تھی تو بلند آواز سے انہیں ڈانٹتی تھی۔ اس کا اثر یہ ہوتا کہ وہ رد عمل میں اور زیادہ شدت سے شرارتیں کرنے لگتے۔ لیکن جب میں انہیں نہایت پر سکون لہجے اور دھیمی آواز میں سرزنش کرتی تو فوراً مان جاتے۔ اس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بچوں کو ڈانٹنے ڈپٹنے اور ان پر غصہ ہونے کے بجائے پیار سے سمجھا جائے کیونکہ ان میں قدرتی طور پر مسابقت کا ایک رویہ شدت سے موجود ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر والدین خصوصاً ماں ان کی شرارتوں پر مشعل رویہ اپناتی ہے تو یہ رویہ انہیں مزید شرارتوں پر ابھارنے لگتا ہے۔ اس طرح ایسے بچے اصلاح کے بجائے مزید بگڑ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وہ الفاظ جو میاں بیوی اپنی گفتگو میں استعمال نہ کریں

ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ جڑواں بچوں کے رویے میں شدت ہوتی ہے، لہٰذا اگر کوئی عام بچہ کسی چیز کے بارے میں صرف سوچتا ہے تو جڑواں بچے یہ کام کر گزرتے ہیں، لہٰذا ان کی تربیت میں والدین کو خصوصی تو جہ سے کام لینا چاہئے۔ ان کے رویوں میں شدت صرف اس لئے ہوتی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مسابقت میں بازی لے جانا چاہتے ہیں۔ اور یہ صرف والدین کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے۔جڑواں بچوں کی تریت میں ماں اور باپ دونوں کو چاہئے کہ وہ مل جل کر دونوں بچوں پر یکساں توجہ دیں اور ایسی کوئی بات نہ کریں جس سے کوئی ایک بچہ بھی یہ نہ سمجھ لے کہ اسے دوسرے پر فوقیت حاصل ہو رہی ہے۔ اگر کوئی بچہ یہ سمجھنے لگے کہ اسے دوسرے پر فوقیت حاصل ہو رہی ہے تو یہ ان بچوں اور والدین کے درمیان مقابلے کی فضا قائم کر دے گی اور اس سے کسی ایک بچے کے رویے میں خرابی ضرور پیدا ہوگی۔ یہ بات واضح رہے کہ جڑواں بچوں میں مسابقت کا رجحان والدین کی زیادہ توجہ حاصل کرنے کے لئے اور زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  شوہر کو بہترین دوست کس طرح بنایا جاسکتا ہے ، چند مشورے (۲)

جڑواں بچوں کی تربیت:
جب جڑواں بچوں میں سے ایک بچہ دوسرے بچے کو زیادہ پریشان کر رہا ہے تو آپ سمجھ لیں کہ تنگ کرنے والے بچے کا خیال ہے کہ آپ دوسرے بچے کی طرف داری کر رہی ہیں ۔
جڑواں بچوں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کیلئے کبھی ایک جیسے اصول نہ اپنائیں۔ اگر آپ جڑواں بچوں کی ماں ہیں اور انہیں نظم و ضبط میں لانا چاہتی ہیں تو ان دونوں کے لیے الگ الگ اصول اپنائیں۔

جڑواں بچے عموماً ایک دوسرے کی کمزوریوں، خامیوں اور غلطیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں۔ اگر آپ کے جڑواں بھی یہی طرز اختیار کرتے ہیں تو انہیں سمجھائیں کہ پردہ پوشی کے بجائے اگر وہ انہیں مسائل سے آگاہ کر دیں گے تو سب مل کر ان کی مدد کر سکتے ہیں۔
دونوں بچوں میں احساس ذمہ دار دلائیں۔اور انہیں سمجھائیں کہ ہر شخص کو اپنا کام خود کرنا پڑتا ہے۔
یاد رکھیں بچے اللہ تعالیٰ کی نعمت ہوتے ہیں اور اگر ہم ان کی تعلیم و تربیت میں غفلت کر گئے تو پھر اس کا نتیجہ بچوں کو پوری زندگی بھگتنا پڑے گا۔