kashmir-1

مسئلہ کشمیر اجاگر کرنا ہے

EjazNews

کیا ایک ہی نظام کے تحت ایک ہی ملک کا ایک حصہ دوسرے حصے کا استحصال کرتا ہے؟یہ سوال بہت ہی اہم بھی ہے اور غور طلب بھی ہے۔جب سے پاکستان بنا ہے اور ہم نے ہوش سنبھالاہے تو یہی سنتے چلے آئے ہیں کہ پنجاب باقی صوبوں کا استحصال کررہا ہے۔سندھ کے بزعم خویش قوم پرست ،خیبر پختونخوا کے بزعم خویش قوم پرست اور بلوچستان کے بزعم خویش قوم پرست یہی کہتے چلے آئے ہیں اور اسی پر سیاست کرتے رہتے ہیں۔متحدہ ہندوستان پر جب انگریز کی حکومت تھی جو ہم پڑھتے چلے آئے ہیں کہ اس وقت ہم اس جہاں رنگ وبو میں نہیں آئے تھے تو یہی پڑھتے ہیں کہ وہ سامراجی قوت تھی ۔

ان کے زیرنگین تو کوئی خطہ دوسرے کا استحصال نہیں کررہا تھا کہ استحصال کیا کرتے خود ہی محکوم تھے ۔ہاں انگریز سارے ہندوستان کا استحصال کرتا رہا اور سب سے بڑا استحصال یہ کہ انہوں نے مقامی صنعتوں اور صنعت کاروں کو بے اثر کرکے اپنی صنعت اور مصنوعات کو عام کرکے اولاً اس کا اجتماعی معاشی استحصال کیا اور پھر مقامی معیشت اور معیشت کاروں کو کمزور کرکے مختلف ریاستوں کو آپس میں لڑایا اور تقریباً ہرریاست کے اندر ان کے ایوان ہائے اقتدار میں رسائی رکھنے والے بعض کارندوں کو خریدا اور یوں وہ بحیثیت مجموعی استحصال کرکے ہندوستان پر قابض ہوئے۔جب آزادی کی جنگ لڑی گئی اور ظاہر بات ہے وہ تحریک کی شکل میں تھی اور مجبور ومقہور ومظلوم اقوام جب تحریک چلاتی ہیں تو وہ عدم تشدد والی ہوتی ہے وگر نہ ان کو تو منظم فوج ریزہ ریزہ کردیگی ۔اور تحریک کامیاب ہوئی ،قربانیاں تو مثالی دی گئیں تو کیا پاکستان جو دو حصوں پر مشتمل دیا گیا ایک مغربی پاکستان اور ایک مشرقی پاکستان۔تو کیا اس کے لئے یہ فارمولا تھا کہ ہندوستان کا فلاں فلاں خطہ فلاں فلاں خطے کا استحصال کررہا ہے لہذا ان استحصال زدہ خطوں کو علیحدہ ریاست بنادیا جائے ؟ایسا تو بالکل بھی نہیں تھا۔بلکہ یہ کہا گیا کہ جہاں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے تو ان خطوں پر مشتمل مسلمانوں کی علیحدہ ریاست قائم ہو اور یوں پاکستان اس طرح تشکیل پایا۔تو کیا یہ اس لئے مطالبہ کیا گیا کہ ہندو مسلمانوں کا استحصال کررہا تھا ؟تو ہندو اور مسلمان تو سارے ہندوستان میں پھیلے ہوئے تھے ۔ہاں کہیں ہندو زیادہ تھے اور کہیں مسلمان زیادہ تھے۔اور حکومت تو دونوں کے پاس نہیں تھی وہ تو انگریز کے ہاتھ میں تھی تو ان کا استحصال کس قسم کا تھا ۔یا یہ کہا گیا کہ ہاں اب انگریز کے چلے جانے کے بعد ہندو مسلمانوں کا استحصال کریں گے اور مسلمان بھوکے مریں گے ؟ایسا بھی نہیں کہا گیا ۔

ہاں تعصبات تھے لیکن کہا یہ گیا کہ مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ خطہ وطن ہو جہاں وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق آزدانہ زندگی بسر کریں کہ نماز ،روزہ تو وہ انگریز کی حکومت میں بھی کرتے رہے اور ان کے لئے مسلم پرسنل اور فیملی لاز بھی موجود تھے۔اب پاکستان بن تو گیا لیکن کشمیر کا مسئلہ لٹک گیا اور وہ کیوں؟اس لئے کہ اس میں غدر کی گئی کہ کشمیر تو مسلم اکثریت والا علاقہ تھا لیکن اس کا راجہ غیر مسلم تھا ۔اس ریجن کے لئے کہا گیا کہ لوگ ہندوستان کے ساتھ رہنے کا یا پاکستان کے ساتھ رہنے کا خود فیصلہ کریں ۔ساتھ ساتھ کچھ تحفظات کے ساتھ اگر یہ ریاست رہنا چاہیں تو بھی فیصلہ کریں ۔اب اس کا راجہ ہری چند تو چاہتا تھا کہ یہ آزاد رہے لہذا اس نے تاخیری حربےاستعمال کرنے شروع کیے حتی کہ اکتوبر1947ءمیں مسلمانوں نے بغاوت کی لہذا انڈیا نے سٹریٹیجی کھیلی ۔