beat ul moqdas

بیت المقدس کی بازیابی اور مسلمان

EjazNews

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور فتح فلسطین ۶۳۶ءسے ۹۱۹۱ءتک سوائے ایک سو سال کے عرصہ کے فلسطین پر برابر مسلمانوں کی حکومت رہی۔ عیسائیت کا قبضے فلسطین کا ایک سو سالہ دور بھی کچھ کم بھیانک اور دہشت انگیز نہ تھا۔ لیکن یہودیوں کے ارض فسلطین پر قبضہ کے بعد کے مظالم نے تو ہلاکو اور چنگیز خاں کے مظالم کو بھی مات کر دیا ہے۔ دراصل صلیبی جنگوں میں عیسائیت کی شکستیں ابھی تک عیسائی دنیا کے دماغ پر مسلط ہیں چونکہ امریکہ اور مغربی طاقتیں خود مذہب اور سیاست کے ملاپ سے تنگ آچکے ہیں اور عام زندگی میںمذہب کے دخل کو کسی طرح بھی گوارا نہیں کرتیں۔ اس لئے انہوں نے یہودیوں کی اس سرزمین سے مذہبی وابستگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطین کو یہودیوں کے حوالے کر دیا ہے۔ مذہب اور سیاست میں یکجائیت کی اس وقت صرف تین دین قائل ہیں۔ مسلمان، یہود اور سکھ۔ یہ تینوں اپنے دین کے دفاع کے لئے لڑتے ہیں اور پورے مذہبی جوش سے لڑتے ہیں۔ دیگر اقوام کی جنگیں محض سیاسی یا باطنی جنگیںہوتی ہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے یعنی محض ان جنگوں میںدینی اور والہانہ جذبہ پیا کرنے کے لئے ان لوگوں نے جذبہ قومیت کا فلسفہ ایجاد کیا ہے اور وہ اپنے عوام سے قومیت کے نام پر اپیل کر کے ان سے ایثار اور قربانی کا مطالبہ کرتے ہیں، افسوس کہ عالم اسلام نے بھی اپنی جنگوں سے جذبہ جہاد یعنی قتال فی سبیل اللہ کو خارج کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے آج ایک ارب مسلمان اور کروڑوں عرب لاکھوں یہودیوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ یہودیوں کا ارض فلسطین پر قبضہ عیسائی دنیا کے اس معاندانہ لاشعوری جذبہ کی تسکین کا ایک ذریعہ ہے۔ جو وہ عالم اسلا م کے خلاف رکھتے ہیں۔ صرف یہودی ہی مسلمانوں سے ایک دینی اور مذہبی جنگ لڑ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے مغربی ممال نے یہودیت کا شجر عالم اسلام کے عین قلب میں پیوست کر رکھا ہے اور اسی کے ذریعے وہ عالم اسلام کو محکموم رکھ کر اپنے مذموم مقاصد کو تکمیل کی غرض کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔تحریک آزادی فلسطین اپنا وطن حاصل کرنے کے لئے اپنا سب کچھ نثار کر رہی ہے۔ لیکن وہ تن تنہا اس بازیابی کے اس کام کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتے۔ عالم اسلام اس کھلی اور جابرانہ سازش کے سامنے اتنا بے بس ہو چکا ہے اب کھلم کھلا اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کئے جانے کے مطالبے عالم اسلام سے خصوصاً کئے جا رہے ہیں۔ گویا اب یہ مطالبہ بھی کہ اسرائےل ان عرب علاقوں کو بھی خالی کر دے جن پر اس نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ ثانوی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔بنا پردہ پورے عالم اسلام کو متحد بھی کر سکتے ہیں اور امریکہ کے کاسہ لیسوں سے بھی نپٹ سکتے ہیں۔ اسلام دشمن طاقتوں نے افریقہ میںمسلمانوں کو کمزور کرنے کی خاطر یوگنڈا سے عدی امین کو نکالا اور وہاں ایک عیسائی کو اقتدار سپرد کر دیاتھا اور کئی ایک افریقی مسلمان ممالک میں حکومتوں کا تختہ اُلٹ دینے کی سازشوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہتے ہیں۔ دریں حالات کیا مسلمان بیت المقدس کو واپس لے سکتے ہیں؟ اسرائیل کے زندہ رہنے کے حق کو صرف اس وقت تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ جب وہ عالم اسلام کے ہتھیائے ہوئے علاقے واپس کر دے اور اس کے بعد بھی اسرائیل کا تسلیم کیا جانا مسلمانون کی امن پسندی کی ایک واضح دلیل ہو گا۔ ورنہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرنا مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑی بد قسمتی ہے۔ کاش مسلمانوں میںکوئی ایسا بطلِ جلیل پیدا ہو جو مسلمانوں کو ایک جگہ جمع کر کے اسے معاندین کے سامنے ایک آہنی دیوار بنا دے۔ بیت المقداس کی بازیابی، اسرائیل کی چیرہ دستیوں کا انتقام لینے اور سب سے بڑھ کر مستقبل کے خطرات کو ملیامیٹ کرنے کا واحد راستہ یہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پجاب میں اولیاء اللہ کے مزارا(۳)

امریکہ مغربی دنیاکی عیسائیت اور یہود کا یہ گٹھ جوڑ جس میں حسب موقع اشتراکی درس بھی ان کا ہم نوا بن جاتا ہے۔ عالم اسلام کے لئے ایک شدید انتباہ ہے۔ بات صرف اسرائیل کو تسلیم کر لئے جانے تک ہی محدود نہیں رہے گی۔ کیونکہ اسرائیل کی عالم اسلام کے دیگرعلاقوں پر بھی نظر ہے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی کی وفات ۳۲ صفر ۹۸۵ ھ میں ہوئی۔ بیت المقدس کے حوالے سے اس عظیم شخصیت کا جتنا بھی ذکر کیا جائے کم ہے اللہ جل شانہ¾ کے کام نیارے ہیں۔ ۲۲۵ میں جب یہی صلاح الدین تکریت میں پیدا ہوا تو اسے اس وجہ سے منحوس سمجھا گیا کہ اس وقت ان کے والد نجم الدین کو تکویت چھوڑنا پڑا تھا۔ یہی صلاح الدین آگے چل کر فاتح بیت المقدس بنا اور ایسے ایسے کارنامے انجام دئیے کہ ان کی عظمت کے اپنے بیگانے سب معترف ہیں صلیبی معرکوں میں عیسائی فوجوں کی بربیت کا سلطان صلاح الدین کے عدل و انصاف سے مقابلہ کرتا ہوا لین پول لکھتا ہے کہ جب ہم سلطان کے احسانات پر غور کرتے ہیں تو ہمیں وہ وحشیانہ حرکتیں یاد آجاتی ہیں جو صلیبیوں نے فتح بیت المقدس کے وقت کی تھیں۔ آج عیسائیون کو یہ بتانا ضروری ہے کہ ان کا وجود ہی سلطان کے انصاف کا رہن منت ہے وہ اگر چاہتا تو یورپ سے عیسائیوں کا نام و نشان مٹا دیتا۔ لیکن سلطان نے قرآنی احکام پر عمل کرتے ہوئے انہیں صرف اتنا ہی نقصان پہنچایا جتنا وہ مسلمانوں کو پہنچا چکے تھے اور ان سے مفتوحہ بیت المقدس واپس لے لیا۔ مسلمان فاتح بادشاہوں میں بڑے فاتح بادشاہ گزرے ہیں لیکن ملکی معاملات اور فتوحات کے سلسلے میں ان کا کردار اتنا بلند نہیں کہ ان پر کہیں بھی انگلی نہ رکھی جا سکے صرف سلطان صلاح الدین ہی وہ واحد شخصیت ہیں جو فاتح ہیں اور ایک عابد و زاہد پرہیز گار مسلمان بھی ان کی وفات کا سبب وہ قضا کے روزے تھے۔ جو وہ حکیم اور معالج کے انتباہ کے باوجود رکھ رہے تھے۔ سلطان نے کہا ”نہ معلوم آئندہ کیا پیش آئے“ اس سے صحت مزید بگڑ گئی جہاد کی پرُ محن زندگی کی وجہ سے وہ پہلے ہی کمزور ہو چکے تھے۔ وفات سے تین دن قبل غشی طاری ہو گئی جو آخر تک قائم رہی اس دوران شیخ ابو جعفر نے تلاوت شروع کی جب اس آیت ھو الذی لا الہ ال ھو عالم الغیب والشھادة پہ پہنچے تو سلطان نے دفعتہ آنکھ کھول دی زبان سے نکلا سچ ہے لبوں پر تبسم اور چہرے پر بشادت طاری ہوئی اور پھر ہمیشہ کے لئے آنکھ بند کر دی۔
نشانِ مرد مومن باتو گویم:۔ چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست

یہ بھی پڑھیں:  سوچ کا انداز فکر بدلئے

شام، فلسطین اور مصر کے اس جلیل القدار فرمانروا نے اپنی ملکیت میں ایک دینار اور چالیس درہم چھوڑے حالانکہ انہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار دولت خدا کی راہ میں صرف کی اس املاک سے تجہیز و تکفین کے مصارب کیسے پورے ہو سکتے تھے۔ قاضی فاضل نے حلال و طیب مال سے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا۔ بہا الدین شداد نے جو خلوت اور جلوت میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہے ان کے حالات لکھے ہیں، سلطان کو نماز باجماعت کا اتنا اہتمام تھا۔ کہ بیماری کی حالت میں امام کو گھر بلا کر نماز ادا کی جاتی ویسے انہیں برسوں تنہا نماز پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ تہجد پابندی کے ساتھ ادا کرتے تھے سنت موکدہ تک ترک نہ کرتے تھے۔ جب تک ہوش و حواس عین رہے نماز نہ چھوڑی۔ سفر میں نماز کا وقت آجاتا تو سواری سے اتر پڑتے اور نماز ادا کر کے آگے روانہ ہو جاتے۔ کبھی اتنا روپیہ جمع نہیں کیا کہ زکوٰة واجب ہوتی۔ جو کچھ ہاتھ آتا خدا کی راہ میں دے دیتے ہر سال حج کا ارادہ کرتے لیکن جہاد سے فرصت نہ ملتی صلیبیوں سے مصالحت کے بعد ۸۸۵ءمیں پختہ ارادہ کیا اور مالی انتظامات بھی کئے۔ لیکن مصارف نہ ہونے کی وجہ سے ارادہ ایک بار پھر ملتوی کرنا پرا۔ موت نے حج کی مہلت نہ دی کلام مجید کے سماع کا بڑا شوق تھا شب کو اور بعض دفعہ دن کو قرآن مجید پڑھوا کر سنتے۔ ان کی عدل پروری کے واقعات تو عیسائین مورخین سے بھی خراج تحسین وصول کر چکے ہیں۔ خدا رحمت کندایں عاشقان پاک طینت را۔

آج مسئلہ فلسطین کی سنگینی اور پیچیدہ الجھنوں کے سبب ہمیں سلطان صلاح الدین ایوبی کی زندگی اور ان کے کردار کا بہ تفصیل مطالعہ کرنا چاہئے کیونکہ یہی وہ شخصیت تھی جس نے مشکل ترین حالات کے باوجود صلیبیوں کے سفاک اور ظالم انبوہ کثیر کا مقابلہ کیا۔ یہ انبوہ کثیر مسلمانون کی سر زمین اور ان کی حکومت کے اس قدر خلاف تھا کہ انہوں نے بیت المقدس تک پہنچنے کی تگ و دو میں اپنی عیسائی حکومتوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور اپنے عیسائی بھائیوں کو بھی لوٹنے سے دریغ نہیں کیا۔ سلطان صلاح الدین جنہیں عمر بن عبدالعزیز ثانی کہا جاتا ہے۔ ساری کامیابیاں ایمان کی پختگی اور عمل کے استحکام کے سبب نصیب ہوئی تھیں ان کے اسلامی کردار سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اگر قائم راست باز اور مخلص ہو تو عوام میں سے لاکھوں افراد اس کی پیروی کرنے کے لیے نکل آتے ہیں۔ سلطان کی عظمت کا ثبوت مغربی مورخین کی وہ بیشتر تحریریں ہیں جو انہوں نے محض سلطان کے کردار کو داغدار کرنے کے لئے لکھی ہیں تاکہ آنے والی مسلمان نسلیں ان کی راہ اختیار کرنے سے گریز کریں ان کے بارے میں فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں ایسے فحش اور بھونڈے قصے بیان کئے گئے ہیں کہ ان کی نسبت اور تو اورکسی شریف انگریز یا فرانسیسی سے بھی نہیں کی جا سکتی ان میں سلطان اور ہنری دم کی ملکہ اور رچرڈ کی والدہ ایلز کے شرمناک قسم کے تعلقات تک کے تذکرے ہیں اس طرح کا ایک قصہ یہ ہے کہ سلطان نے موت سے قبل اصطباح لے لیا تھا اور اس نے ایک مسیحی خیرات خانہ میں جان دی تھی اور یہ کہ وہ سینٹ نکوس کے قبرستان میں اپنی ماں کے پہلو میں دفن ہے حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ سلطان دمشق میں مدفن ہے ۔ اس طرح سلطان کے کرسچن آرڈر آف نائٹ ہوڈ قبول کرنے اور اس کی رسم ادا کرنے کے قصے بھی مشہور ہیں جو انتہائی لچر اور لغو ہیں یہ سب کچھ سلطان کے کردار کو داغدار کرنے اور ان کے کارناموں کو کم کر کے دکھانے کے لئے کیا گیا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ سلطان جیسی دین دار اور متدین شخصیت ان کے بعد مسلمانوں میں شاید ہی پیدا ہوئی ہو۔ یہ سلطان صلاح الدین ہی تھا۔ جس نے تن تنہا متحدہ عیسائی دنیا کا مقابلہ کیا اور انہیں عبرت آمیز شکستیں دیں۔ سلطان نے عیسائی دنیا پر مسلمانوں کا ایسا رعب طاری کیا کہ چوتھی صلیبی خود آپس میں لڑ جھگڑ کر بیت المقدس تک پہنچنے سے پہلے ہی تتر بتر ہو کر ختم ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھکاریوں کی بجائے حقداروں کو ڈھونڈیں

ملت اسلامیہ میں جب تک ان جیسے کردار کے لوگ پیدا نہیں ہوتے بیت المقدس کی بازیابی مشکل ہے خدا ہمیں اپنے رسول مقبولﷺ اور سلطان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا کرے کہ یہی ہے امتوں کے مرض کہن کا چارہ۔