multani_clay

ملتانی مٹی !بہترین قدرتی ماسک

EjazNews

ملتانی مٹی یا Clay ایک ایسی قدرتی نعمت ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ قدرت نے اسے بالخصوص خواتین کے لئے ہی تخلیق کیا ہے۔ تقریباً ہر قسم کے فیشل ماسک کی اساس Clayہی ہوتا ہے جس میں دیگر اشیاء مختلف مقداروں میں شامل کر کے ایک اچھا، موزوں اور نیچرل ماسک تیار کیا کیا جاتا ہے۔ مثلاً مختلف اشکال میں گھیگوار (Alovera) ، روغن بادام، عرق گلاب، شہد، انڈے کی سفیدی، دودھ، لیموں کا عرق، کینو کے خشک چھلکوں کا پائوڈر اور بیسن وغیرہ تاہم جلد کو ڈھلکنے سے روکنے اور اسے سخت رکھنے کے مقابلے میں کوئی بھی شے ملتانی مٹی کی ہمسری نہیں کر سکتی ہے۔ خاص طور پر ماسک کے حوالے سے یہ بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اس سلسلے میں ملتانی مٹی سے جو نتیجہ حاصل ہو تا ہے وہ کسی اور چیز سے نہیں مل پاتا۔

چکنی جلد کیلئے:
ملتانی مٹی چکنی جلد والی خواتین کے لئے آئیڈیل ماسک کا درجہ رکھتی ہے، کیونکہ چکنی جلد والی خواتین کو ایسی خشک اشیاء جن میں تیل جذب کرنے کی صلاحیت زیادہ ہ استعمال کرنا چاہئے اور ملتانی مٹی میں یہ خصوصیت موجود ہے کہ وہ جلد سے اضافی چکنائی کو دور کر دیتی ہے۔ گرمیوں میں چکنی جلد کی حامل خواتین اگرملتانی مٹی میں عرق گلاب، لیموں کا عرق یا کھیرے کا عرق شامل کر کے بطور ماسک ہفتے میں دوبار استعمال کریں تو اس ماسک سے چہرے کی فالتو چکائی ختم ہو گی اور دانو و کیل مہاسوں کا بھی بتدریج خاتمہ ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ جلد کی فاضل چکنائی چہرے پر نمودار ہونے والے بدنما کیل اور مہاسوں کا سبب بنتی ہے۔

چہرے کی ڈھلکی جلدی کیلئے:
اکثر بڑھتی ہوئی عمر والی خواتین جلد کے ڈھلکنے اور خصوصاً چہرے کی کھال کے قدرتی تنائو میں نرمی اور ان کے لٹکنے کی وجہ سے پریشان رہتی ہیں اور اس شکایت کے تدارک کے لئے مختلف غیر ملکی ساختہ اور بھاری قیمتوں والےماسک استعمال کرتی ہیں لیکن پھر بھی ان کی یہ شکایت بدستور رہتی ہے۔ ایسی خواتین کے لئے ہمارا مشورہ ہے کہ اپنی جلد کا شروع ہی سے خیال رکھیں۔ علاوہ ازیں غیر ملکی ساختہ ماسک پر رقم ضائع کرنے کی بجائے ’’ملتانی مٹی کا ماسک‘‘استعمال کریں۔ انشاء اللہ بہت اچھا نتیجہ پائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  میک اپ کو سمجھداری سے کریں

ڈھلکی جلد والی خواتین ملتانی مٹی کو کسی چوڑی منہ والی کٹوری یا مٹی کے پیالے میں پانی ملا کر بھگو لیں۔ اس طرح ملتانی مٹی کا پیسٹ بن جائے گا۔ اب اس پیسٹ میں شہد ایک چائے کا چمچ اور دہی ایک چائے کا چمچ ملا لیں اور اس کے بعد اسے آنکھوں کو چھوڑ کر پورے چہرے پر ماسک کی طرح لیپ کر لیں اور آرام سے کر سی یا پلنگ پر خاموشی سے آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں اور چہرے کے عضلات کو اس کی اصل حالت میں چھوڑ دیں یعنی کہ بالکل پر سکون ہو جائیں۔ جب آپ محسوس کریں کہ ماسک خشک ہو گیا ہے تو نیم گرم پانی سے چہرے کو دھو ڈالیں اور بعد میں اسکن ٹانک یا کریم چہرے پر لگا لیں۔ یہ چہرے کی جلد کو لٹکنے سے روکنے اور ان میں سختی پیدا کرنے کے لئے بہترین ماسک ہے۔