ایک سٹریٹیجی بلکہ جبر سے پہلے تو اسے بے اختیار کیا گیا اور پھر اس سے منوایا گیا کہ کشمیر ہندوستان کے ساتھ رہے گا۔یہ ریاست پانچ حصوں پر مشتمل تھی ۔جموں،وادی کشمیر،آزاد کشمیر ،لداخ اور گلگت بلتستان۔14 اگست 1947ء کو اس کا مجموعی رقبہ 84471 مربع میل تھا ۔اب جنوبی دو اضلاع جموں اور کشمیر 20917 مربع میل ،آزاد کشمیر 5000 مربع میل ،انڈیا کے پاس جو لداخ ہے وہ 35000 مربع میل ۔1962ء میں ہندوستان اور چین کے جنگ میں چین نے 28500 مربع میل لے لیا ۔یہ دراصل شمالی علاقوں کا رقبہ ہے چین نے لداخ کا ک14500کلومیٹر پاس رکھ لیا۔گلگت بلتستان 28000مربع میل ہے ۔1935ء میں مہاراجہ نے برطانیہ کے مطالبہ پر اس کو ان کے ہاتھ لیز کیاتھا ۔1947ء میں انگریز کے جانے کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ نے اس پر بریگیڈئیر گندھارا سنگھ کو گورنر مقررکیا جس کو گلگت سکاوٹس نے گرفتار کرلیا۔پھر ان علاقوں کو جنگ کے ذریعے انڈیا اور ڈوگرہ راجاؤں سے آزاد کیا گیا۔یادرہے کہ لداخ اور بلتستان پر ڈوگروں نے 1846ء میں قبضہ کیا تھا۔ان شمالی علاقوں میں اسلام کشمیر کے ساتھ پھیلاانہوں نے ایک ساتھ آزادی کی جنگ لڑی۔ان شمالی علاقوں اور کشمیر نے ہمیشہ ہندو قبضہ کی مخالفت کی یہ ایک جاری تاریخ ہے۔پاکستان کے قادیانی وزیر خارجہ سر ظفراللہ نے کوہالہ سے خنجراب اور کہوٹہ سے قراقرم تک یو۔این ۔او میں ایک سیاسی یونٹ قراردیا تھا ۔یو۔این۔او کے قراردادوں میں شمالی علاقہ جات کو کشمیر کا حصہ قراردیاگیا تھا۔1948ء میں شمالی علاقہ جات کو ایڈمنسٹریٹر کے ذریعہ پاکستا ن کا حصہ قراردیا گیا ۔مارچ 1963ء میں سائنو پاکستان باونڈری ایگریمنٹ میں پاکستان اور کشمیر نے ان علاقوں کو متنازعہ ریاست کا حصہ قراردیا جس پر سردار ابراہیم غلام عباس نے کشمیر کی طرف سے اور میاں مشتاق احمد گورمانی جو وزیر بے محکمہ تھے نے پاکستان کی طرف سے دستخط کیے۔آرٹیکل 6 اس پر ہے ۔20 نومبر 1971ء میں یحییٰ بختیار نے گنگا اغواء کیس میں وضاحت کی کہ شمالی علاقہ جات باقاعدہ پاکستان کا حصہ نہیں ۔

البتہ جنرل ضیاء الحق نے اسے پھر بعد ازاں مارشل کا زون ای قرار دیا ۔بعد میں مختلف تجاویز آئیں کہ شمالی علاقہ جات کو آزاد کشمیر کے ساتھ ملاکر اس کا مرکز گلگت یا مظفر آباد بنایا جائے یا اسے مستقل ریاست کا درجہ دیا جائے یا اسے صوبہ بنایا جائے ۔اور یہ بھی کہا گیا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ میں اس کو نمائندگی دی جائے۔وادی کشمیر میں اسی فیصد مسلمان ہیں اس کی سرحدیں دو اقتصادی اور جنگی سپر پاورز چین اور روس اور ایک جہادی اور دفاعی سپر پاور افغانستان سے ملتی ہیں یوں اس کی اہمیت خود بخود واضح ہوتی ہے ۔کشمیر پر مسلم حکومت 1320ء عیسوی سے تھی ۔عرب سے ایک مبلغ سید بلبل شاہ شاید خراسان سے گئے لوگوں میں سے تھے ۔وہ آئے اور اس کے ہاتھ پر رام چند جسے رینچن بھی کہا جاتا ہے مسلمان ہوئے اور صدر الدین نام رکھا ۔یہ کشمیر کے راجہ یعنی بادشاہ تھے اس نے سری نگر میں ایک مسجد کی سنگ بنیاد بھی رکھ دی تھی 1323 ء میں فوت ہوا۔اسی خاندان کے 22بادشاہ ہوئے ۔1558 تک ان میں ایک بادشاہ زین العابدین 1420۔1470 عیسوی کا زریں دور شمار کیا جاتاہے اسے بڈ شاہ یعنی عظیم بادشاہ کہا جاتاتھا۔اس نے مذکورہ مسجد سری نگر کے ساتھ دارالعلوم بھی بنایا ۔1558 عیسوی میں جلال الدین اکبر نےیہاں کے بادشاہ سے جنگ کی اور کشمیر کو اپنی سلطنت میں شامل کیا ۔1753 عیسوی میں یہ مغلوں کے ہاتھوں سے نکل کر افغانوں کے ہاتھ آیا ۔