shafqat mahmood

برطانوی حکومت سے بذریعہ سفارتخانے رابطہ کیا اور کیمرج نے اپنے پورے نتائج پر نظر ثانی کی:شفقت محمود

EjazNews

وزیر تعلیم شفقت محمود نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 40 لاکھ بچوں کو پروموٹ کیا اور پورے ملک میں اس کو تسلیم کیا گیا جبکہ اگر اس کا مقابلہ غیرملکی بورڈ سے کریں تو اس میں آپ دیکھیں گے کہ کیمرج کے امتحان میں لوگ کتنے دلبرداشتہ تھے اور انہیں کتنے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا اب ہم مل کر ایک بہت بڑا فیصلہ کرنے جارہے ہیں جو 15 ستمبر سے سکول کو کھولنے کا ہے۔7 ستمبر کو بین الصوبائی وزرا تعلیم کا ایک اجلاس منعقد کریں گے اور اس اجلاس کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے کہ سکول کھل رہے ہیں یا نہیں کھل رہے تاہم اُمید ہے کہ جس طرح حالات چل رہے ہیں ہم سکول کھول دیں گے۔
وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک جانب مہنگے سکول ہیں جہاں بین الاقوامی سرٹیفکیٹس دئیے جاتے ہیں، دوسری جانب سرکاری سکول ہیں جہاں میٹرک، انٹر کی ڈگری دی جاتی ہے اور تیسری جانب مدارس ہیں جہاں ان کا اپنا درس نظامی پڑھایا جاتا ہے جس سے قوم میں تفرقہ پیدا ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے سارے صوبوں، اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر پہلی سے پانچویں تک کا نصاب تیار کرکے ویب سائٹ پر لگادیا ہے اور اب ہم ماڈل ٹیکسٹ بک بنارہے ہیں جو ہمارے نصاب کی عکاسی کریں گی اور سکولوں کو اختیار ہے کہ اس میں رد و بدل کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ اپریل 2021 میں سارے پاکستان کے سکولز میں ایک ہی نصاب کی تعلیم دی جائے۔
شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے کوشش کی ہے کہ مدارس کو ساتھ لے کر چلیں کیوں کہ انہوں نے تعلیم میں اپنا بہت بڑا حصہ ڈالا ہے، مدارس حکومت سے ایک روپیہ لیے بغیر چندوں پر ہماری غریب عوام کو تعلیم دے رہے ہیں۔
وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ ‘پہلے غیر مسلم بچوں کو اسلامیات کی جگہ اخلاقیات کا کورس پڑھایا جاتا تھا مگر ہم نے اسے تبدیل کردیا ہے اور وہ اب اپنے مذہب کے بارے میں پڑھیں گے۔
شفقت محمود کے مطابق ہم نے جو فارمولا بنایا اس کے تحت پروموٹ کیا گیا اور اس فارمولے کو ملک کے 29 بورڈ نے تسلیم کیا۔
کیمرج سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیمرج کے نتائج آنے پر ہمیں چیلنج درپیش ہوا کیونکہ انہوں نے ایسا سسٹم اپنایا تھا جس میں 2، 2 گریڈ کم کردئیے گئے تھے تاہم میں نے کیمرج تک بچوں اور والدین کے جذبات پہنچائے اور ان پر زود دیا کہ یہ نتائج ہمیں تسلیم نہیں۔ برطانوی حکومت سے بذریعہ سفارتخانے رابطہ کیا اور بتایا کہ یہ نتائج ہمیں تسلیم نہیں ہے، جس کے بعد ہماری محنت رنگ لائی اور کیمرج نے اپنے پورے نتائج پر نظرثانی کی اور کہا کہ ہم سکولز کے نتائج کو ہی تقسیم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  گتے کی فیکٹری میں لگی آگ نے دوسری فیکٹریوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا