1883 lahore_earth

1883-84میں – زمین اور مالیہ

EjazNews

ابتدائی مالیاتی تاریخ:
رنجیت سنگھ سے پہلے ضلع لاہور کی مالیاتی تاریخ کے چند آثار اب بھی موجود ہیں۔ مسلمان شہنشاہوںکے زمانے میں لاہورمسلمان کے اس صوبے کا پایہ تخت تھا۔ اس وقت دو آبہ‘ جالندھر دو آبہ باری اور دو آبہ رچنا بار کی سرکاریں لاہور میں شامل تھیں۔ پنجاب کی قدیم تقسیم کے بارے میں دستاویزات دو پرانے قانونگووںکے خاندانوں میں موجود ہیں جن میں ان پرگنوں کے مالئے کی تفصیل درج ہے جن کے ساتھ وہ منسلک تھے البتہ اب جاگیروں کے نام اور سرحدیں اس قدر تبدیل ہوچکی ہیں کہ موجودہ ناموں اور سرحدوں کا ان سے موازنہ کرنا ممکن نہیں رہا۔ سکھوں کے دور میں زرعی پیداوار (بٹائی) کی صورت میں مالیہ وصول کرنے کا نظام رائج کیا گیا اور ریاست یا اس کے اہلکار پیداوار کا نصف حصہ لے جاتے۔1849 ءمیں الحاق پنجاب سے پہلے نقدی کی صورت میں مالیہ ادا کرنے کا رواج نہیں تھا ماسوائے ان چند ایک دیہات کے جہاں آبپاشی کے مستقل ذرائع موجود تھے۔جن دیہات میں کنوﺅں پر نقد لگان عائد کیا گیا ان دیہات کی بارانی اراضی کے مالکان سے بھی جنس کی صورت میں لگان وصول کیا جاتا۔

ابتدائی بند وبست اراضی :
1849 ءمیں الحاق پنجاب کے فوراًبعد کیپٹن ٹیٹلر نے بندوبست کا کام شروع کردیااور زمینداروںسے نقد مالیہ وصول کرنے کا حکم جاری کردیا گیالیکن چونکہ زمیندار نقدی کی صورت میں مالیہ اداکرنے کے عادی نہیں تھے اور برطانوی دور کے آغازمیں اجناس کی قیمتیں بھی بہت کم ہوگئی تھیں اس لیے کیپٹن ٹیٹلر کا نافذ کردہ مالیہ زمینداروں کے لیے بہت بڑا بوجھ بن گیا۔ اس صورت حال کی وجہ سے ضلع کے کئی علاقوں ¾ خاص طورپر دریائے ستلج کے کناروں پر بے چینی پھیل گئی جہاں دریا کی گزر گاہ تبدیل ہونے کے باعث کئی دیہات آبپاشی کے لیے پانی سے محروم ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ برطانوی حکومت کے اقتدار سنبھالنے سے بھی لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہر گھرانے کے صحت مند افراد یا تو فوج میں بھرتی ہوگئے یا فاتح انگریزوں کی مزاحمت کرنے کے بعد گھروں کو لوٹنے سے خوفزدہ تھے۔ ان حالات میں عام لوگوں خاص طورپر ضلع کے بڑے جاگیرداروں سلطانکی سوجا اور ماڑی گور سنگھ کے خاندانوں کی تسلی تشفی ضروری تھی جن کے گھروں کو ملتان میں بغاوت کے دوران مزاحمت پر مسمار یا ضبط کرلیا گیا تھا۔ کیپٹن ٹیٹلر کے دور میں لاہور میں مالئے کی جو کڑی شرائط عائد کی گئیں یہاں کے عوام انہیں کبھی فراموش نہیں کرسکیں گے۔ خوش قسمتی سے ضلع لاہور کا وسیع علاقہ جاگیرداروں کے پاس تھا جو بد ستور جنس کی صورت میں مالیہ وصول کرتے رہے اور اس طرح یہاں کے لوگ الحاق پنجاب سے زیادہ متاثر نہ ہوئے۔

1852ءمیں بندوست اراضی کا کام از سر نو شروع ہوا اور 1855ءمیں مکمل ہوگیا جس کے بعد کیپٹن ٹیٹلر کا رائج کردہ نظام ختم ہوگیا۔ مسٹر مورس نے نظر ثانی شدہ نظام کو ضلع کے راوی پار کے علاقے اور مسٹر آر ایجرٹن نے لاہور کے باقی علاقوں میں رائج کیا۔ 1860ءمیں مزید دس سال کے لیے نئی شرح لگان کے تعین کی منظوری حاصل کرلی گئی چنانچہ ستلج کے کناروں پر واقع دیہات کو مالئے میں بہت زیادہ چھوٹ دے دی گئی اور لوگوں کو اپنی زرعی املاک کی طرف لوٹنے کی ترغیب دی گئی۔ مسٹر ایجرٹن نے مالئے کی شرح میں گیارہ فی صدکمی کردی جس کے بعد مالئے کی رقم آسانی کے ساتھ جمع ہونا شروع ہوگئی۔

موجودہ بندوبست 1869ئ:
1865ءمیں مسٹریسلی سونڈرز کو بندوبست پر نظر ثانی کا کام سونپا گیا۔ انہوں نے یہ کام 1869ءمیں مکمل کر کے 1870ءمیں رپورٹ پیش کردی۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں ضلع لاہور کے حالات اس طرح بیان کیے ہیں۔
”جب میں بندوبست پر نظر ثانی کے لیے ضلع میں داخل ہوا تو میں نے لوگوں کو خوشحال پایا۔ ضلع کی انتظامیہ بھی حد درجہ مستعد تھی۔ مسٹر ایجرٹن نے دانشمندی سے نہایت قلیل مدت میں مالئے کی جومعقول شرح مقرر کی اس کی وجہ سے کھیتی باڑی میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔ نہروں نے پانی کا خزانہ لٹانا شروع کردیا تھا۔آبادی بڑھ رہی تھی اور جنگجو سکھ لوٹ مار اور زمینیں ملنے کے بعد ہندوستان اور چین کے محاذوںسے واپس آچکے تھے۔ درانتی نے تلوار کی جگہ لے لی تھی۔ سر رابرٹ منٹگمری نے بھی سکھوں کے ساتھ فیاضی کا سلوک کیا اور تمام وفادار اور مستحق سکھ فوجیوں کو ان کے گھروں کے قریب زمین کے چھوٹے چھوٹے قطعات دے دیئے۔ اس طرح ان کے ذرائع آمدنی تقریباًدوگنا ہوگئے۔ ہر چہرہ مطمئن تھا۔ غالب امکان یہ ہے کہ کاشتکار اس سے پہلے تاریخ کے کسی دور میں اس قدر خوشحال اور فارغ البال کبھی نہیں ہوئے تھے۔اس سلسلے میں سب سے زیادہ اہمیت زیر کاشت رقبہ کو حاصل ہے جو بڑھ کر 145509 ایکڑ اور کنوﺅں کی تعداد 11068 سے بڑھ کر 12984 ہوگئی۔ آبادی میں‘ جو بندوبست کے وقت 552776 تھی‘ اضافہ ہوگیا اور اب یہ آبادی 789666 ہے۔¾ ہلوں کی تعداد 61946 سے بڑھ کر 88950 اور مویشیوںکی تعداد 227430 سے بڑھ کر 423475 ہوگئی ہے۔“

