Violent

ہمارے معاشرے میں جارحیت نے کیسے جنم لیا؟

EjazNews

دنیا کے سبھی معاشرے انسانی اورسماجی تبدیلیوں سے دو چار ہیں۔ دقیا نوسی نظام تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال کا ساتھ دینے سے قاصر ہے۔ ہم لوگ یہ جان ہی نہیں سکے کہ ہمارے تمام نظام اس وقت کے بنائے ہوئے ہیں جب موجودہ جدید ڈھانچے نے جنم نہیں لیا تھا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی ۔ کمپیوٹر تھا مگر اس میں نت نئی تحقیقات اور ڈیٹے کی کمی تھی۔ ٹیلی فون سسٹم تھے مگر انسان آناً فاناً سچی اور جھوٹی خبروں کوسننے سے محروم تھا۔ گزشتہ دو تین دہائیوں سے بدلتے ہوئے کمپیوٹر نے سماج کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ مگر نظام وہی دقیانوسی ہیں اور ایسا صرف پاکستان میں نہیں ہے امریکہ ،یورپ ، روس اور مشرق بعید جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی سماجی تبدیلیو ں کے باعث عوامی تقاضوں کے ساتھ چلنے سے قاصر ہیں۔ مڑ کر دیکھیں جاپان میں ڈیڑھ دھائیوں میں ہم سے کہیں زیادہ وزراءاعظم کو چلتا کر دیا گیا۔ روس میں ولادی میر پیوٹن پوری طرح ڈٹے ہیں ۔ امریکہ میں ٹرمپ غیر مقبول ووٹوں یعنی الیکٹروریٹس کی مدد سے برسر اقتدار آئے۔ عوامی مقبولیت میں وہ ہیلری کلنٹن سے کہیں لاکھ ووٹ پیچھے تھے مگر شرفاءنے انہیں اقتدار کے منصب تک پہنچا دیا۔ برطانیہ میں بریکسٹ سے تہلکہ مچا ۔ ہانک کانگ میں پولیس تشدد کے واقعات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ ان حالات میں ہم بھی پچھلے دنوں کئی طرح کے تشدد سے گزرے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں نظام یورپ کے مقابلے میں کہیں قدیم اور تقریباً غیر فعال ہے۔ پولیسنگ صحیح معنوں میں مفقود ہے، نظام احتساب قائم نہیں ہوسکتا۔ ہماری پولیس نے افسروں کی نافرمانی کرنے والے اہلکاروں کو برطرفی جیسی بھاری سزائیں بھی دی جاتی ہیں بلکہ پولیس ان چند محکموں میں شامل ہے جس میں سب سے زیادہ سزائیں دی جاتی ہیں۔ لیکن بڑے سے بڑے جرم پر کسی اہلکار یا افسر کا احتساب نہیں ہوتا۔

چلئے سانحہ ساہیوال تو پرانے دور کی بات ہے سانحہ ساہیوال میں تین معصوموں کو مارنے پر کس کو سزا ہوئی۔ جھوٹ پہ جھوٹ بولے گئے۔ یہ کہا گیا کہ چاروں دہشت گرد ہیں حتیٰ کہ آئی جی پنجاب سے بھی چار دہشت گردوں کو اڑا دینے کی خبریں جاری کروائی گئیں لیکن پھر کیا ہوا۔

ہمارے تھانوں کے علاوہ سکولوں ، کاروباری مراکز سمیت سڑکوں پر بھی تشدد عام ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر چھریاں اور گولیاں چل جاتی ہیں۔ بھائی بھائی کا ، باپ بیٹے کا اور بیٹا باپ کا گلا کاٹ رہا ہے۔ ایسے ہی جابر اور اذیت پسند کچھ لوگوں سے ان کی ماں بھی محفوظ نہیں۔ بیٹیوں کو غیرت کی بلی چھڑانے کی باتیں آج بھی بہت تمتراق سے تسلیم کی جاتی ہیں۔ کاروکاری اور غیرت کے نام پر قتل ناقابل تبدیل حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ انہیں تبدیل کرنا اب آسان نظر نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھیں:  قائداعظم محمد علی جناحؒ کی نجی زندگی کے دو اہم پہلو

ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور کے ڈویژن میں جسمانی سزاﺅں کا تناسب دوسرے ڈویژنوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ پنجاب کا کوئی شہر ایسا نہیں جہاں 60فیصد سے کم بچے نفسیاتی دباﺅ کا شکار نہ ہوں۔ نفسیاتی دباﺅ کے سلسلے میں چنیوٹ میں صورتحال بہت اچھی ہے لیکن یہاںبھی 62فیصد بچے نفسیاتی دباﺅ کا شکار ہیں ۔ خوشاب میں 65فیصد اور لاہور میں 64فیصد بچے دباﺅ کا شکار ہیں اور یہ سب سے اچھی صورتحال ہے۔ ضلع ساہیوال میں 84فیصد، لیہ میں 84.3فیصد، اور ملتان میں 84.8فیصد بچے خراب ماحول میں پرورش پا رہے ہیں۔ اسی سے ان میں جارحیت جنم لیتی ہے۔ سندھ میں صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں۔ یہاں بھی 5سے 17سال کے بچے جسمانی تشدد اور ایک سے 14سال کے بچے نفسیاتی تشدد کا شکار ہوتے ہیں جبکہ 35فیصد بچوں کو گھروں اورسکولوں میں جسمانی سزائیں دی جاتی ہیں۔

عالمی اداروں کے تعاون سے کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق سندھ میں ڈسپلن کے نام پر گھروں اور سکولوں میں بچوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہاں 30سے 40فیصد تک بچے شدید جسمانی سزا کے مستحق ٹھہرائے جاتے ہیں۔ 37فیصد مردوں اور 32فیصد بچیوں کو ڈنڈے سے سمجھایا جاتا ہے۔

کراچی جیسے پڑھے لکھے ڈویژن میں بھی 30فیصد بچوں کو مار پڑتی ہے۔ شدید جسمانی سزا میں سکھر سب سے آگے نکلا جہاں 41.3فیصد بچوں کو سمجھانے کے لیے مولابخش کا استعمال عام سی بات ہے۔ حیدر آباد میں 38فیصد، لاڑکانہ میں 35فیصد اور میر پور خاص میں 31فیصد بچوں کو ڈنڈے سے سمجھایا جاتا ہے۔ میر پور خاص اور لاڑکانہ کا ماحول سب سے بہتر ہے۔ اسی لیے وہاں مولا بخش کا استعمال دوسرے ڈویژنوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ شہروں کے مقابلے میں دیہی بچے زیادہ تشدد کا شکار ہیں۔ سندھ کے شہروں میں 31فیصد اور دیہات میں 38.4فیصد بچے مار کھا کے پروان چڑھتے ہیں۔ جبکہ کسی نہ کسی وقت تشدد کا سامنا کرنے والوں کی تعداد کم از کم 74.5فیصد اور زیادہ سے زیادہ 86فیصد ہے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بارے میں اس قسم کی کوئی جامع تحقیق سامنے نہیں آئی۔ لیکن وہاں کا ماحول بھی نفسیاتی ماہرین کے مطابق ہمارے ماحول سے قدرے ملتا جلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بدترین قتل عام: جس میں مرنے والوں کی تدفین پچیس سال سے جاری

یہی وجہ ہے کہ ہم نے دیکھا کہ مختلف اداروں میں تشدد کے کئی واقعات سامنے آئے۔ جن میں پولیس پہلے نمبر پر رہی۔ پولیس فائرنگ سے کچھ شہری موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ پولیس حراست میں پنجاب میں ایک سال کے دوران 65کے قریب ہلاکتیں ہوئیں یہ کم نہیں اور نہ ہی انہیں نظر انداز کیاجاسکتا ہے۔

ہمارے ہاں تشدد کی وجوہات ہیں:
رویوں پر ناقص کنٹرول ، توجہ کا فقدان ، ماضی میں جارحیت کا شکار ہونا ، تعلیمی گراوٹ ، بہت زیادہ مصروفیت ، خود پسندی، نشہ
ماہرین نفسیات کے مطابق بچوں اور بڑوں کو پر تشدد رویہ اختیار کرنے میں سب سے زیادہ کر دار گھریلو عوامل کا ہوتا ہے۔ مثلاً بچپن میں والدین کی جانب سے بچوں پر کمزور کنٹرول، بچوں کو ڈسپلن میں رکھنے کیلئے جسمانی سزا کا استعمال، بچوں اور والدین میں میل ملاپ کی کمی، کم عمری میں ماں بن جانا ، والدین میں آئے روز کے جھگڑے ، طلاق یا طلاق کی دھمکیاں ، رشتے داروں میں ہم آہنگی کا فقدان ، معاشرے میں خاندان کی اہمیت میں کمی ، خراب سوشل اکنامک صورتحال ۔ان عوامل کی وجہ سے بچے میں جارحیت جنم لیتی ہے۔

