islam_muharam

دسویں محرم الحرام کی رسومات کا شرعی حکم

EjazNews

یکم محرم الحرام کی ابتداءہی سے بدعات وخرافات کی رسمیں شروع ہوجاتی ہیں۔ کچھ رسمیں کھانے پکانے سے متعلق ہیں تو کچھ رسمیں ماتم وعزاسے متعلق اور کچھ رسمیں شرک وبدعات سے متعلق۔
جیساکہ ہمیں معلوم ہے یہ مہینہ اشہرحرم میں سے ہے۔اس لئے جہاں ایک طرف اس مہینے کی حرمت کو بچانا ہے وہیں اس مہینے کے افضل اعمال میں سے روزہ رکھنا ہے اس وجہ سے جس قدر ہوسکے روزہ رکھنا ہے۔ کم از کم عاشوراءکا روزہ۔ مگر افسوس صد افسوس بدعتی لوگوں نے تقلید میں اس مہینے کو ایک طرف غم کا مہینہ قرار دے کر بدعات وخرافات کا ارتکاب کیا تو دوسری طرف سبیل حسین اور نذرنیاز کے نام پہ نوع بنوع کھانے کا اہتمام کیا۔ کجا حرمت محرم ،کجا صوم عاشورائ؟ ایسے حالات میں ہمیں ان رسم ورواج کا جائزہ لینا ہے تاکہ اپنا ایمان وعمل سلامت رکھ سکیں۔

مجالس عزا ومرثیہ :
ایک سے دسویں محرم تک مجالس عزاداری قائم ہوتی ہیں جن میں ماتم کیا جاتا ہے خصوصاً کربلاسے متعلق جھوٹی اور فرضی کہانیاں بیان کی جاتی ہیں۔ اس پس منظر میں امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پر درپردہ حملے کئے جاتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے منہ پیٹا ،گریبان چاک کیا اور دور جاہلیت کی پکار لگائی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔(صحیح البخاری:1297)
اسی طرح شہادت حسین ؓاور ماتم کے پس منظر میں جس طرح صحابی رسو ل امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کا جو دروازہ کھولاجاتا ہے ایسے لوگ نبی ﷺ کا یہ فرمان سن لیں۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو ، کیونکہ اگر تم میں کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔(صحیح البخاری:3673،صحیح مسلم:2541)
ہمیں تو ایک عام مسلمان کی توہین سے بھی بچنا ہے۔ نبی ﷺکا حکم ہے۔
میت کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔(صحیح ابو داود: 3207)
یہاں ہڈی توڑنے سے مراد میت کی توہین کرناہے جیساکہ طیبی نے کہا ہے۔
یہ الگ مسئلہ ہے کہ کسی کی وفات پہ تین دن سوگ مناسکتے ہیں۔ سوگ منانا تین دن جائز ہے مگر ماتم کرنا یعنی رونا، پیٹنا، گریبان چاک کرنا ، نوحہ کرنا کبھی بھی جائز نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا میں سب سے زیادہ گونجنے والی آواز کون سی ہے؟

ماتمی ہیئت وکیفیت:
سیاہ لباس پہنا، غسل چھوڑدینا، زیورات اتاردینا،چولہے اوندھے کردینا،نوبیاہی عورتوں کا میکہ میں قیام کرنا وغیرہ سارے ماتمی اعمال ہیں۔ اور میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ سوگ صرف تین دن جائز ، پھرکبھی اس میت کا دوسرے یا تیسرے سال سوگ نہیں منانا ہے۔اور ماتم کسی بھی قسم کی جائز نہیں ہے۔ اور پھر سالہا سال ماتم منانا اسے سنت کا قائم مقام بناناہے۔ ایسے لوگوں کو نبی ﷺکا یہ فرمان سناتاہوں۔
جس کسی نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کیا اور اس پر بعد میں عمل ہونے لگا تو اس کے لئے بھی اس پر عمل کرنے والے کے برابر اجر لکھا جائے گااور کسی کے اجروثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ اور جس کسی نے اسلام میں برا طریقہ جاری کیا اور بعد میں اس پر عمل کیا جانے لگا تواس کے لئے اس پر عمل کرنے والے کے برابر گناہ لکھا جائے گا اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔(صحیح مسلم:1017)