یہ بھی پڑھیں:  محمد تغلق کے دور حکومت میں کیے گئے اقدامات

تشخیص کی بنیاد:
مسٹر سونڈرز نے مالئے کی تشخیص کے لیے طریق کار کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے۔
”دیہات میں لگان کی شرح گاﺅں کی عمومی صورت حال ا ور ہمسایہ ضلعوں میں رائج شرح کومد نظررکھ کر متعین کی جاتی ہے اور یہ بات طے کی جاتی ہے کہ آیا وہاں مالئے کی شرح میں اضافہ یا کمی کی جاسکتی ہے یا وہاں پہلے سے ہی مناسب شرح مقرر ہے۔ اس مقصد کے لیے زیر کاشت رقبے کی پیمائش کی جاتی ہے اور پیداوار کا صحیح تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں گزشتہ 30 برسوںکی اجناس کی قیمتوں کو بھی پیش نظررکھا جاتا ہے۔ اس طرح حکومت کا متعین حصہ اکٹھا کر کے وہاں کے گاﺅں میں جمع کرلیا جاتا ہے اور یہ شرح پورے علاقے میں نافذ کردی جاتی ہے۔“

تشخیصی سرکل :
مسٹر سونڈرز کی رپورٹ میں مختلف تشخیصی سرکل متعین کیے گئے ہیں جن میں ضلع لاہور کو تقسیم کیا گیا ہے ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔

شرقپور تحصیل :
ڈیک کھنڈی 189 جاگیروں پر مشتمل ہے جنہیں دریائے ڈیک سے سیراب کیا جاتا ہے۔ اس تشخیصی علاقے میں مزید 9811 ایکڑ اراضی کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس سرکل کی آمدنی میں آٹھ ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔ میں نے اس علاقے میں لگان کی شرح ایک روپیہ ایک آنہ 5 پائی فی ایکڑ مقرر کی ہے جس سے اڑھائی ہزار روپے آمدنی متوقع ہے۔

نجرہ سرکل 37 جاگیروں پر مشتمل ہے جس میں مزید 751 ایکڑ رقبے کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سرکل میں مالئے کی شرح ایک روپیہ دو آنے دو پائی فی ایکڑ ہے جس سے سالانہ 12386 روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔
دریائے راوی کے نشیبی علاقے میں 33 جاگیریں شامل ہیں جہاں زیر کاشت رقبے میں صرف 561 ایکڑ کا اضافہ ہوا ہے۔ دریائے راوی کے پانی میں کمی کے باعث ان زمینوں کی زرخیزی متاثر ہوئی ہے۔اس سرکل کے دیہات کو سہولت دینے کے لیے ہم نے مالئے کی نئی شرح مقرر کردی ہے۔ یہاں سے سالانہ آمدنی کا تخمینہ 20272 روپے لگایا گیا ہے۔

بانگڑ سرکل راوی اور ڈیک کے درمیان 184 جاگیروں پر مشتمل ہے۔ اس علاقے میں زیر کاشت رقبے میں صرف 957 ایکڑ کا اضافہ ہوا ہے یہاں مالئے میں اضافے کی کوئی توقع نہیں۔ سالانہ آمدنی 34622 روپے متوقع ہے۔
بار سرکل میں 36 دیہات شامل ہیں۔ یہاں 925 ایکڑ مزید رقبہ زیر کاشت لایا گیا ہے اس سرکل میں چراگاہوں کے لیے وسیع رقبہ چھوڑا گیا ہے۔ حکومت کو توقع تھی کہ چراگاہوں سے کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور لگان کی آمدنی بھی بڑھ جائے گی۔ یہاں سالانہ آمدنی کا تخمینہ 7902 روپے لگایا گیا ہے۔

