rain_karachi

کراچی میں رین ایمرجنسی نافذ

EjazNews

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے والا ادارہ ریلیف کا کام شروع کرے۔ انہوں نے ملازمین کو اپنے محکموں میں رپورٹ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

شہر قائد میں آرٹس کونسل سے نیشنل میوزم تک سڑک پانی سے بھری ہوئی ہے جبکہ موسلادھاربارش کے بعد آرام باغ فرنیچرمارکیٹ بھی زیرآب آگئی ہے۔ دکانداروں نے بتایا ہے کہ فرنیچر مارکیٹ میں اس وقت چار فٹ سے زائد پانی کھڑا ہوا ہے اور نکاسی آب کی کوئی صورت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

کراچی میں رات سے بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، مختلف علاقوں میں 100 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں شہر کی تمام شاہرائیں زیرِآب ہیں جہاں سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں، بیشتر علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہونے کے بعد رہائشی محصور ہو چکے ہیں۔

رواں سال مون سون کی بارشوں کے پہلے سپیل میں ہی شہر میں اربن فلڈنگ ہوئی تھی جس کے بعد فوج اور متعلقہ اداروں سے مدد طلب کی گئی تھی۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی جانب سے نالوں کی صفائی کی گئی جس کے بعد دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اب برساتی پانی کی نکاسی کا نظام درست ہو گیا۔ تاہم یہ دعویٰ اور تمام تر انتظامات اگلی ہی بارش کی نذر ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق اپوزیشن لیڈر کو نیب نے گرفتار کرلیا

محکمہ موسمیات کے مطابق صبح 11بجے سے شام 5 بجے تک کراچی میں سب سے زیادہ بارش پی اے ایف فیصل بیس میں 125 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، گلش حدید میں 114ملی میٹر اور صدر میں 83 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

کراچی کے علاقے یوسف گوٹھ میں کل سے ہی فوج موجود ہے اور وہاں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ سرجانی، یوسف گوٹھ اور فور-کے چورنگی کے اطراف کے بیشتر علاقے مکمل طور پر ڈوب چکے ہیں اور ان علاقوں میں آمدورفت معطل ہے، صرف فوج کے ٹرک یا کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو کھانا فراہم کیا جا رہا ہے اور انہیں وہاں سے نکالا جا رہا ہے۔

شادمان ٹاؤن میں پہاڑی کی جانب سے آنے والا برساتی نالہ اوور فلو ہوگیا ہے جس کے باعث پانی گھروں میں داخل ہو رہا ہے۔ شاہراہ نور جہاں، انڈا موڑ، سخی حسن قبرستان کے اطراف کے علاقے اور ناگن چورنگی بھی مکمل طور پر زیرِ آب ہیں۔ اور اس علاقے کے لوگوں کا گلشن اقبال اور گلستان جوہر سے زمینی رابطہ ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ہم آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن کو کھول رہے ہیں،اگر شرائط پر عمل نہ کیا تو دوبارہ لاک ڈاؤن کر سکتے ہیں:وزیراعظم

نارتھ ناظم آباد، ناظم آباد اور گولیمار کی تمام سڑکوں پر پانی کھڑا ہے، جبکہ صدر سے نئی کراچی تک جانے والی مرکزی شاہراہ بھی مکمل ڈوب چکی ہے جس کے باعث سینکڑوں گاڑیاں سڑک پر پھنس گئی ہیں اور لوگ اپنے گھروں کو پہنچ نہیں پا رہے۔

ملیر ضلع میں بہنے والے مختلف برساتی نالوں میں اس وقت طغیانی کی صورتحال ہے جبکہ ملیر ندی میں پانی کے تیز بہاؤ میں ایک چھوٹا پل بھی بہہ گیا ہے جو مضافاتی دیہاتوں کو شہر سے منسلک کرتا تھا۔

گلستانِ جوہر کے مختلف بلاکس میں برساتی نالے اوور فلو کر گئے ہیں اور پانی سڑکوں پر آ گیا ہے۔ جوہر چورنگی پر پانی کھڑا ہونے کا باعث چھوٹی گاڑیوں کا گزرنا ناممکن ہے۔ جوہر کے بلاک دو میں مٹی کا تودہ گرنے سے وہاں پارک کی گئی 20 سے زائد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ بلاک 3 کے رہائشی حاشر راجپوت کے مطابق برساتی نالے سے متصل پل پانی کے تیز بہاؤ سے کٹاؤ کا شکار ہوا ہے اور اس کے ٹوٹنے کا خطرہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مودی اب کسی غلط فہمی میں نہ رہنا ورنہ یہ تمہاری آخری غلطی ہوگی:وزیراعظم عمران خان

ضلع وسطی کے علاقے عائشہ منزل، یاسین آباد، واٹر پمپ، پیپلز چورنگی اور متصل تمام سڑکیں مکمل طور پر ڈوب چکی ہیں اور ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے۔

ا س وقت کراچی میں ایک مشکل صورتحال ہے جس کا سامنا وہاں کے رہائشی کر رہے ہیں ۔ کراچی میں ڈرین سسٹم اور سیوریج کا نظام بری طرح متاثر ہے۔ سابق ناظم مصطفی کمال اکثر و بیشتر ذکر کرتے ہیں کہ جب وہ میئر تھے توانہوں نے بہت کام کیا ۔ ان کے بعد سالہا سال سے پیپلز پارٹی کی حکومتی رہی جو بلا شرکت غیرے وہاں پر حکمران ہیں لیکن کراچی کی نہیں سنی گئی۔
اب تین پارٹیوں نے مل کر کراچی کو بہتر بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اللہ کرے کراچی کی سنی جائے۔