بچہ باپ کو آنکھیں دکھا رہا ہے۔ ٹیچر سے لڑ رہاہے۔ کبھی اپنے باس سے اور کبھی اپنے ہی محسن سے دو بدو ہو رہا ہے۔ مگر یہ سب ہوا کیسے، بچوں میں یہ جارحیت کیسے آئی ان سوالوں کا جواب ملنے پر ہی ہمیں یہ پتہ چلے گا کہ بچوں میں جنم لینے والی جارحیت آج بڑوں میں سراہیت کر چکی ہے۔ ان کے رویوں میں تبدیلی لانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ مغرب میں ہونے والی ایک تحقیق نے ہمیں بتایا کہ دنیا بھر کے بچوں میں جارحیت ایک معمول کا رویہ بن چکا ہے اور وہ بھرپور توانائی کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے اپنی بات کو منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں سٹاک مین ، ہسکنز اور آسٹر ویلڈ نے تفصیلی تحقیق کی ہے۔ ان کے بقول جارحیت کی کوئی بنیاد ہونا ضروری نہیں۔ مگر عمومی طور پر یہ کسی رد عمل یا بدلے کے طورپر بھی جنم لے سکتا ہے او ر یہ اپنی سمت کا تعین خود کرتا ہے۔ انہوں نے ایک دس سالہ بچے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ انتہائی غصیلے انداز میں چیختا چلاتا ہے جو چیز سامنے ہے اسے توڑ دیتا ہے اورپھر کاٹنا شروع کر دیتا ہے۔ نافرمانی اس کی طبیعت کا حصہ بن گئی ، کبھی والدین اور کبھی اساتذہ کو دو بدو جواب دینا اس کا معمول بن گیا۔ ایک وقت میں وہ انتہائی لائق فائق طالب علم تھا لیکن تحقیقات کے وقت وہ جارح اور مایوسی کا شکار تھا اور وہ دوسرے ہم جماعتوں کیلئے بھی خطرناک تھا۔ ماہرین نفسیات نے اس رویے کی وجوہات بتاتے ہوئے اس میں ماں باپ کی طرف سے نظر انداز کیے جانے، اس کی باتوں کو نہ ماننے اور اس کی خواہشات کو دبانے کو اس کا ایک اہم سبب بتایا۔ ان ماہرین کے نزدیک کسی بھی بچے کو اگر گھر میں دبایا جائے گا تو یا تو وہ گھر میں ہی یا پھر باہر وہ ایسے ہی جارحانہ رویے کا اظہار کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا پولیو ویکسین نقصان دہ ہے؟

ماہرین نے جب اس کی وجوہات پر غور کیا تو پتہ چلا کہ یاتو ان پر پہلے کبھی تشدد ہوا یا وہ کسی ٹراما سے گزرے جس سے ان کا اعصابی نظام متاثر ہوا۔ ہمیں پتہ چلا کہ بچے کسی متوقع حملے یا خطرے کو بھانپتے ہی ایسے جارحانہ رویے کا اظہار کرتے ہیں جو اکثر و اوقات بلا جواز اور بلا وجہ ہوتا ہے۔ اس کی تیسری وجہ جنریشن گیپ ہے ۔ جنریشن گیپ کے علاوہ پاکستان میں طبقاتی گیپ بھی جنم لے رہا ہے یعنی مختلف طبقات میں پائی جانے والی غلط فہمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ اول الذکر کیس میں نئی نسل پرانی نسل کو اپنا حریف سمجھتی ہے ۔ کچھ بچے اپنے والدین کے بارے میں سوچتے ہیں کہ وہ انہیں بہتر ماحول دینے میں ناکا م رہے جس سے ان میں جارحیت جنم لیتی ہے۔اسی طرح استاد اور شاگردوں میں بھی جنریشن گیپ پایا جاتا ہے۔ شاگرد استادکو دقیا نوسی خیالات کا حامل سمجھتا ہے اور استاد کے خیال میں شاگرد اس تجربے کی قیمت سے واقف نہیں جس سے وہ گزر کر استاد بنا ہے۔ یوں دونوں کے رویوں میں تضادات اور ٹکراﺅ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ رویے خطرناک اور نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں جس سے ابتدائی طورپر ایک نفسیاتی مسئلہ جنم لیتا ہے۔