لاہور تحصیل :
بھیٹ سرکل دریائے راوی کی سرحد کے قریبی دیہات پر مشتمل ہے لیکن یہ دیہات زرخیزی کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ مسٹر ایجرٹن نے اس سرکل کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔”اول درجے کے بھیٹ میں لاہور شہر کے 21 نواحی دیہات شامل ہیں۔ ان دیہات میں گوبر کی کھاد بہت زیادہ استعمال کی جاتی ہے اور وہاں سبزیاں اگائی جاتی ہیں جن سے بہت زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔ اس علاقے کا 83 فیصد رقبہ اول اور دوم درجے کے زمرے میں شمار ہوتا ہے ان دیہات میں آلو چوسنے والا گنا تمباکو اور سبزیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں مالئے کی شرح بھی بہت زیادہ ہے اوراس میں کمی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس علاقے میں مزید 1018 ایکڑ رقبہ زیر کاشت آگیاہے چنانچہ مالئے میں 2700 روپے کا اضافہ کر کے 28757 روپے مقرر کردی گئی ہے۔ فی ایکڑ مالئے کی شرح تین روپے 6 پائی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ شرح کسی بھی لحاظ سے زیادہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  1883-84میں لاہور کے پیشے ،صنعتیں ، تجارت اور مواصلات(۱)

”دوم درجے کا بھیٹ 26 دیہات پر مشتمل ہے جہاں کی زمینیں زیادہ زرخیز نہیں ہیں۔ دریا کے پانی میں کمی کی وجہ سے ان دیہات کی حالت خراب ہوگئی ہے۔ یہاں کی زمین ریتلی ہے اور اسے پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ زمینداروں کو لاہور شہر کی مارکیٹ تک رسائی حاصل ہے۔ یہ لوگ پھلوں اور سبزیوں کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں اس لیے زیادہ مالیہ ادا کرسکتے ہیں چنانچہ مالئے کی شرح میں معمولی اضافہ کردیا گیا لیکن نظر ثانی کے بعد اس کی شرح میں اضافے کے بجائے کمی کر دی گئی۔ 580 روپے کی کمی کے بعد اس سرکل کی آمدنی 14021 روپے رہ گئی ہے۔

”تیسرے درجے کے بھیٹ میں 20 دیہات شامل ہیں جو زرخیزی کے لحاظ سے پہلے دونوں درجوں سے کمتر ہیں۔ جب میں نے اس سرکل کی تشخیص کا آغاز کیا تو میرا خیال تھا کہ مالئے کی شرح میں اضافہ ہونا چاہیے لیکن دیہات کے معائنے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ صورت حال میرے اندازے کے برعکس ہے۔ آخر کار میں نے وہاں مالئے کی شرح کم کر دی۔

”ماجھا مٹھا(میٹھے پانی کی زمین)62 دیہات پر مشتمل ہے جہاں زمین زرخیز اور پانی وافر مقدار میں دستیاب ہے جس کی وجہ سے زیر کاشت رقبے میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اب اس علاقے کا مالیہ بڑھا کر تین ہزار روپے سالانہ مقرر کردیا گیا ہے۔
”ماجھا کھارا(کھارے پانی کی زمین) میں 161 دیہات شامل ہیں۔ اس سرکل میں زیر کاشت رقبے میں 2700 ایکڑ کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ سیٹلمنٹ کے وقت اس علاقے کا دارومدار بارشوں پر تھا لیکن اب یہ علاقہ باری دو آب نہر سے سیراب ہوتا ہے جس کی وجہ سے مالئے کی رقم میں پچھلے بندوبست کے مقابلے میں سولہ ہزار روپے اضافہ کردیا گیا ہے۔ فی ایکڑ زیر کاشت رقبے کا مالیہ چار آنے ایک پائی سے بڑھا کر چھ آنے دو پائی مقرر کردیا گیا ہے زمینداروں کو پانی خریدنے کے لیے جو رقم خرچ کرنا پڑے گی اس کے پیش نظر یہ شرح نہایت مناسب ہے۔

”کھاد ر سرکل میں دریا کے زیریں علاقے شامل ہیں۔ دریا میں پانی کم ہوجانے کی وجہ سے اس علاقے کی حالت بھی زیادہ اچھی نہیںرہی۔ اس سرکل میں 62 دیہات شامل ہیں اور اب زیر کاشت رقبے میں 1860 ایکڑ کی کمی واقع ہوگئی ہے۔ موجودہ صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے سرکل کے مالئے میں کمی کر کے دوہزارروپے سالانہ مقرر کردیا گیا ہے۔