1819 میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے مصرودیوان چند کی قیادت میں ایک لشکر بھجواکر راجوری کے راستے سے کشمیر پر حملہ کیا جس میں کشمیر کے جبار خان کو شکست ہوئی ۔ڈوگرہ خاندان کے دو شخصیات دھیان سنگھ اور گلاب سنگھ رنجیت سنگھ کے درباری تھے ان کے خاندان کو رنجیت نے آلہ کار بنایا ۔یہ لوگ مسلط ہوئے تو انہوں نے کشمیریوں پر مظالم ڈھائے ان کی صنعت بالخصوص شال بانی پر چھبیس فیصد ٹیکس لگا کر صنعت کو تباہ کردیا۔بعد میں قحط نے کشمیریوں کو زبوں حال کردیا اور بہت سارے پنجاب کے علاقوں میں آئے ۔9مارچ 1846 کو رنجیت سنگھ اور انگریزوں کے جنگ کے بعد ایک معاہدہ ہوا جس میں سکھوں نے ایک کروڑ روپیہ انگریزوں کو ادا کرنا تھا جو وہ نہ کرسکے تو انگریزوں نے کشمیر سمیت چند علاقوں کو قبضہ میں لیا ۔سکھوں کی اس جنگ میں گلاب سنگھ نے ایسا رویہ اپنایا کہ جو بھی فریق ثالث ہو اس سے استفادہ کیا جائے اور یوں اس نے انگریز سے 75لاکھ روپے کے عوض کشمیر خرید لیا ۔جب تقسیم کا مرحلہ آیا تو انگریز اور ہندو دونوں نے منافقت کی اور قادیانیوں کو آلہ کار بنایا ۔شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس نے غیر ذمہ دار رویہ اپنایا اور یوں کشمیر پر ہندوستان نے قبضہ کیا۔اور جیسا کہ آرہا ہے کہ پنڈت نہرو اس قضیے کو جنگ کے بعد اقوام متحدہ لے گئے اس نے 3نومیر 1947 کو ریڈیو تقریر بھی کیا کہ کشمیر اب تک ایک مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ہے اور فیصلہ کشمیریوں نے کرنا ہے۔اب انڈیا نے تو سازشی انداز سے کشمیر کو ساتھ ملایا تھا بعد میں پاکستان نے آزاد کشمیر والا حصہ جنگ کے ذریعے آزاد کروایا ۔پاکستانی تو سرینگر کے ہوائی اڈے تک جاپہنچے تھے لیکن انہیں واپس بلایا گیاکیوں؟یہ تاریخ ہے ۔1962ء میں جب چین نے انڈیا کو بری طرح جنگ میں انوالو کیا تھاانہوں نے جنرل ایوب سے کہا کہ آپ اس جانب سے کشمیر کا مسئلہ فیصلہ کریں لیکن مغربی قوتوں کو پتہ لگ گیا تو انہوں نے ایوب خان سے کہا کہ آپ ایسا نہ کریں یہ ہم بات چیت کے ذریعے فیصلہ کرجائیں گے۔پنڈت جواہر لال نہرو ہی اس مسئلے کو یو۔این ۔او لے گئے تھے جہاں قرارداد کے ذریعے اہالیان کشمیر کو حق خودارادیت دی گئ تھی کہ وہ خود اپنا فیصلہ کریں کہ ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستا ن کا حصہ بنناچاہتے ہیں۔یہ قرارداد بلکہ قرار دادیں آج تک شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکیں؟اگر چہ اس تنازعہ پر دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگیں تو ہوئیں جس کی وجہ سے پاکستان اپنا ایک حصہ بھی کھو بیٹھابلکہ اس کے حوالے سے تو ہمیشہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ اورجنگ کی کیفیت رہتی ہے اور سرحد پر فائرنگ ہوتی رہتی ہے جس میں بے گناہ کشمیری شہید ہوتے رہتے ہیں لیکن دنیانے آج تک اس مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا کیوں؟اس کے ایک سے زیادہ وجہیں ہوسکتی ہیں ۔1۔سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ عالمی طاقتیں بالخصوص سرد جنگ کے دوران روس اور امریکہ دونوں نہیں چاہتے تھے کہ یہ قضیہ فیصلہ ہو تاکہ جنگ کی کیفیت تو کیا جنگ ہوتی رہے تاکہ اسلحہ کے لئے مارکیٹ موجود ہو۔2۔دوسری وجہ یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں وہ ایک کو ہاں کرتے ہیں دوسرے کو وقت دے کر ان کو لٹکائے رکھتے ہیں تاکہ ان کی چودھراہٹ بھی قائم رہے اور مفادات پر بھی زد نہ پڑے۔3۔