umro-ayyar-new

عمرو بھی اندھا ہو گیا

EjazNews

ایک حکیم جس کا نام مردک تھا۔وہ نوشیرواں کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے نجوم سے معلوم کیا ہے کہ امیر اپنے یاروں کے ساتھ میرے ہاتھ سے اندھا ہوگا۔ نوشیرواں نے کہا اگر ایسا ہو جائے تو اور کیا چاہئے۔ فوراً ترکیب کرو۔ وہ حکیم عمرو کے پسا آیا اور کہنے لگا۔ میں غریب آدمی ہوں لیکن حکمت بہت اچھی جانتا ہوں۔ اگر آپ مجھ پر مہربانی کر کے امیر سے میری سفارش کریں گے تو میری روزی کا ذریعہ بن جائے گا ۔ عمرو نے امیر سے جا کر کہا کہ ایک اچھا حکیم ہے۔ غریب ہے، تمہاری خدمت میں رہنے کوکہتا ہے۔ اس بارے میں کیا کہتے ہو۔ امیر نے کہا اگر حکیم اچھا ہے تو اسے ہمارے پاس رہنے دو۔ تب وہ حکیم عمرو اور امیر کے پاس رہنے لگا اور اپنی حکمت دکھانے لگا جس کو کوئی تکلیف ہو ئی تو دوا دے دی اور وہ ٹھیک ہوگیا۔ آہستہ آہستہ سب اس پر اعتبار کرنے لگے اور اس سے دوا لینے لگے۔ امیر کو بھی اس پر اعتبار آگیا۔

ایک دن امیر کی آنکھوں میں درد تھا۔ امیر نے حکیم سے کہا میری آنکھوں میں درد ہے کوئی دوا دو۔حکیم نے سرمہ لا کر دیا۔ وہ سرمہ امیر نے آنکھوں میں لگایا تو ان کادرد کم ہو کر ختم ہوگیا اور آنکھوں کی روشنی پہلے سے زیادہ ہو گئی۔ امیر کے دوستوں کو پتہ چلا تو انہوں نے بھی امیر سے وہ سرمہ لے کر آنکھوں میں لگایا تو ان کو بھی بہت فائدہ ہوا۔ جب حکیم کا اعتبار خوب جم گیا تو اس نے اندھا کرنے والی دوا سرمہ میں ملائی اور امیر کے پاس لا کر کہا کہ یہ سرمہ پہلے سرمہ سے بھی اچھا ہے۔ آپ اسے لگا کر دیکھیں۔ امیر کوتو حکیم پر اعتبارتھا۔ انہوں نے خود بھی سرمہ لگایا عمرو کو بھی لگوایا اور دوستوں نے بھی اپنی آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ وہ حکیم وہاں سے چلا گیا اور اسی وقت نوشیرواں کے پاس آیا اور کہا بادشاہ کی عنایت سے میں نے امیر عمرو اور ان کے دوستوں کو اندھا کر دیا ہے۔ بختک نے بڑھ کر حکیم کو گلے لگالیا اور کہنے لگا کیسے پتہ چلے گا کہ سب اندھے ہو گئے ہیں۔ حکیم نے کہا جنگ کا نقارہ بجوائیے ابھی معلوم ہو جائے گا۔ تب نوشیرواں نے جنگ کا نقارہ بجوایا۔ امیر نے کہا کیا بات ہے بے وقت کے جنگ کا نقارہ بجا ہے۔ ابھی تو اندھیرا ہے۔ صبح کہاں ہوئی ہے۔ سوچا شاید آنکھوں میں نیند بھری ہے۔ پانی منگوایا منہ ہاتھ دھویا مگر آنکھوں کے سامنے اندھیرناچھایا رہا۔ تب امیر نے کہا۔ دوستو مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ۔ انہوں نے کہا ہم بھی اندھے ہو گئے ہیں۔ عمرو بھی شور کرتاآیا کہ میں اندھا ہوا اب کیا ہوگا۔ دنیا تو اندھیر ہو گئی اب اس میں کیا رنگینی رہی۔ امیر نے کہا شور سے کچھ فائدہ نہیں۔ خدا کا حکم یہی تھا۔ اس کے حکم کے آگے کس کا زور ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کی استاد کے ساتھ شرارتیں(۱)