قصور تحصیل :
پٹی والا سرکل میں مغلوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔یہ سرکل روہی والا علاقے سے گہری مماثلت رکھتا ہے البتہ نواحی علاقے ترن تارن کے مقابلے میں یہاں کی پیداوار بہت کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سرکل میں نکاسی آب کے نالوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جارہا۔ اس سرکل میں 38 دیہات شامل ہیں۔ زیر کاشت رقبہ 38940 ایکڑ ہے جو گزشتہ سیٹلمنٹ سے 6750 ایکڑ زیادہ ہے۔ اس سے پہلے یہاں کے مالئے میں دو گنا اضافہ کردیاگیا تھا تاہم میں نے علاقے کا دورہ کر کے حقائق معلوم کیے تو سرکل کے مالئے میں صرف 3400روپے سالانہ کے اضافے پر اکتفا کرنا پڑا۔

”روہی والا ان دیہات کو کہتے ہیں جہاں سے روہی یا نالے گزرتے ہیں۔ اس سرکل کے دیہات کی تعداد 56 ہے اور وہ نالوں کے پانی سے پوری طرح استفادہ کر رہے ہیں۔ ان نالوں کی وجہ سے کنوﺅںکا پانی بھی میٹھا ہوگیا ہے جبکہ اس کے برعکس میرا اور ماجھا کھارا میں پانی نمکین ہے۔ زیر تشخیص رقبے میں 7639 ایکڑ کا اضافہ ہوگیا ہے۔ اس علاقے کے لیے مالئے کی رقم 34147 روپے سالانہ مقرر کی گئی لیکن طویل غور و خوض کے بعد کاشتکاروں کا بوجھ کم کرنے کے لیے اب یہ رقم کم کر کے 28866 روپے مقرر کردی گئی ہے۔

”میرا سرکل میں دیہات کی تعداد48 ہے۔ یہ ریتلی زمین ہے۔ اس سرکل کا انحصار بارش پر ہے البتہ مختصر علاقہ نہر سے سیراب ہوتا ہے۔ یہاں زیر کاشت رقبے میں 9695 ایکڑ کا اضافہ ہوا ہے۔ سالانہ مالئے کی رقم 15069 روپے سے بڑھا کر 18042 روپے مقرر کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  برصغیر ٹوٹنے کے اسباب کیا تھے؟

ماجھا کھارا لاہور پرگنے کے علاقے سے مشابہت رکھتا ہے جس کا تذکرہ پہلے ہوچکا ہے۔ اس سرکل میں 33 جاگیریں ہیں۔ یہاں زیر کاشت رقبے میں دس ہزار ایکڑ کااضافہ ہوا ہے۔ مزید رقبے کو زیر کاشت لانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ سرکل کے سالانہ مالئے کی رقم 10188 روپے سے بڑھا کر 11,151 روپے مقرر کردی گئی ہے۔

بھیٹ بانگڑ میں دریا ئے بیاس کی پرانی گزر گاہ پر واقع 36 دیہات شامل ہیں۔ یہاں قابل تشخیص رقبے میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے تاہم مالئے میں معمولی اضافہ کر کے 38154 روپے سے بڑھا کر 38483 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
سیلابہ 78 دیہات پر مشتمل ہے جو دریا ستلج میں طغیانی سے زیر آب آجاتے ہیں۔ اس علاقے کے زیر کاشت رقبے میں3475 ایکڑ کا اضافہ ہوا ہے۔ علاقے کے کل مالئے میں 5700 روپے کا اضافہ کر کے یہ رقم 35744 مقرر کردی گئی ہے۔
”اتار سرکل کے دیہات کی تعداد 57 ہے جو وادی ستلج کے زیریں علاقے میں واقع ہیں۔ یہاں زیر کاشت رقبے میں 4693 ایکڑکا اضافہ ہوا ہے۔ مالئے میں حکومت کے مطالبے پر پانچ ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اب سالانہ مالئے کی کل رقم 32606 روپے یا 13 آنے فی زیرکاشت ایکڑ مقررکی گئی ہے۔