تیسری بات یہ ہے کہ جس کا مسئلہ ہے ان کی اس مسئلے میں سنجیدگی کتنی ہے اور عالمی فورم پر ان کی حیثیت کتنی ہے اور بہترین حکمت عملی سے انہوں نے کتنے لوگوں کو ساتھ ملایا ہے ۔یو۔این۔او کے قراردادوں کے ذریعہ یہ ایک عالمی مسئلہ تھا لیکن مشرقی پاکستان علیحدہ ہونے کے وقت جو پاکستان کے نوے ہزار قیدی بنے تھے اور مغربی پاکستان کا کچھ علاقہ بھی انڈیا کے قبضے میں چلا گیا تھا کہ جنگوں میں ایساہوتا ہے تو اس کے حل کے لئے جب بھٹو صاحب شملہ جارہے تھے اور بمع اختلافات اور تناؤ کے ساری جماعتوں نے اس کو تائید دی تھی اور ائرپورٹ پر رخصت کیا تھا تاکہ اس کا وہاں جانا نمائندہ جانا ثابت ہو۔تو وہاں پر اس معاہدے میں اس کو دو طرفہ مسئلہ تسلیم کیا گیا اور مقبوضہ وآزاد کشمیر کے درمیان جو سیز فائر لائن تھا اسے کنٹرول لائن قراردیاگیا ۔بقول ماہرین کے اس چیز نے یو۔این۔او کے حوالے سے اس تصور کو ذرا دھندلا کردیا۔ویسے بھی یو۔این ۔او نے کرنا کیا تھا کہ وہ نہ تو ملک ہے نہ جنگ جو قوت ہے وہ تو ایک سیاسی ادارہ ہے اور اس میں تو سیاست ہی کرنی ہوتی ہے ۔کہتے ہیں کہ مشرقی تیمورکو چند دنوں میں انڈونیشیا سے علیحدہ کیا گیا کہ انڈونیشیا مسلمان تھا اور مشرقی تیمور عیسائی تھے ۔

یہ بھی پڑھیں:  عرضداشت اور دستخطی مہم سے بھی معاشرے میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے

تومسئلہ یو۔این۔او کے چیپٹر CHAPTERکا ہوتا ہے کہ متعلقہ قرارداد کس چیپٹر کے تحت منظور کیا گیا؟ تووہ قرارداد بزور بازو والے چیپٹر میں تھا ۔کشمیر والا استصواب رائے یا ریفرنڈم والے چیپٹر میں ہے۔کہتے ہیں جنوبی سوڈان کو جو عیسائی ہیں مسلمان سوڈان سے بہت جلد علیحدہ کردیا۔ہاں وہی مسئلہ ہے کہ عالمی قوتوں کی دل چسپی کیا ہے کیونکہ بات تو طاقت ور کی مانی جاتی ہے تو جنوبی سوڈان کا تیل عالمی قوتوں کی ضرورت تھی وہ نہیں چاہتے تھے کہ یہ مسلمانوں کے پاس رہیں کیونکہ کسی بھی وقت مسلمان اس کو بند کرسکتے ہیں جس طرح عرب اسرائیل جنگ میں شاہ فیصل مرحوم نے کیا تھا۔تو بات ہے قوت اور مفادات کی ۔اب اگر مسلمان ممالک یک جان ہوجائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ فلسطین کو حق نہ ملےیاکشمیر کو حق نہ ملے ۔لیکن ہم مسلمان تو عرب وعجم کے چکر میں پڑے ہیں ،سنی اورشیعہ کے چکرمیں ہیں۔اور تو اور ایک ہی ملک میں ہم پنجابی،پشتون،سندھی،بلوچی یا عرب اور کرد وغیرہ کے کتنے تقسیمات میں بٹے ہوئے ہیں۔اور ہماری توانائیاں ایک دوسرے کو فتح کرنے میں صرف ہورہی ہیں۔ایسے میں اوروں کو کوسنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ہم تو قومی مسئلہ میں اتفاق رائے کے لئے بھی معاوضہ مانگتے ہیں کہ ہم ساتھ دیں گے لیکن ہمیں کیا ملے گا۔جب سوچ اس لیول تک آجائے وہاں پر تو جو کچھ ہاتھ میں ہے اس کے متعلق فکر مند ہونا چاہئے کہ کہیں یہ ہاتھ سے نہ چلاجائے ۔پھر جب تک اقتصادی حیثیت مضبوط نہ ہو ہم منگتے رہیں گے ۔سیاسی استحکام نہ ہو ہر حکومت کے متعلق یہی کہا جارہا ہو آج گیا کہ کل گیا۔اب تک تو ہم اس میں لگے رہتے ہیں کہ کیا ملک کے سارے اہم ادارے ایک پیج پر ہیں؟یہ بھی کسی کو نہیں معلوم ۔روزانہ کے بیانات اس کے غماز ہیں۔اب جبکہ ہندوستان نے آرٹیکل 370 اور35Aکو تبدیل کرکے کشمیر کے خاص حیثیت کو ختم کردیا تو یہ بھی تو کہا جاسکتا ہے کہ یہ حیثیت تو اسے ہندوستان نے یو۔این ۔او کے قراردادوں کے تناظر میں دی تھی تو کیا اب یو۔این۔او کی ذمہ داری بنتی ہے یایہ کہ اس اقدام سے کشمیران قراردادوں سے پہلے والی حیثیت پر واپس چلا گیا؟ہندوستان نے نہ صرف اس کشمیر کو بلکہ آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان اور لداخ کو بھی اپنے نقشہ میں ظاہر کیا ۔مقابلتاً پاکستان نے بھی کشمیر ،لداخ،سیاچین سرکریک ،جوناگڑھ اور منادر کو اپنے نقشہ میں ظاہر کیا اور اس کو کہتے ہیں پولیٹیکل۔اور ساتھ انہوں نے نوٹ لکھا ہے کہ یہ علاقے متنازعہ ہیں۔اور ان پر پاکستان کا دعویٰ ہے۔لیکن یہ علاقے تو جس طرح آج سروے آف پاکستان نے نقشے میں شامل کیے ہیں یہ تو ابتداء سے نقشے میں شامل تھے بعد میں نکالے گئے ۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ کا گورنر ہائوس ،تاریخی آئینے میں

نہ کسی کو احساس ہوااور نہ کسی نے اس کے متعلق پوچھا تھا کہ کیوں ایسا کیا گیا؟ تو اس کو تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان سروے میں واپس اصل نقشہ پر چلا گیا ۔اس وقت کا نقشہ مشرقی پاکستان ،آج کے پاکستان ،آزاد کشمیر کی ساری ریاست پر مشتمل تھا ۔غالباًجب مشرقی پاکستان علیحدہ کیا گیا اور وہ تو نقشے سے نکل گیا تو ساتھ ہم نے مقبوضہ کشمیر اور جونا گڑھ کو بھی نکال دیا۔ اس کی تحقیق ضروری ہے کہ یہ جرم کس نے کیا تھا ۔اب بھی دیر آید درست آید۔لیکن مسائل تب حل ہونگے جب اقتصادی اور سیاسی حالت مضبوط ہو اور خارجہ پالیسی کامیاب ہواور ہم صرف ایک عالمی قوت کو نہ دیکھ رہے ہوں بلکہ دیگران کو بھی اعتماد میں لینے کی صلاحیت پیدا کریں ۔اس کے لئے ساری قوم کو ایک ہونا پڑے گا۔اورہرایک کو بحیثیت قوم سوچنا ہوگا نہ یہ کہ ذاتی یا گروہی مفادات کو اولیت دے کہ ہمیں کیا ملے گا۔کہ مسئلہ کشمیر تحریک پاکستان کا نامکمل حصہ ہے۔لیکن یہاں تو پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ کوئی رائے کا اظہار کرے تو دلیل کےساتھ اس کو جواب دینے کے بجائے طعنہ دیا جاتا ہے ۔تمہارے بڑوں نے تو پاکستان کی مخالفت کی تھی یعنی وہ اگر پاکستانی ہیں اور پاکستان کا ساتھ دیتے ہیں تو تمہیں اس پر بھی اعتراض ہے پھر تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے انہوں نے صحیح کہا تھا ۔خدا کے لئے کچھ اقدار واخلاق بھی ہوتے ہیں ۔انڈیا اس سارے علاقے کا 55 فیصدکنٹرول کررہا ہے جس میں جموں،کشمیر ویلی ،لداخ کاوسیع علاقہ اور سیاچن گلیشئیر شامل ہیں اور اس میں ۷۰ فیصد آبادی ہے پاکستان کے پاس ۲۰ فیصد علاقہ ہے جو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل ہے جبکہ پندرہ فیصد علاقہ جس میں اکسائے چین(اقصائے چین)شامل ہے چین کے پاس ہے ۔یہ غیر آباد علاقہ ہے لیکن شاہراہ قراقرم کی وجہ سے اس کی اہمیت بہت ہے ۔تین جنگوں کے بعد 1989سے داخلی انتفاضہ جاری ہے جو اب کے بہت تیز ہوگیا ہے اور ہندوستان کے اقدامات نے جلتی پر تیل کاکام کیا ہے ۔ہندوستان کو مغرب چین کے سی پیک کے خلاف بھی شہ دے رہا ہے تو ان کو لداخ میں مار پڑی ۔چین جو سی پیک پرارب ہا ڈالر لگارہا ہے تو کیا وہ مفت میں اسے ضائع کرے گا؟کبھی بھی نہیں۔اور چین نے تو اپنی حکمت عملی سے سری لنگا،نیپال،بھوٹان اور بنگلہ دیش کو بھی ساتھ لیا ہے اور اب کے ایران ۔جبکہ رہتا ہے صرف افغانستان ۔اب مسئلہ ریجن تو کیا ایک بار پھر پہلے سے زیادہ عالمی بن چکا ہے اور اس کا سادہ حل ہے اقوام متحدہ کی قراردادیں۔پاکستان کے قوم پرست ایک جانب تو سی پیک کے مغربی روٹ اور انڈسٹریل زون کے لئے سٹیج پر پرزور مطالبے کرتے رہتے ہیں تاکہ ووٹرز کو ساتھ لگاکے رکھیں کہ ہم آپ کے لئے ترقی چاہتے ہیں ۔لیکن دوسری طرف کشمیر کے مسئلے پر نہ صرف یہ کہ چپ سادھ لیتے ہیں بلکہ ان کی خاموشی انڈیا کی تائید ہے ۔