جنگ کا نقارہ تو بج چکا تھا اس لئے سب تیار ہو کر میدان میں آکھڑے ہوئے۔ نوشیرواں نے کہا اگر یہ اندھے ہوتے تو میدان میں کیوں آتے۔ حکیم نے کہا آپ ایک پہلوان کو میدان میں بھیجں ابھی پتہ چل جائے گا۔ تب ایک پہلوان میدان میں آیا اور مقابلہ کے لئے بلایا تو ہر دم میدان میں گیا اور اس سے لڑنے لگا۔ نوشیرواں نے کہا اگر یہ اندھے ہوتے تو آنکھوں کی طرح کیوں لڑتے۔ نوشیرواں نے کہا سارا لشکر ایک ہی دفعہ ان پر حملہ کرے۔ اب سب لڑنے لگے اور کافروں کوب ھی پتہ چل گیا کہ یہاندھے ہیں۔ امیر نے کہا کافروں کو معلوم ہو گیا ہے کہ ہم اندھے ہیں اس لئے قلعہ میں جانا چاہئے۔امیر ایک قلعہ میں گئے پھر دوسرے میں پہنچے اور چھ مہینے تک اسی طرح اندھے رہے۔

چھ مہینے بعد امیر نے بہت پریشان ہو کر دوستوں سے کہا کہ میرے لئے تم کیوں مصیبت میں پڑے ہوئے ہو۔ مجھے پکڑ کر نوشیرواں کے حوالے کرو اور تم سب اپنے گھرو ں میں جا کر خوش رہو ۔ دوست یہ سن کر رونے لگے اور کہنے لگے ۔ آپ کیسی باتیں کرتے ہیں آپ کو چھوڑ کر کون جائے گا۔ ہم سب آپ کے پاس رہیں گے۔جب امیر بہت پریشان ہوئے تو حضرت خضر ؑ ہزار پتہ لیکر آئے اس کا عرق نچوڑ کر امیر کی آنکھوں میں ٹپکایا۔ اسی وقت امیر کی آنکھوں میں روشنی آگئی۔ انہوں نے کہا یہ آزمائش خدا کی طرف سے تھی۔ اب دوستوں کی آنکھوں میں اس پتے کا رس ٹپکا دو۔ امیر نے سب دوستوں کی آنکھوں میں اس پتے ا رس ٹپکا دیا اور سب کی آنکھوں میں روشنی آگئی۔ عمرو بھی اپنی آنکھوں کی روشنی واپس آنے سے بہت خوش ہوا۔ مگر اس کی خوشی میں بھی سوچیں بھری ہوتی تھیں۔ وہ کرسی پر بیٹھاتھا اورسوچ رہا تھا۔ یہ چھ مہینے ہم نے کیسے اندھیرے میں کاٹے۔ آنکھیں ہوتے ہوئے اندھے تھے اور مجبور تھے۔ ہمیں اس حالت کو پہنچانے والا کون ہے۔اچانک عمرو کرسی سے اٹھا اور یہ کام بختک نے کرایا ہے۔ میں بھی اسے تکلیف دیتا ہوں۔ امیر نے کہا خدا کی مرضی یہی تھی۔ جانے دو۔ عمرو نے کہا ایسے جانے دوں۔ آخر اس نے اپنے آپ کوس مجھ کیا رکھا ہے۔ امیر جتنا سمجھاتے وہ اتنا بگڑتا ۔ آخر رات ہو گئی۔ امیر سمجھا سمجھا کرتھک گئے تھے آخر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کا کمال