umro ayyar

عمرو کی قسم

EjazNews

جب امیر محل سے واپس آئے اور اپنی کرسی پر آکر بیٹھے تو عمرو کو حکم دیا کہ ژوپین فولادتن کو لاﺅ۔ عمرو نے کہا اسے ہر دم پہلوان نے مار دیا۔ امیر نے غصہ ہو کر ہردم کو دیکھا۔ ہردم نے کہا مجھے کیا پتہ اس پاگل نے کہا ژوپین فولادتن کا منہ کھولو۔ میں نے اس کا منہ کھول دیا اور عمرو نے پگھلی ہوئی قلعی اس کے منہ میں ڈال دی۔ اس سے وہ مر گیا۔ اس میں میرا کیا قصور ہے۔ یہ سن کر امیر کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور عمر کا ہاتھ پکڑ کر کہا ایسے نامور اور بہادر پہلوان کو تم نے کیوں مار ڈالا۔ عمرو نے کہا اس نے تمام پہلوانوں کو بے عزت کیا اس لئے میں نے اس کو مار ڈالا۔ امیر نے کہا اگر کسی اور نے مارا ہوتا تو اسے جان سے مار ڈالتا۔ یہ کہہ کر عمرو کو سات کوڑے مارے اور کہا یہ کوڑے تمہیں اس لئے مارے ہیں کہ تم نے میرے حکم کے بغیر کوئی کام کیا اور یہ بغیر حکم کرنے کی سزا ہے۔ عمرو کوڑے کھا کر باہر نکلا اور کہا ان سات کوڑوں کے بدلے ستر کوڑے نہ ماروں تو مجھے عمرو ضمیری نہ کہنا۔ یہ کہہ کر عمرو نوشیرواں کے پاس گیا اور کہا اے بادشاہ میں اس عرب کی خدمت میں اتنے سال تک رہا۔ آخر اس نے ایک کافر کے لئے مجھے سات کوڑے مارے۔ اب میں اس کے پاس نہیں جاﺅں گا۔ اگر حکم ہو تو یہاں رہوں۔ نوشیرواں نے یہ سنا تو بہت خوش ہوا۔ اور کہا شوق سے یہاں رہو۔ اور اس کو سونے کی کرسی پر بٹھایا۔ اسے خلعت دی اور بہت خاطریں کیں۔ وہ تویہی چاہتے تھے کہ وہ امیر کا ساتھ چھوڑ دے اب ان کے دل کی تمنا پوری ہو گئی تھی اور سوچنے لگے کہ شاید اب ہم کامیاب ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کا انتقام

عمرو کے غائب ہوجانے کا امیر کو معلوم ہوا تو وہ اس کی فکر میں رات بھر جاگتے رہے کہ جانے نارا ض ہو کر کیا کر بیٹھے۔ صبح ہوئی تو امیر نے سب سے پوچھا کہ عمرو کا کچھ پتا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ کہہ کر گیا ہے کہ سات کے بدلے ستر کوڑے مارے گا۔ امیر نے کہا اگر اس نے کہا ہے تو ضرور مارے گا۔ امیر نے اپنے سرداروں کو خبردار کر دیا کہ اگر عمرو میرے خیمے کی طرف آئے تو اسے پکڑ لینا۔ اب کوئی نہ کوئی جاگ کر ان کے خیمے کا پہرہ دینے لگا ۔ عمر و ہر روز آکر دیکھتا اور موقع نہ پا کر چلا جاتا۔ ایک دن امیر سو گئے کہ میرے خیمے کا پہر تو ہو رہا ہے اسی دن عمرو آیا جو پہرہ پر تھا اس کو بے ہو ش کیا۔ امیر کو بیہوش کرنے کی دوا ہاتھ میں لی اور یو سوچ کر دو کھڑا رہا کہ اگر میں پاس گیا تو امیر میرے کان پکڑ لیں گے۔ اب قری بجائے بغیر بے ہوشی کی ترکیب سوچنے لگا۔ اس نے ایک لمبی نلکی لی اس میں دوا ڈالی اور نلکی امیر کی ناک کے پاس لے جا کر پھونک مار دی۔ دوا امیر کے ناک میں جا کر دماغ میں چڑھ گئی۔ امیر کو چھینک آئی اور وہ بیہوش ہو گئے۔ عمرو نے امیر کو باندھا اور لے چلا۔

یہ بھی پڑھیں:  عمروکی چالاکی

جنگل میں جا کر ایک درخت کے ساتھ امیر کو باندھا اور ہوش میں لایا۔ امیر نے اپنی حالت دیکھی تو حیران رہ گئے۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ عمرو مجھے یہاں تک کیسے لے آیا۔ عمرو نے ستر لکڑیاں گن کر امیر کو ماریں اور کہا میرا بدلہ پورا ہوا۔ تب امیر نے کہا کعبہ کی قسم میں تیرا خون ضرور گراﺅں گا۔ یہ کہہ کر زور لگایا اور رسیاں تڑالیں۔ عمرو نے دیکھا کہ یہ تو آزاد ہو گئے تو عمرو بھاگنے لگا۔ امیر نے کہا کہاں تک بھاگے گا۔ میں تیرا خون ضرور کروں گا۔ عمرو یہ سن کر ڈر گیا اور سمجھ گیا کہ یہ اپنی قسم ضرور پوری کریں گے۔ واپس آتے ہوئے بولا۔ امیر میری ایک بات سن لیں۔ میں ایک حکمت کی بات آپ کو بتاتا ہوں۔ امیر نے کہا۔کیا بتاتے ہو۔ عمرو نے کہا تمہاری قسم پوری کرنے کے لئے ایک نشتر مار لیتا ہوں جس کے لگنے سے میرا خون زمین پر گرے گا تو خون کرنے کی طرح ہوگا۔ امیر نے کہا اے چور، چل حکمت کرنہیں تو کام مشکل ہو جائے گا۔ عمرو نے امیر کو نشتر دیا۔ امیر نے عمرو کو نشتر مارا تو عمرو کا خون نکلا۔ وہ خون زمین پر گرا ا ور امیر کی قسم پوری ہو گئی۔ اب یہ دونوں مل کر لشکر میں آئے او ر ہنسی خوشی رہنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں:  عمروکی گھبراہٹ