جھریوں کے خاتمے کیلئے:
اگر آپ چہرے پر پڑنے والی جھریوں سے پریشان تو اس کے لئے بھی ملتانی مٹی کارآمد ہے۔ اس کے لئے ملتانی مٹی (سفوف کی شکل میں)ایک چمچ ، شہد ایک چمچ اور پیاز کا عرق ایک چمچ لے کر ان تینوں چیزوں کو باہم ملا کر پیسٹ بنا لیں اور اسے چہرے پر ماسک کی طرح لگا لیں۔ خشک ہونے پر چہرہ نیم گرم پنی سے دھو کر کوئی اچھی سی کریم لگا لیں۔ یہ طریقہ ہر آٹھ، دس روز بعد کریں۔ اس ماسک سے چہرے کی جھریوں کو ختم کیا جاسکتا ہے اور چہرہ شاداب رہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چمکتا دمکتا چہرہ آپ کا بھی ہو سکتا ہے

چہرے کے دانوں کے لئے:
اگر چہرے پر دانے ہوں تو ملتانی مٹی کو پانی میں گھول کر اسے ان دانوں پر لگا لیں۔ یہ عمل ہر روز یا ایک دن چھوڑ کر کریں بہت جلد دانے ختم ہو جائیں گے۔

ملتانی مٹی کا فیس پیک:
ملتانی مٹی کو اگر صندل اور مختلف پھلوں یا سبزیوں کے عرق کے ساتھ استعمال کیا جائے تو بہترین فیس پیک تیار ہوتا ہے۔ یہ ہر طرح کی جلد کے لئے موزوں ہے۔ ملتانی مٹی (سفوف کی شکل میں)100گرام، صندل وڈ (صندل کی لکڑی کا برادہ باریک سفوفک ی شکل میں) 50گرام اور کینو کے خشک چھلکوں کا بے حد باریک سفوف 50گرام، ان تینوں اشیاء کو ملا کر یکجان کر لیں اور اسے کسی ہوا بند ڈبے میں محفوظ کرلیں ۔ چاہیں تو کسی پلاسٹک کے تھیلی میں ڈال کر بھی محفوظ کر سکتی ہیں۔ اس فیس پیک آمیزہ کو درج ذیل طریقے کے مطابق ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ استعمال کریں۔
آنکھوں اور ارد گرد کی جگہ کو چھوڑ کر ماسک لیپ کریں ۔ پندرہ ، بیس منٹ بعد خشک ہونے پر ٹھنڈے پانی میں کپڑا بھگو کر آہستہ آہستہ چہرے کو صاف کریں۔ یہ ماسک جلد کی اندرونی سطح تک پہنچ کر جلد کو پھر سے تروتازہ اور خوبصورت بنا دیتا ہے۔ چہرے سے مردہ خلیات کو اتار دیتا ہے اور چہرے کی رنگت نکھارتا ہے۔ مساموں کے اندر تک اتر کر جلد کی صفائی کرتا ہے۔ جس سے جلد صحت مند ہو جاتی ہے اور چہرے سمیت پوری جلد پر دوران خون تیز ہو جاتا ہے اور چہرہ پر کشش بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بینائی اور فیشن دونوں کیلئے مفید کنٹیکٹ لینسز

صاف رنگت کیلئے:
اگر آپ کی رنگت سانولی ہو گئی یا جھلس گئی ہے تو اس کے لئے ملتانی مٹی کا پانی میں پیسٹ بنا کر چہرے پر ماسک کی طرح لگائیں۔ جب یہ سوکھ جائے تو اس پر ایک مرتبہ پھر وہی آمیزہ لگائیں اسی طرح چار مرتبہ کریں۔ جب چوتھی تہہ بھی خشک ہو جائے تو ٹھنڈے یا نیم گرم پانی سے چہرہ دھو کر اچھی سی کریم لگا لیں۔ یہ عمل ایک ہفتے تک بلا ناغہ کریں۔دوسرے ہفتے میں صرف دوبار کریں۔ رنگت صاف ہو جانے کے بعد بھی یہ ماسک ہفتے میں ایک بار ضرور کریں۔

ضروری ہدایات:
چہرے پر ماسک لگانے سے پہلے چہرے کی صفائی ضروری ہوتی ہے۔ جسے کلینزنگ کہتے ہیں۔ کلینزنگ کا مقصد چہرے کے مساموں میں موجود گرد یا ریت کے باریک ذرات دور کرنا ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ یہ گرد ایک طرف چہرے کے مساموں کو بند کر کے پسینے کے اخراج کو روکنے کا سبب بنتی ہے اور دوسری طرف جلد پر نظر نہ آنے والی خراشیں ڈالتی ہے جس سے چہرے کی رگوں میں دوران خون بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ کلینزنگ کے بعد کسی بھی کلینزنگ لوشن سے انگلیوں کی مدد سے چہرے کا تھوڑا سا مساج بھی ضرور ہے تاکہ جلد ملائم ہو جائے اور ماسک میں موجود صحت مند اشیاء چہرے کی جلد میں احسن طریقے سے جذب ہو سکیں۔