taliban

طالبان مذاکرات اسلام آباد میں

EjazNews

ڈونلڈ ٹرمپ کے بر سر اقتدار آنے کے بعد نئی امریکی انتظامیہ نے افغانستان کی صورتحال کا از سر نو جائزہ لینا شروع کیا تھا۔ اس سلسلے میں واشنگٹن کی جانب سے دو بنیادی پالیسیز کا اعلان کیا گیاتھا۔ ان میں سے پہلی پالیسی افغانستان اور جنوبی ایشیا اور دوسری امریکہ کی عالمی سکیورٹی سے متعلق تھی، جو دسمبر 2017ء میں سامنے آئی تھی۔ ان دونوں پالیسیز میں افغانستان میں جاری جنگ کو غیر معمولی اہمیت حاصل تھی۔ اسی موقع پر پاکستان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ کیا گیاتھا، جسے پاکستان نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ وہ اپنے حصے کا کام کر چکا ہے اور اب یہ امریکہ اور افغان حکومت کی ذمداری ہے کہ وہ افغانستان میں گزشتہ برسوں سے جاری شورش کو ختم کریں۔ بعد ازاں، امریکہ نے پاکستان کی امداد بھی روک دی تھی اور غالباً یہ پاک، امریکا تعلقات کی پست ترین سطح تھی۔

سابق امریکی صدر، باراک اوباما نے یہ اعلان کیا تھا کہ امریکہ، افغانستان سے اپنی افواج واپس بلا رہا ہے اور صرف افغان فورسز کی تربیت کی غرض سے فورسز کی ایک مخصوص تعداد وہاں موجود رہے گی، لیکن اُن کے دور میں یہ پالیسی مکمل طور پر نافذ نہ ہو سکی اور اعلان کے کچھ عرصے بعد ہی اوباما نے افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافے اور فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ عراق کی صورتحال کے بعد امریکی حکام نے یہ طے کیا تھا کہ افغانستان میں غلطی نہ دہرائی جائے اور امریکہ ایک بار پھر بھرپور انداز میں افغان جنگ میں شامل ہو جائے اور پھر ایسا ہی ہوا۔ گو کہ اوباما اور ٹرمپ انتظامیہ کی افغانستان سے متعلق پالیسی میں کوئی واضح فرق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا انڈین الیکشن تک ایسا ہی ہوتا رہے گا؟

مسئلہ افغانستان کے ہر فریق کو اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ جنگ کا اختتام صرف بات چیت ہی سے ممکن ہے، کیونکہ اگر یہ امریکہ کے لیے دلدل ہے، تو افغانستان کے لیے تباہی اور علاقے کے لیے شدت پسندی کا خود رو پودا، جسے نہ چین برداشت کر سکتا ہے، نہ رُوس اور نہ دوسرے ممالک۔ اس وقت افغان حکومت کی، جو اس معاملے میں براہ راست فریق ہے، پوزیشن خاصی کمزور ہے۔ اس کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ امریکہ نے کروڑوں ڈالرز خرچ کر کے جو افغان فوج تیار کی ہے، وہ طالبان کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو چُکی ہے اور امریکی فوج کی معاونت کے بغیر اس کے لیے میدان جنگ میں ٹھہرنا تک ممکن نہیں۔ پھر وقتاً فوقتاً مختلف ذرائع سے یہ دعوے بھی سامنے آتے رہتے ہیں کہ افغانستان کے نصف یا اس سے بھی زائد رقبے پر افغان طالبان بلا روک ٹوک نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بین الاقوامی کبڈی ٹورنامنٹ دسمبرمیں منعقد ہوگا:سیکرٹری کبڈی فیڈریش

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس نفرنس میں بتایا کہ باضابطہ مذاکرات کے لیے طالبان وفد دفتر خارجہ کا دورہ کرے گا۔یہ طالبان کے سیاسی وفد کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہے، اس سے قبل انہوں نے اکتوبر 2019 میں اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا فروری 2020 میں امریکی طالبان معاہدے پر حتمی دستخط کرنے میں کس طرح مدد فراہم کی تھی اور کہا کہ اس وفد کو دوبارہ اس امید کے ساتھ مدعو کیا گیا ہے کہ انٹرا افغان مذاکرات میں پائی جانے والی پیچیدگیوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے اور امکان ہے کہ یہ عمل جلد شروع ہوگا۔

چونکہ دونوں طرف سے قیدیوں کا تبادلہ انٹرا افغان مذاکرات کے آغاز کے لیے سب سے اہم شرط تھی جو دوحہ میں امریکی طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر دستخط کے تحت اصل میں 10 مارچ تک ہونی تھی تاہم قیدیوں کی رہائی میں تاخیر بات چیت کے آغاز کو روکنے کی سب سے اہم وجہ رہی۔

یہ بھی پڑھیں:  خود لندن میں بیٹھا ہوا ہے اور کارکنوں کو کہہ رہا ہے کہ سڑکوں پر نکلیں:وزیراعظم

طالبان نے دعوی کیا ہے کہ انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق تمام ایک ہزار افغان سکیورٹی فورسز کو رہا کردیا ہے جبکہ کابل نے ان 5 ہزار افراد میں سے اب بھی 320 قیدیوں کو آزاد کرنا ہے۔
افغان حکومت نے ان 400 قیدیوں کی آخری رہائی کے لیے رضامندی حاصل کرلی ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ سنگین جرائم میں سزا یافتہ ہیں۔اب تک ان میں سے صرف 80 کو رہا کیا گیا ہے جبکہ 320 سرکاری تحویل میں ہیں۔

رہائی میں تاخیر سے متعلق تازہ ترین افغان وضاحت یہ ہے کہ طالبان کے پاس بھی ابھی بھی 20 کمانڈوز موجود ہیں جن کی رہائی پر انہوں نے اتفاق کیا تھا۔