wife_with_his_husband

شوہر کو بہترین دوست کس طرح بنایا جاسکتا ہے؟چند مشورے

EjazNews

بیوی کو چاہئے کہ شوہر سے جتنی بھی لڑائی ہو قطع کلامی نہ کرے اور غصے کے اوقات میں کوئی ایک خاموش رہے خواہ وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو۔
شوہر کی ضرورتوں، کھانے پینے اور اس کے گھر والوں کا خیا ل رکھیں، توجہ سے بات سن کر اسے اہمیت دیں، بلاوجہ روک ٹوک نہ کریں، کسی بات پر ضد سے پرہیز کریں۔
ہمیشہ سچ بولا جائے، پسند و ناپسند کا خیا ل رکھا جائے، خود کو اس کی مرضی کے مطابق ڈھالا جائے، سکون کی فراہمی، گھر والوں سے اچھا سلوک اور من پسند کھانا شوہر کو اچھا دوست بنا سکتا ہے۔
شوہر کی طبیعت کو سمجھ لینا، اس کے اشارے پر چلنا، غصے اور طیش کے عالم میں برداشت کرنا ہی دوست کے اہم پہلو ہیں۔ یوں بھی جو بیوی شوہر کی اطاعت کرے گی وہ جنت میں جائے گی۔
اگر بیوی اپنے سسر اور ساس کی خدمت کرے، شوہر کی ہر بات مانے ، ہر خواہش کو پورا کرے، اس کے حکم کو سر آنکھوں پر رکھے، اپنے معاملات میں اسے شامل کر ے اور اعتماد حاصل کرلے تو شوہر بہترین دوست بن سکتا ہے۔

عورت پہلے دن سے شوہر کو اچھا دوست دل سے مان لے، اس سے تمام معاملات اس طرح شیئر کرے جیسے کہ بہترین دوست سے کرتے ہیں تو اس طرح اسے اچھادوست بنا یا جاسکتا ہے۔
تعلقات کی بہتری کے لئے اپنا طرز عمل متوازن رکھیں، مسلسل نکتہ چینی نہ کریں۔ شوہر کو محبت کے رشیم دھاگوں میں باندھے رکھنا آپ کی محنت، ذہانت اور صلاحیت پر منحصر ہے۔
حدیث نبویﷺ ہے کہ شوہر جب قربت کے کہے تو بیوی فوراً حاضر ہو جائے خواہ وہ تندور میں روٹیاں لگا رہی ہو۔ یہ فرمان شوہر کی دوستی کی مضبوط ترین بنیاد ہے۔
حکم خداوند سمجھ کر اس سے محبت، اس کی خدمت اور اس پر اعتماد کریں۔ خود کو اس کی پسند و ناپسند کے لحاظ سے ڈھالیں او شکوے شکایت کے بجائے اپنی ہر بات اس کے ساتھ شیئرکریں۔
دنیا کا کوئی رشتہ جس میں دوست یاور اعتماد نہ ہو ناپائیدار ہے۔ شوہر اور بیوی تو ایک دوسرے کا لباس ہیں یعنی اس مضبوط رشتے کی بنیاد ہی دوستی ہے۔
بیوی کو چاہئے کہ وہ ہمیشہ بن سنور کر اپنے خاوند کا استقبال کرے اس طرح وہ ہمیشہ بہترین دوست رہے گا۔ قرآن پاک میں بھی ارشاد ہے کہ تمہارا بناﺅ سنگھار اپنے شوہروں کے لئے ہے جو بیویوں پر نگاہ ڈالیں تو وہ انہیں بھلی لگیں۔

یہ بھی پڑھیں:  شوہر کو بہترین دوست کس طرح بنایا جاسکتا ہے ، چند مشورے (۲)

