adab_masjid

دخولِ مساجد

EjazNews

ترجمہ:اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں نامِ خدا لئے جانے سے (مؤمنوںکو) روکے اور مساجد کی ویرانی میں کوشش کرے ۔(البقرۃ 114)

منافقوں کو مسجد سے نکالنا سنت رسول اللہ ﷺ ہے۔ منافقین کی بنائی ہوئی مساجد ضرار (نقصان دینے والی ہیں) ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایسی مساجد میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا:’’ لاَتَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا‘‘(اے نبی ﷺ! ہمیشہ ہی ایسی مساجد میں نماز نہ پڑھو)۔

حضرت ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے ہاں سب جگہوں سے زیادہ محبوب جگہ مساجد ہیں۔( رواہ مسلم: ص 236)
حضرت برید ہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اندھیرے میں مساجد کی طرف جانے والو ں کے لئے روزِ قیامت نور ملنے کی خوشخبر ی دیجئے۔( رواہ الترمذی: ج 1،ص30،ابن ماجہ: 57 )

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے:جو شخص صبح یا شام مسجد کی طرف جاتا ہے اللہ تعالیٰ اُس کے لئے جنت میں مہمانی تیار فرماتا ہے۔(مسلم: ص 235،بخاری :ج 1،ص91)۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مرد کی نماز جماعت کے ساتھ اس کے گھر اور سوق ( بازار ) والی نماز سے پچیس درجہ افضل ہے۔ جب وہ احسن طریقہ سے وضو کرتا ہے پھر وہ فقط نماز کے لئے مسجد شریف کو جاتا ہے جب وہ قدم اُٹھاتا ہے اس کے مدارج بلند کئے جاتے ہیں، اس کے گنا ہ معاف کئے جاتے ہیں۔ جب وہ نماز پڑھتا ہے ملائکہ اس پر صلوۃ پڑھتے ہیں جب تک وہ مصلیٰ پر ہے (کہتے ہیں) یا اللہ اس پر رحمت فرما، اس پر رحم فرما۔ اور جب تک مرد نما ز کا انتظار کرتا رہتا ہے وہ نماز ہی پڑھتا رہتا ہے۔(بخاری: ج 1،ص89،مسلم :ج1،ص234، ابوداؤد:ص82)

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں شوہر کے حقوق

نفل تحیۃ المسجد
حضرت ابو قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی مسجد شریف میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز ادا کرے۔(بخاری: ج1،ص63، ترمذی: ج 1،ص42،نسائی: ج1،ص 84)
یہ نفل ہے جو تحیۃُ المسجد کی نیت سے ادا کی جاتی ہے ۔

دخول و خروج از مسجد:
مسجد شریف میں داخل ہوتے وقت اپنا داہنا پائوں پہلے اندر رکھے اورسرکار ِدو عالمﷺ پر درود و سلام پیش کرے اوریہ دعا پڑھے:
’’ اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ‘‘
وقت مکروہ نہ ہو تو دوگانہ نفل تحیۃ المسجد کی نیت سے پڑھے ۔(ترمذی ج 1ص42)۔
مسجد میں داخل ہوتے اورنکلتے وقت رسول خدا ، ﷺ پر سلام
حضرت ابو ہریرہ ؓ اور حمید ساعدی ؄ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی مسجد شریف میں داخل ہو تو نبی ﷺ پر سلام پیش کرے ۔(ابن ماجہ:ج1،ص254،حدیث772)۔پھر پڑھے
’’ اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِیْ اَبْوَابَ رَحْمَتِکَ ‘‘
اور جب مسجد شریف سے نکلے تو پھر بھی نبی ﷺ پر سلام پیش کرے۔ (رواہ النسائی: ج 1،ص84، الحاکم فی المستدرک: ص 207)

یہ بھی پڑھیں:  امانت و خیانت کا بیان

مسجد سے گزرتے وقت سرکار دو عالم، ﷺ پر درود و سلام:
ترجمہ:سند کے ساتھ حضرت علی ؓ سے مروی ہے : جب تم مسجد شریف سے گزرو تو سرکارِ دو عالم ﷺ پر درود و سلام پڑھو۔ (جلاء الافہام : ص 228)۔

مسجد شریف سے نکلنے کا طریقہ اور دعا:
مسجد شریف سے نکلتے وقت پہلے بایاں پائوں باہر رکھے پھر سرکارِ دو عالم ﷺ کی ذات ِ با برکات پر سلام پیش کر کے یہ دعا پڑھے’’
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ وَرَحْمَتِکَ‘‘۔(رواہ النسائی :ج 1،ص84)
تنبیہ: مسجد شریف سے نکلتے وقت بایاں پائوں باہر نکالنا مستحب ہے اور جوتا پہنتے وقت دایاں پائوں جوتے میں پہلے داخل کرنا مستحب ہے۔ اس لئے مسجد شریف سے جب بایاں پائوں باہر نکالیں تو جوتے میںپائوں پہلے داخل نہ کریں تاکہ خلافِ استحباب نہ ہو بلکہ جوتے کے اوپر پائوں ر کھ لیں پھر دایاں پائوں مسجد سے نکال کر جوتے میں پہلے داخل کر کے اس کے بعد بایاں پائوں جوتے میں داخل کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  گناہوں کو چھوٹا، کم تر مت جانیے

آدابِ مسجد
مسجد میں گالی گلوچ نہ کریں، تھوک نہ ڈالیں، آواز بلند نہ کریں، دنیاوی باتیں نہ کریں، خرید و فروخت، کھانا، پینا، سونا نہ کریں۔ ہاں اگر بہ نیت اعتکاف ہو تو کھانا، پینا، سونا جائز ہے۔ اعتکاف میں ضرورت کی چیز بھی خرید سکتے ہیں بشرطیکہ خرید ی ہوئی چیز مسجد سے باہر ہو۔ بدبودار اشیاء مسجد میں استعما ل نہ کریں۔