muslim_islam

دعا کا بیان

EjazNews

ترجمہ: جو لوگ مجھ سے دعا مانگنے سے تکبر کرتے (روکتے) ہیں۔ قیامت کے روز منہ کے بل جہنم میں داخل ہوں گے۔( المؤمن 60)۔
عبادت سے مراد دعا ہے۔ (مشکٰوۃ شریف:ص194، حاشیہ9)

سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا: دعا عبادت ہے۔ پھر آیت تلاوت فرمائی: کہ تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا مانگو میں تمہارے لئے قبول فرماؤں گا)۔
تقدیر کو دعا کے بغیر کوئی چیز نہیں ٹالتی اور احسان و سخاوت کے بغیر عمر کو کوئی چیز نہیں بڑھاتی۔(مشکوٰۃ :ص 194-195)
دعا مومن کا ہتھیار ہے جس سے مصائب وغیرہ کو رفع کرتا ہے اور دین کا ستون اور آسمان و زمین کا نور ہے۔

ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنا سنت ہے :
(1)حضورﷺ ہمیشہ ہاتھ اُٹھا کر دعافرمایا کرتے تھے:
سرکار ِ دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے ،کریم ہے جب اُس کا بندہ ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگے اُس کے اُٹھے ہاتھوں کوخالی نہیں لوٹاتا۔(رواہ الترمذی :ج 1،ص 195، ابوداؤد:ج 1،ص209،البیہقی فی السنن الکبرٰی،مشکٰوۃ: ص190)
اس کی تفسیر میں شارح مشکوٰۃ شریف لکھتے ہیں کہ ہاتھ اُٹھانے کی حکمت یہ ہے کہ آسمان قبلہ دعا ہے۔ رزق، وحی، برکت، رحمت وہاں سے نازل ہوتے ہیں۔ جو لوگ دعا سے منع کرتے ہیں گویا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم کرنا چاہتے ہیں( مرقاۃ: ص43، ج5پر) ۔
رسول اللہ ﷺ نے اپنی اُمت کو تعلیم فرمائی کہ دعا سیدھے ہاتھ اُٹھا کر مانگو اُلٹے ہاتھ نہ مانگو جب دعاسے فراغت پائو تو اپنے ہاتھ اپنے چہروں پر پھیرو۔(رواہ ابوداؤد:ج 1،ص209)
اس کی شرح میں صاحب مرقات فرماتے ہیں: ابن حجر  نے فرمایا لائق یہ ہے کہ طالب جب سوال کرے تو اپنے ہاتھ دراز کر کے مانگے تاکہ خیر کثیر سے ہاتھ بھر جائے(ج 5، ص42)۔
حضرت عمر بن خطاب ؄ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب دعا میں ہاتھ مبارک اُٹھاتے تھے تو منہ مبارک پر دونوں ہاتھ پھیر کر ہی چھوڑتے تھے۔ (ترمذی شریف: ج2، ص174)
(4) ہاتھ اُٹھانا بالاتفاق مستحب ہے(ابن ماجہ : حاشیہ4، ص84)۔

یہ بھی پڑھیں:  سونے و جاگنے کے آداب

آہستہ دعا مانگنا:
آہستہ دعا مانگنا افضل ہے:
اپنے رب سے دعا مانگو عاجزی اور آہستگی کے ساتھ۔( الاعرف 55)
تین مرتبہ ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنا سنت ہے
سرکار ِ دو عالم ﷺ جب بھی دعا فرماتے تو تین مرتبہ فرماتے۔(مسلم شریف: ج2، ص108)
تین مرتبہ ہاتھ اُٹھا کر دعا مانگنا سنت فعلی ہے۔
نبی پاک ﷺ نے تین مرتبہ دونوں ہاتھ اُٹھا کردعا فرمائی۔(مسلم شریف: ج1، ص313، اور نسائی شریف)
نماز کے بعد مل کر دعا مانگناسنت ہے۔ ایسا نہ کرنے والے کو نبی پاک ﷺ نے تنبیہ فرمائی۔ نیز فرمایا:’’ الدعائ مخ العبادۃ‘‘( دعا عبادت کا مغز ہے۔

مشکل سے نجات حاصل کرنے کی دعا
مشکل کے وقت پڑھے:
ترجمہ: اے اللہ کے بندو! ( اولیاء اللہ!) میری امداد کرو۔ ( الحصن والحصین :ص 127رواہ طبرانی)۔