چونیاں تحصیل :
اس تحصیل کا اتار سرکل اوپر درج سرکل کا تسلسل ہے۔ اس سرکل میں دیہات کی کل تعداد 153 ہے لیکن یہ دیہات قصور سرکل کی نسبت زیادہ زرخیز نہیں۔ یہاں زیر کاشت رقبے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ میں نے اس سرکل کے مالئے کی رقم میں پچھلے بندوبست کے مقابلے میں 7500 رپے کا اضافہ کیا ہے جو مقررہ بارہ آنے کے بجائے 9 آنے پائی فی ایکڑ ہے۔ اس علاقے میں بہت کم بارش ہوتی ہے اور اس کی پیداوار بھی پہلے جیسی نہیں رہی۔

بھیٹ بالگڑ ستلج:
یہ علاقہ ضلع لاہور کے انتہائی جنوب مغرب میں واقع ہے اور اس میں 90 دیہات شامل ہیں۔ بیشتر دیہات کو سیلابی نہروں سے سیراب کیا جاتا ہے۔ یہاں کی زمین اچھی نہیں اور اگر ان نہروں میں آبپاشی کے لئے پانی دستیاب نہ ہوتا تو اس کی زرخیزی بہت کم ہوتی۔ زیر کاشت رقبے میں 3854 ایکڑ کے اضافے کے بعد سرکل کا مالیہ تین ہزار روپے بڑھا دیا گیاہے۔

تہار اتار کا علاقہ 21 دیہات پر مشتمل ہے جس میں ہر قسم کی زمین شامل ہے۔ یہ دیہات عام طور پر دریائے بیاس کی پرانی گزر گاہ کے کنارے واقع ہیں۔ یہاں مالئے کی شرح آٹھ آنے فی ایکڑتھی تاہم میں نے محسوس کیا کہ بالائی زمینوں کے کاشتکار اس قدر بوجھ برداشت نہیں کرسکتے۔ چنانچہ میں نے یہ شرح کم کر کے 8 آنے 9 پائی فی ایکڑ مقرر کردی ہے۔

ماجھا میٹھا خصوصیات کے اعتبار سے لاہور پرگنے کے مشابہ ہے لیکن اس قدر زرخیز نہیں۔ اس علاقے میں زیر کاشت رقبے میں چھ ہزار ایکڑ کا اضافہ ہوا ہے۔ اب اس کے مالئے کی رقم میں 3700 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ اس طرح مالئے کی فی ایکڑ شرح 3 آنے 6 پائی سے بڑھا کر 5آنے 10 پائی کردی گئی ہے۔

”بھیٹ بانگڑ دریائے راوی کے کناروں پر واقع 44 دیہات پر مشتمل ہے۔ان دیہات کی حالت اچھی نہیں ہے۔ یہاں مالئے کی رقم گو زیادہ نہیں تاہم اس میں اضافہ کرنا مناسب نہیں چنانچہ میں نے سابق شرح برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دس آنے فی ایکڑ کے حساب سے کل رقم 18853 روپے طے کی گئی ہے۔

”بھیٹ راوی 34 دیہات پر مشتمل ہے۔ راوی میں پانی کی قلت کے بعد ان دیہات کی حالت وہ نہیں رہی جو پہلی سیٹلمنٹ کے وقت تھی۔ یہاں مالئے میں خاصی چھوٹ دی گئی ہے جس کے بعد ان دیہات کی حالت بہتر ہونے لگی ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ اس سرکل میں مالئے کی شرح میں اضافے کا کوئی جواز نہیں چنانچہ میں نے 12 آنے چار پیسے فی ایکڑ کے حساب سے 15357 روپے کی سابق سالانہ شرح برقرار رکھی ہے۔