تو اگر انڈیا اس خطے میں وہ کرے جووہ چاہے تو سی پیک کا تصور اور ترقی کہاں رہے گی؟تو یا تو وہ اس تضاد کو سمجھتے نہیں یا پھر قوم کو دھوکہ دے رہے ہیں اور یا انڈیا کو تاریکی میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ؎ وقت نے دی ہے تمہیں چارہ گری کی مہلت آج کی رات مسیحا نفسان آج کی راتسو بہر خداحقائق کی دنیا میں رہیں۔یو۔این۔او بھی اس قسم کے معاملات میں اگر عضو معطل رہے گی تو اہمیت کھو بیٹھے گی ۔آخر کب تک؟ستر سال سے فلسطینی اور کشمیری قربانیاں دے رہے ہیں کیا وہ انسا ن نہیں؟اور انسانی حقوق والے کہاں ہیں؟ہیں بھی؟رہی بات جنگ اور جہاد کی ۔تو جہاد حکم خداوندی ہے اور دفع ظلم اور دفع الحرابہ کے لئے فرض ہے۔البتہ شریعت کا فلسفہ اور حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ احوال وظروف کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔سور مکیہ میں بھی تصور جہاد بلکہ حکم جہاد تو اصلاً موجود ہے حج کی طرح ۔لیکن حج عملاً مدینہ منورہ میں فرض کیا گیا جو بقول امام شافعی رحمہ اللہ کے ۶ھ؁ میں اور بقول امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ۹ ؁ھ میں فرض کیا گیا ۔لیکن رسول پاکﷺ نے حج ۱۰؁ھمیں ادا کیا ۔اب جہاد کا بھی تصور تو مکہ میں موجود تھا لیکن وہاں صحابہ کرام ؓ کو حکم تھا دعوت دینے اور ساتھ بحث میں نہ الجھنے کاکہ کہیں یہ بحث جنگ پر نہ چلی جائے جس کے لئے صرف حالات سازگار نہیں .البتہ عملاً جہاد رسول پاکﷺ نے مدینہ منورہ میں شروع کیا۔فطری طور پر رحمۃ للعالمین ہونے کے ناطے آپﷺ مخلوق کو تکالیف میں مبتلا نہ کرتے تبھی تو اولاً دعوت اسلام بعد ازاں قبول جزیہ کا فرماتے اور پھر جنگ کا مرحلہ آتا۔اور حکم ہوا کہ اگر کوئی پناہ مانگے یعنی تسلیم ہو تو اس کو پناہ دیں اور اگر صلح کی درخواست کریں تو حالات کو دیکھ کر اس کا مثبت جواب دیا جائے ۔یعنی صلح کا تصور مطلقاً رد نہ کیا جائےکیونکہ زندگی تو امن میں گزاری جاتی ہے جنگ تو ضرورت کے وقت ہوتی ہے یعنی ظلم اور حرابہ دفع کرنے کے لئے ۔

اور اس وقت پھر یہ لازم ہوجاتا ہے ۔اس وقت ‘‘ومن یولھم یومئذ دبرہ الا متحرفا لقتال او متحیزا الی فئۃ ینصرونہ فقدباء بغضب من اللہ وماواهم جھنم وبئس المصیر’’اور جس نے اس دن پیٹھ کرلیا(یعنی بھاگا )مگر یہ کہ جنگ کے لئے کوئی حربہ کررہا تھا یاکسی گروہ کے ساتھ جڑنا چاہ رہا تھا (تو یہ استثنائی صورتیں ہیں)تو وہ (پیٹھ کرنے والا)اللہ کے غضب میں گرگیا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور کتنی بری جگہ ہے وہ ۔البتہ یہ ہے کہ حرابہ اور ظلم موجود ہو اور جنگ لازم ہوچکا ہو تو جس طرح خالی ہاتھ جنگ میں کودنا شریعت میں صحیح نہیں اس طرح دیگر احوال وظروف کا لحاظ رکھنا بھی لازم ہے۔رسول پاکﷺ نے تب‘‘الحرب خدعۃ’’فرمایا۔کہ جنگ ایک چال ہے ۔یعنی یہ چالوں سے لڑی جاتی ہے ۔اہل موتہ کو حضرت خالد رضی اللہ عنہ نکال کے لایا تھا کچھ لوگوں نے کہا ‘‘فرارون’’بھاگنے والے ہیں۔تو آپ ﷺ نے فرمایا‘‘بل کرارون’’بلکہ لوٹ کے حملہ کرنے والے ہیں۔تو گزشتہ صدی میں افغانوں کی بہادری سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ روس کو شکست دی اور اس صدی میں بھی انہوں نے اپنی تاریخ تاریک نہ ہونے دی. لیکن گزشتہ دور میں مغرب بلکہ پوری انٹی کمیونزم دنیا جنگ میں کود پڑی اگر چہ ڈائریکٹ نہیں بلکہ اسلحہ ،مالی امداد،اعانت مہاجرین اور یو۔این ۔او اور سفارتی محاذوں پر۔انہوں نے اس سے اپنا الو سیدھا کردیا کہ سوویت یونین کو توڑا ۔