azhar_ali

ٹیسٹ سیریز کے بعد رینکنگ میں اظہر علی کی پوزیشن بہتر

EjazNews

اپنے کیرئیر کی 17ویں سنچری بنانے والے اظہر علی پر جہاں تنقید کے نشتر برسائے جارہے ہیں وہی ان کیلئے ایک خوشخبری بھی آگئی کہ وہ ٹیسٹ رینکنگ میں بہتر ہو گئے ہیں۔34ویں پوزیشن سے اظہر علی 23ویں پوزیشن پر آگئے ہیں۔
ساؤتھ ہیمپٹن میں کھیلی گئی سیریز کے بقیہ دونوں میچز بارش کے سبب ڈرا ہو گئے اور انگلینڈ نے سیریز 0-1 سے اپنے نام کر لی۔

پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست پر ناقدین میں قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم بھی شامل تھے جن کا ماننا تھا کہ اظہر علی کی ناقص قیادت کے سبب اور حد سے زیادہ دفاعی حکمت عملی کی وجہ سے جوز بٹلر اور ووکس مانچسٹر میں بڑی اننگز کھیلنے اور اپنی ٹیم کو فتح دلانے میں کامیاب رہے۔

پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں صفر، 18 اور 20 رنز کی اوسط درجے اننگز کھیلنے کے بعد اظہر علی تیسرے ٹیسٹ میچ میں ناقابل شکست 141 رنز کی اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے البتہ اس اننگز کے باوجود پاکستان فالو آن سے نہیں بچ سکا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  علیم ڈار نے ایک اور اعزاز حاصل کرلیا

انگلینڈ کے خلاف مانچسٹر میں کھیلی گئی سیریز کے پہلے میچ کے اکثر حصے میں قومی ٹیم کا غلبہ رہا تھا لیکن جوز بٹلر اور کرس ووکس کے درمیان چھٹی وکٹ کے لیے 139رنز کی یادگار شراکت کے سبب پاکستان کو میچ میں 3وکٹوں سے شکست ہوئی تھی۔

آن لائن پریس کانفرنس میں اظہر علی سے قیادت چھوڑنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب ہم پہلا ٹیسٹ میچ ہارے تو مشکل وقت تھا اور سب نے مکمل طور پر صرف مجھے شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ یہ وقت آسان نہیں تھا لیکن میں نے صرف اس بات پر توجہ دی کہ ہم کس طرح میری انفرادی کارکردگی اور ٹیم کی کارکردگی سے سیریز کا رخ بدل سکتے ہیں، قیادت چھوڑنے کا کوئی کبھی بھی میرے دماغ میں نہیں آیا۔

اظہر علی کا کہنا تھا ہمیں پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کا خمیازہ اٹھانا پڑا، اگر ہم وہ ٹیسٹ میچ جیت جاتے تو یہاں سیریز کے فاتح کی حیثیت سے بیٹھے ہوئے ہوتے۔ یہ مایوسی برقرار رہے گی کیونکہ ہم نے نادر موقع گنوا دیا اور اس بات کا سہرا انگلینڈ کے سر جاتا ہے جنہوں نے دباؤ میں اچھا کھیل پیش کیا۔ٹیسٹ سیریز کے اختتام کے بعد اب دونوں ٹیمیں جمعہ سے 3میچوں کی ٹی20 سیریز میں مدمقابل آئیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  شاہین شاہ آفریدی کا نیا ریکارڈ