شوہر کو دوست بنانے کے لئے اس کے وسائل و حیثیت کے مطابق تمام اخراجات کو بہتر طریقے سے چلایا جائے، اچھے مشورے دے کر اس کی مدد کی جائے اور یہ مقولہ ذہن میں رہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔
چونکہ دوستی کی بنیاد برابری پر ہوتی ہے اسی لئے دوست آپ کو ہر اچھی اور بری بات کو کھلے دل سے قبول کرتاہے ۔ شوہر کی اطاعت اور بچوں کی طرح دیکھ بھال کر کے اور یہ احساس دلا کر وہ اہم ترین ہستی ہے ماحول کو بہترکیاجاسکتا ہے۔
اعتماد اور اعتبار کی فضا قائم رکھیں، ایک دوسرے پر بھروسہ کریں ، تعریف کرنے میں کنجوسی سے کام نہ لیں اور تعلقات کی سطح ایسی ہو جس میں دونوں فریقوں کو یہ احساس ہو کہ ان کی قدر کی جارہی ہے۔
کبھی اپنے شوہر پر شک نہ کریں اور نہ ہی ایسے کام کریں کہ وہ آپ پر بلا وجہ شک کرنے لگے اس رشتے میں سب سے اہم پہلو آپ سکا اعتماد ہے جسے مضبوط کرنا از حد ضروری ہے۔
ہر بات اور ضرورت کا خیال رکھنے کے ساتھ شوہر کو مجازی خدا سمجھتے ہوئے حکم بجالا یا جائے اور سالگرہ یا اہم مواقع پر تحائف کا تبادلہ کیا جائے تو مرد کو بہترین شوہر ہی نہیں اچھادوست بھی بنایا جاسکتا ہے۔
قرآن پاک میں شوہر کے لئے ”قوامون “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مطلب حاکم ، سرداراور مالک ہے لہٰذا میاں بیوی کی دوستی میں مرد کی حاکمیت کا پہلو غالب رہے گا اور یہ دوستی ہم جنسوں کی دوستی جیسی تو نہ ہوگی مگر باہمی احترام، شوہر کے رازوں کی پاسداری اور اس کی پسند یا ناپسند کو فوقیت دینا ماحول کو خوشگوار بنا دے گا۔
شوہر کے معاملات میں بے جا دخل اندازی نہ کریں، ان کے گھر والوں کی برائیاں نہ کریں، دوست و احباب کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے نہ دیکھیں اور روز مرہ کے معمولات میں مکمل توجہ کے ساتھ اپنا کردار نبھائیں۔
شوہر سے بہترین دوستی کے لئے بیوی حالات سے سمجھوتہ کرے اور اسلام نے عائلی زندگی کے بارے میں جو قواعد و ضوابط طے کئے ہیں ان پر عمل کرے تو شوہر ایک بہترین دوست ثابت ہو سکتا ہے۔
اپنے غصے پر قابو رکھیں، جن عورتوں کا غصہ قابو میں نہیں رہتا ان کے گھر وں میں لڑائی جھگڑے عام سی بات ہوتی ہے اور ایسے ماحول میں شوہر کو کم از کم اچھا دوست تو ہرگز نہیں بنا یا جاسکتا۔
شوہر کے مزج کو سمجھنے کی کوشش کریں، ہر کام میں مشورہ لیں اور اسے ہر ایک پر ترجیح دیں، ہمیشہ سچائی سے کام لیں اور کوئی قدم ایسا نہ اٹھائی جو کہ شوہر کی نگاہوں سے پوشیدہ ہو۔
شوہر کی فطرت کو پہچان کر خود کو اس کے مطابق ڈھالیں، اس کی پسند اور نہ پسند کے علاوہ آپس میں ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے دوست یکا رشتہ استوار کریں۔ نیز ہر قسم کے حالا ت سے کمپرو مائز کرنا سیکھیں جو کہاچھی دوستی کی بنیاد ہے۔
شوہر کے سامنے دوسرے مردوں کی تعریف ہرگز نہ کریں اور نہ ہی دوسروں کے طرز زندگی کا موازنہ اپنی زندگی سے کریں تو اس طرح میاں بیوی کے مابین دوستی کا رشتہ قائم ہو سکتا ہے۔
اگر زندگی میں کوئی مشکل لمحہ آجائے تو شوہر کو ہمت دلائیں نہ کہ اس کے ساتھ غلط قسم کارویہ اختیار کیا جائے ۔ ممکنہ حد تک الفت و محبت کے جذبات پیدا کریں۔
شوہر اپنے دل کا تمام حال بیوی کو بتائے اور بیوی اپنے تمام مسائل سے شوہر کو آگاہ کرتی رہے تو دونوں آپس میں بہترین دوست بن سکتے ہیں۔
شک و ہ بیج ہے جو کہ باہمی اعتماد کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیتا ہے لہٰذا شک ہرگز نہ کریں ورنہ زندگی اجیرن ہو جائے گی۔اور شوہر دوست تو کیا دشمن بھی نہیں رہے گا۔
راشدہ

یہ بھی پڑھیں:  کسی مشکل کے حل کے بہترین طریقے