قبروقبرستان کی رونق :
محرم کی ابتداءہی سے قبروں کی صفائی ، لپائی پتائی اور قبرستان کو بارونق بنانے کا عمل شروع ہوجاتا ہے یہاں تک کہ دس محرم کو قبریں منور اور قبرستان بارونق ہوجاتا ہے۔ پھر مردوعورت ، جوان بوڑھے ، چھوٹے بڑے تمام ہجوم کے ساتھ قبروستان پہنچتے ہیں جہاں میلہ لگاہوتا ہے۔ پھول ، مالا، اگربتی ، موم بتی کاروبار ایک طرف اور عورت ومرد کا اختلاط دوسری طرف۔ پھر قبروں پہ نذرونیاز، پھول مالے اور اگربتی وموم بتی کی رسمیں انجام دینا ،قل وفاتحہ سے مردوں کو ثواب بخشنا، اور ان سے استغاثہ کرنا۔
قبروں کی زیارت مسنون عمل ہے مگر قبروں کو میلہ ٹھیلہ کی جگہ بنانا، اس کو سجدہ کرنا، اس سے مراد مانگنا، اس کے لئے نذرونیازکرنا، وہاں نماز پڑھنا یہ سب شرکیہ وبدعیہ اعمال ہیں۔ ان چیزوں سے نبی ﷺ نے منع فرمایاہے :
یا اللہ!میری قبر کو بت نہ بنانا جسے لوگ پوجنا شروع کر دیں۔ ان لوگوں پر اللہ کا سخت غضب اور قہر نازل ہوا جنہوں نے انبیاءکی قبروں کو سجدہ گاہیں بنالیا۔(تخریج مشکاة المصابیح للالبانی : 715، اسنادہ صحیح)
عورتوں کا وہاں اختلاط حرام ہے، قل وفاتحہ ، اگربتی وموم بتی کی رسم بدعت ہے اورقبروں کو لیپنا پوتنا،قبرستان کو بارونق بنانا اس بات کی علامت ہے کہ ایسا آدمی قبر کا پجاری اور آخرت سے مغفل ہے ورنہ جس سے عبرت لینی ہے اسے چمکانا نہیں ہے وہاں آنسو بہانا ہے اور آخرت کی یاد تازہ کرنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلامی آداب

امام حسین کے نام کی نذرونیاز اورسبیل :
یہ مہینہ مکمل نذرونیاز کا ہی ہے۔شروع دن سے خواتین گھروں میں نذرونیاز کا خوب اہتمام کرتی ہیں۔کھچڑا، حلیم،بریانی ، مٹرپلاو¿،زردہ اور فرنی وغیرہ پکائے جاتے ہیں۔اسے لوگوں میں بھی تقسیم کیا جاتا ہے اور قبروں ودرگاہوں پر بطور نذر پیش کیا جاتا ہے خصوصاعلی ہجویری المعروف داتا گنج بخش،حضرت میاں میر،حضرت پیر مکی،حضرت مادھو لال حسین،حضرت خواجہ طاہر بندگی،حضرت عنایت حسین قادری،حضرت موج دریا اور دیگر درگاہوں پر۔ امام حسین کی نذرونیاز بھی بطور خاص پیش کی جاتی ہے۔
غیراللہ کے نام کے چڑھاوے ، نذر، قربانی، ذبیحہ سب شرک کے قبیل سے ہیں۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
تم پر مردہ اور (بہاہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہروہ چیز جس پراللہ کے سوا دوسروں کا نام پکاراگیاہوحرام ہے۔(البقرة: 173)
اسی طرح امام حسین رضی اللہ عنہ کے نام کی سبیلیں لگائی جاتی ہے۔ دلیل میں کبھی کہتے ہیں کہ ان پر پانی بند کیا گیاتھا تو کبھی کہتے ہیں :” جس شخص نے عاشوراءکے روز اپنے اہل و عیال (کے رزق کے معاملہ) پر فراخی وکشادگی کی، اللہ تعالیٰ سال بھر اس پر کشادگی فرماتے رہیں گے۔“
اولاً پانی بند کرنے والی بات ہی غلط ہے۔ اگرمان بھی لیا جائے تو دس محرم جو کہ عاشوراءکا دن ہے آج پانی کی سبیل نہیں لگنی چاہئے۔ آل بیت اور محمد ﷺ سے محبت کرنے والو ں کو عاشوراءکا روزہ رکھنا چاہئے۔ صحابہ سمیت نبی ﷺ کو شعب ابی طالب میں تین سال تک محصور کرکے دانا پانی بند کیا گیا کیا ہم صحابہ اور نبی ﷺ کی یاد میں اپنے اوپر تین سال تک دانہ پانی بند کرتے ہیں ؟۔ پیٹ کے پجاری کبھی ایسا نہیں کرسکتے انہیں بہانہ بنابناکر اچھا اچھا کھانے کی لت پڑی ہے۔ اس کام کے لئے جو حدیث پیش کی جاتی ہے موضوع ومن گھڑت ہے۔ اس لئے اس کام سے ہمیں کلیة باز رہنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تجارت کے فائدے

اللہ کا فرمان ہے :
بے شک اللہ یہ گناہ ہرگز نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور وہ اس کے سوا جسے چاہے معاف کر دیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، تو وہ یقینا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ہے۔(النساء: 116)۔
اللہ تعالی ہمیں صحیح بات سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔
مقبول احمد سلفی