mother shouting

بچوں کو ڈانٹنے اور جھڑکنے سے پرہیز کریں

EjazNews

بچوں کی تربیت اورپرورش والدین کے لئے ایک امتحان اور صبر آزمادور ہوتا ہے ۔ والدین کا رویہ او بچوں کے ساتھ برتاﺅ ان کے کردا ر اور عادات کی تشکیل پر اثرانداز ہوتا ہے ۔ جس طرح بے جا لاڈ پیار اورنرمی بچوں کی عادات کو بگاڑ نے کا سبب بنتا ہے اسی طرح حد سے زیادہ سختی یا ہر وقت بچوں کو روکنے ٹوکنے اوران پر چیخنے چلانے سے بچوں کی شخصیت پر منفی اثر پڑتا ہے۔

جس گھر میں بچے ہوں وہاں وقتاً فوقتاً ماں باپ کے چلانے کی آوازیں آتی رہتی ہیں۔ بچوں پر چیخنے چلانےاور بلند آواز میں ڈانٹنے کا رجحان بہت بڑھ گیا ہے۔ گھر کے بزرگ افراد کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں پر شاذو نادر ہی چلاتے تھے ان کی غلطی اور ضدوں پر نرمی سے سمجھاتے تھے کیونکہ یہ بھی تربیت کا ایک انداز ہوتا ہے اگر آپ بچوں سے زور دار آواز میں یا چیخ کر بات کریں گے تو وہ بھی اس عادت کو اپنائیں گے اور چیخ چیخ کر اپنی ضدیں منوائیں گے۔ موجودہ دور میں ہر شخص کی قوت برداشت بہت کم ہو گئی ہے جس کو دیکھو وہ ذرا ذرا سی بات پر لڑنے مرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ مصروفیات زندگی بڑھ گئی ہے ہر ایک چاہتا ہے کہ وہ جلد سے جلد اپنا کام نمٹا لے ایسے میں بچے اگر والدین کو تنگ کرتے ہیں تو وہ جھنجھلا جاتے ہیں اور ان کو خاموش کرانے کے لئے ان پر چیخنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  تحریک آزادی کشمیر اور دفاع پاکستان

جرنل آف میرج اینڈ فیملی میں درج ہے کہ 75فیصد گھرانوں میں والدین اپنے بچوں پر چیختے چلاتے ہیں اسٹڈی کے مطابق بچوں کے طرز عمل کو درست کرنے کے لئے والدین کا غصے میںبلند آواز میں بات کرنا چیخنا یا چلانا دراصل نفسیاتی طور پر جارحانہ رویہ اور بچوں کے ساتھ بد سلوکی ہوتی ہے۔
فلوریڈا میں بچوں کے طرز عمل اور جذباتی صحت کے میڈیکل ڈائریکٹر جیوڈی لینگر کا کہنا تھا کہ بچوںپر غصے کی حالت میں چیخنا اور چلانا ان کو خوفزدہ اور پریشان کر دیتا ہے اور بچے آپ کے اس طرز عمل سے یہ سمجھتے ہیں کہ غصے میں چیخنا اور بلندآواز میں بات کرنا جائز ہے لہٰذا جب ان کو غصہ آتا ہے تو وہ آپ کے رویے پر عمل کرتے ہوئے چیختے اور بد تمیزی کرتے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غصے میں آواز کو کیسے قابو میں کیا جائے اور چلانے سے گریز کیا جائے ۔ یہاں ہم آپ کو پر سکون رہنے اور غصے پر قابو پانے کے لئے چند مفید طریقے بتاتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ بچے آپ کی بات نہیں سن رہے ہیں یا فضول کی ضدیں کر رہے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ غصے میں ان پر دھاڑنا شروع کر دیں۔ اگر آپ غور کریں تو یہ بات تسلیم کریں گی کہ جب کبھی آپ بچوں پر چیختی ہیں تو اس وقت آپ کا موڈ کسی نہ کسی بات پر خراب ہوتا ہے، کوئی دوسری بات آپ کو پریشان کر رہی ہوتی ہے اور ایسے میں جب بچے آ پ کو تنگ کر رہے ہوتے ہیں تو آپ چیخ کر اپنا غصہ اور بھڑ اس ان پر نکال دیتی ہیں۔ لہٰذا کوشش کریں کہ ایسی صورتحال میں آپ اپنا دھیان فوری طور پر دوسری طرف کر لیں بچوں کے پاس سے ہٹ جائیں یا ان سے کوئی دوسری بات شروع کر دیں یا پھر کچھ دیر اکیلے بیٹھ جائیں اس طرح آپ پر سکون ہو جائیں گی۔ اکثر آپ کی اپنی غلطی یا سستی کی وجہ سے کام وقت پر مکمل نہیں ہو پاتے ہیں اور آپ جلدی جلدی ان کو نمٹا رہی ہوتی ہیں ایسے میں بچے تنگ کریں تو آپ جھنجلاہٹ کا شکار ہو کر ان پر غصہ اتارنے لگتی ہیں۔ اس سے بچنے کے لئے آپ اپنا ہر کام وقت پر مکمل کریں تاکہ آپ ذہنی طور پر پر سکون رہیں اوربچوں کی ضدیں آپ کو چیخنے پر مجبور نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  خوش آمدید پاکستان مہاتیرمحمد

ماہرین کے مطابق روز مرہ امور کی ٹینشن آپ کی آوازکو بلند کر دیتی ہے اس لئے سب سے پہلے آپ اپنی ٹینشن اور جھنجلاہٹ کا سدباب کریں ۔ بچوں کے ساتھ اپنی ذات کے لئے وقت نکالنا واقعی مشکل ہوتا ہے تاہم اپنی صلاحیتوں سے کام لے کر ایسا کیا جاسکتا ہے۔ ایسے وقت میں آپ کسی کے ساتھ چہل قدمی پر چلی جائیں کوئی رسالہ پڑھ لیں یا گہری سانس لینے کی ورزش کریں اس سے آپ کے اعصاب کو سکون ملے گا یا کوئی بھی ایسا کام کریں جس کا مقصد پریشانی اور جھنجلاہٹ پر قابو پاناہو۔ غصے کو باہر نکالنے کے لئے چیخنا اور کسی کے اوپر چیخنا چلانا اور بلند آواز میں بات کرنا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ اگر آپ غصے میں ہیں تو بجائے اس کے کہ بچوں پر چیخیں آپ اکیلے میں یا تکیے میں منہ دے کر چلا سکتی ہیں تاکہ آپ کا غصہ بھی باہر نکل جائے اور بچے بھی محفوظ رہیں۔ جب آپ پر سکون ہو جائیں تو پھر آرام سے بچوں اور دیگر افراد سے بات کریں اور مسئلے کو سلجھائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مادری زبان میں تعلیم کیوں ضروری ہے؟

یا درکھیں کہ بچے بہت نازک ہوتے ہیں اور ہمارے جارحانہ رویے کوبرداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں ان کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے اور وہ بد تمیزی پر اتر آتے ہیں اس لئے بچوں کے سامنے اپنا رویہ اور طرز عمل درست رکھیں تاکہ وہ بھی اخلاق اور پر اعتماد انسان بن سکیں۔