لیکن افغانستان اور افغانیوں کا اس کے بعد جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے بلکہ بعد میں تو اسلام کے نام پر لڑے جانے والے اس جنگ کو اسلام کے خلاف استعمال کیا گیا ۔توآج کے اس ریجن میں جہاں چین ایک نئی قوت کے طور پر ابھر چکی ہے اور اس ریجن کے ممالک بشمول روس کے اعتماد میں لیا ہے اور ارب ھا ڈالر کی انویسمنٹ کی ہے جبکہ مقابلہ میں امریکہ ایک ہی ملک انڈیا سے پینگیں بڑھا چکی ہیں۔کیا ضمانت ہے کہ جنگ کی صورت میں یہی لوگ انوالو نہیں ہونگے؟ اور اگر ہونگے تو کیا ضمانت ہے کہ ان کوان کے مفادات میں رکوادیا جائے گا اور ایک بار پھر یہی مظلوم لوگ کرش ہونگے اور جنگ کے ایندھن بنیں گے۔کیا ان قوتوں میں کوئی ایک بھی خطے سے وابستہ اپنے مفادات کو قربان کرے گا؟اور وہ انوالو ہو ں تو خطے میں کیا آگ برسائیں گے ان کا کچھ زیادہ نقصان نہیں ہوگا کہ وہ تو مال اور ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں ۔مریں گے تو خطے کے لوگ اور وہ بھی تھوک کے حساب سےاوران کا جو کچھ ٹوٹا پھوٹا انفراسٹرکچر ہے وہ تباہ وبرباد ہوگااور بعد میں خطے کی جو صورت حال ہوگی تو عرب بہار کے بعد عرب ممالک کی صورت حال تو سامنے ہے.اور خدانخواستہ اصل دو فریقوں پاکستان اور انڈیا میں کسی ایک کا بھی اگردماغ گھوم گیا اور جو کچھ ان کے پاس اس کا استعمال کیا تو اللہ کی پناہ!کہ یہ ظلم تو امریکہ دنیا میں ایک بار کرچکا ہے ۔اب قربانی تو کشمیر ی دے رہے ہیں اور 72 سال سے دےرہے ہیں اور ظاہر ہے کہ مقبوضہ کشمیر والوں کے دکھ درد کا زیادہ احساس تو آزاد کشمیر والوں کو ہے کہ وہ ایک ہی باڈی کے دو حصے ہیں اور ہر روز تو ان پر سرحد پار سے بم برسائے جاتے ہیں تو ان کی نمائندگی پر ان کے وزیر اعظم نے پاکستان کے وزیر اعظم کی موجودگی میں کہا کہ آزاد جموں وکشمیر کے نام کی حکومت کا اعلان کیا جائے اور پھر بھرپور سفارتی مہم سے بھارت کی فسطائیت کو پوری دنیا میں بے نقاب کیا جائے کہ وہ اپنی قراردادوں پر عمل کروائیں اور وہ قراردادیں جنگ کی نہیں امن کی بات کرتی ہیں یعنی ریفرنڈم اور استصواب رائے اور خود اختیاری۔آزاد کشمیر کے وزیر اعظم نے کہا کہ شہاب الدین سہروردی نے کشمیر کانفرنس میں یہی سفارش کی تھی اور خود تجویز دی کہ اس سفارتی مہم میں آزاد جموں وکشمیر کا کردار نمایاں ہوکہ بہر تقدیر متاثرہ فریق تو وہ ہیں ہم تو ان کی سفارتی اور اخلاقی تائید کرتے رہتے ہیں یا یوں کہیں کہ وکالت کرتے ہیں توموکل کو لاتعلق نہیں کرنا چاہئے۔البتہ ایک بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ہم سٹیج پر کھڑے ہوکر ایک جانب تو اقوام متحدہ اور اقوام عالم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ قراردادوں پر عمل کروایا جائے اور اسی ہی لمحے ہم کہتے ہیں کہ اس طرح کشمیر آزاد نہیں ہوگاجہاد کریں یعنی ایک ہی وقت میں دو آراء۔اس طرح توقراردادوں کے حوالے سے اقوام عالم بھی ہمیں سنجیدہ نہیں لیتے۔ساری قوم اور ساری قیادت ایک ہی بات پر اتفاق کرے کہ جنگ کرنا ہے یا یو۔این۔او اور اقوام عالم کے ضمیر کو بیدار کرنا ہے ۔اگر ہم اس حوالے سے سنجیدہ ہوئے تو امکان نہیں کہ اقوام عالم ہمیں اگنور کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  وہ کیا حالات تھے جو ملک میں مارشل لاء پر منتج ہوئے

بہت سارے دوست تو بھی ہونگے جو ہمارا ساتھ دیں گے۔لیکن ایک جانب ہم وہ بات کرتے ہیں دوسری جانب وقتاً فوقتاً بھارت سے ایسے راہ ورسم پیدا کرنے لگ جاتے ہیں کہ وہ مسئلہ پس منظر میں چلا جاتا ہے حالانکہ راہ ورسم بھی کبھی پیدا نہ ہوسکے کہ اس میں بھی کبھی تو ہم نے سنجیدگی نہ دکھائی اور بھارت نےتوكبھی دکھائی ہی نہیں کہ اسے بڑی جمہوریہ ،بڑی منڈی مارکیٹ ہونے اور بڑی طاقت ہونے کی زعم ہے۔یہ تووہاں کشمیر میں وقتاً فوقتاً تحریک زور پکڑتی ہے تو ہم پھرجھاگ اٹھتے ہیں حالانکہ مدتوں سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کشمیر کمیٹی ہوا کرتی ہے لیکن پتہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ کمیٹی اس طرف والے کشمیر کے لئے ہے یا اس طرف والے کے لئے یا دونوں کے لئے یا استصواب رائے کو زندہ کرنے کے لئے۔بس بہت ہوا اب مزید اس مظلوم قوم کی خون سے ہولی نہ کھیلی جائے ۔ہر ایک نے مرنا بھی ہے اور خدا کو بھی جواب دینا ہے ۔سنجیدگی سے سفارتی سرگرمیوں سے مسئلے کو اقوام متحدہ میں زندہ کروایا جائے جس کے لئے کسی نئی قرارداد وغیرہ کا سوچنا ناسمجھی ہوگی۔ بس یہی مطالبہ ہے کہ منظور شدہ قراردادوں پر عمل کروایا جائے ۔ از بندہ حرکت واز خداوند برکتاور جو پاکستان کا کھاتے پیتے ہیں وہ پاکستان ہونے کے ناطے سوچے اور بس۔چاہے وہ تقسیم کےساتھ تھے یا خلاف تھے لیکن اب کے زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ وہ پاکستانی ہیں اگر اب بھی ماضی والا تحفظ رکھتے ہیں تو ضمیر ملامت نہیں کرتی ۔ رند کے پیش تو گفتم غم دل دل ترسیدمدل آزردہ شدی ورنہ سخن بسیار استامریکہ نے بھی بیان دیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی ذمہ داری ہے کہ جب تک فریقین کسی اور حل پر متفق نہیں ہوتے تب تک سیکیورٹی کونسل کی تجویز ہی اس کا حل ہے اور یہ فیصلہ برقراررہے گا۔یاد رہے کہ اس مسئلے کے حل کے تجاویز فرانس کی جانب سے سے کونسل کے 539 ویں اجلاس میں ہالینڈ کی جانب سے 566 ویں اجلاس میں ،چین کی جانب سے 765 ویں اجلاس میں ،کینڈا کی جانب سے 235 ویں اجلاس میں ،ارجنٹائن کی جانب سے 240 ویں اجلاس میں اور امریکہ کی جانب سے 768 ویں اجلاس میں بیان کی جاچکی ہیں۔یہ سات دہائیوں کی بوائی ہے ۔13اگست 1948 اور یکم جنوری 1949 کو منظور ہونے والی قرارداد میں کہا گیا کہ اگر فریقین اس منصوبے کے حوالے سے کسی اتفاق پر نہیں پہنچ پاتے تو پھر ثالثی کی گنجائش موجود ہے اور یہ ثالثی کسی ایک ثالث یاثالثوں کی کمیٹی کرے گی جسے عالمی عدالت انصاف کا صدر مقرر کرے۔اور أساسی بات یہ ہے کہ ان قراردادوں کو پاکستان اور انڈیا دونوں تسلیم کرچکے ہیں۔10 نومیر 1957 کونسل کے 566 ویں اجلاس میں ہالینڈ کے نمائندے نے کہا کہ فریقین کے کسی فیصلہ پر نہ پہنچنے سے کشمیری عوام کے حق خودارادیت پر کوئی زد نہیں پڑتی اس کا مقصد وہ ذرائع اختیار کرنا ہے جس کے تحت ریاست جموں وکشمیر کے عوام اپنی رائے کا اظہار آزادی سے کرسکیں۔برطانیہ نے اکتوبر 1948 کو کشمیر میں رائے شماری کرانے کا کہا تھا ۔اقوام متحدہ کے رائے شماری ایڈمنسٹریٹر ایڈمرل نمیزنے یکم نومبر 1950 کو رائے شماری کا کہا تھا ۔ایڈمرل کو اس مقصد کے لئے امریکی وزارت خارجہ نے دفتر بھی فراہم کیا تھا۔انڈیا اور پاکستان کے سفارت کاروں نے اس دفتر کا دورہ بھی کیا تھا اور ایڈمرل کے معاونت جنوبی ایشیا ڈویژن کا سٹاف کررہا تھا۔مارچ 1950 میں انڈین سفارت خانے نے واشنگٹن سے ایک خفیہ تار بھی بھجوایا تھا لیکن اب دنیا یہ سب کچھ بھلا چکی ہے کہ دیگر مسائل نے اہمیت اختیار کی ہے۔تو اب صرف یہی کرنا ہے کہ عالمی ضمیر کو جنجھوڑ ا جائے اور دس دس بار ہر ایک کے دروازے پر دستک دی جائے کہ سنتے ہو ۔یہ آپ لوگوں کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری ہے۔
قاضی فضل اللہ (شمالی امریکہ )