umro ayyar

عمرو کی لڑائی

EjazNews

اب نوشیرواں اجان کے بادشاہ کیوس کے پاس پہنچا اور وہ امیر سے لڑنے پر تیار ہوا۔ امیر جب اس جگہ پہنچے تو کیوس میدان میں آیا۔ اپنا نیزہ گھمایا اور کسی کو لڑنے کے لئے لایا۔ قیمار خاوری میدان میں آیا اور کیوس سے مقابلہ کیا۔ کیوس نے اپنا زہر والا نیزہ گھمایا۔ اس کی چمک سے قیمار خاوری کی آنکھیں بند ہو گئیں اور انہیں کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ قیمار نے ڈھال منہ پر کرلی ۔ کیوس نے نیزہ مارا قیمار نے ڈھال کے جھٹکے سے نیزے کا وار خالی دیا مگر نیزے کی نوک قیمار کی ران پر لگی۔ لگتے ہی اس کی ران سوج گئی۔ تکلیف سے ان سے کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا اپنے لشکر میں آیا اور آتے ہی بے ہوش ہو گیا۔ عمرو نے قیمار کی ران پر دوا لگائی اور پٹی باندھ دی اور خود مقابلے پر آیا۔ کیوس نے کہا تم کیوں آئے ہو نادان، دیوانے، مسخرے۔ تم نے دیکھا نہیں میں نے ایسے پہلوان کو ایک ہی نیزہ سے مار دیا ہے۔ عمرو نے کہا وہ تو اچھا بھلا ٹھیک ٹھاک ہے۔ کیوس نے کہا اے بے وقوف دیوانے ، تو کیا جانتا ہے ابھی تھوڑی دیر میں دیکھنا کیسا ٹھیک ہوتا ہے۔ عمرو نے کہا باتیں مت بنا۔ اگر مرد ہے تو مجھے مار ۔ یہ کہہ کے عیاری کی غلیل نکالی اور اس میں پتھر لگایا۔ کیوس نیزہ ہلا کر عمرو پر آیا۔ عمرو نے غلیل کا پتھر چلایا جو کیوس کے گلے کی رگ میں لگا اور اتنے زور سے لگا کہ کیوس کی آنکھیں پھرنے لگیں تکلیف سے وہ پاگل ہو رہا تھا۔ اتنے میں عمرو نے دوسرا پتھر کھینچ کے مارا ۔ اس کے ہاتھ سے نیزہ گر گیا۔ عمرو نے دوڑ کر وہ نیزہ اٹھا لیا ۔ کیوس نے زور سے کہا اے عیار میری جنگ تیرے ساتھ نہیں ہے۔ میرا نیزہ واپس کر۔ عمرو نے کہا جو چیز میرے ہاتھ میں آجائے اسے تو کیا تیرا باپ بھی نہیں لے سکتا ۔ اسی وقت شام پھر رات ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کی استاد سے شرارتیں(۲)

دونوں لشکر لڑائی ختم کر کے اپنی جگہ پر گئے اور عمرو وہ نیزہ لے کر امیر کے پاس آیا اور ان کو دکھایا۔ امیر نے کہا یہ زہر میں بجھا ہوا نیزہ ہے اس کا زہر دور کرو اور یہ نیزہ سعد یمانی کو دے دو تا کہ وہ کیوس کے ساتھ نیزہ سے لڑے۔ سعد یمانی کیوس سے لڑا اور اس نے اسے بھی زہریلے نیزہ سے زخمی کر دیا۔ آخر امیر نے اس پر فتح پائی اور یہاں سے آگے روانہ ہوئے۔ نوشیرواں نے ایک پہلوان ژوپین فولادتن کو امیر سے لڑنے پر آمادہ کر لیا۔ اس نے میدان میں آکر لڑنے کو بلایا اور ایک ایک کر کے امیر کے دوست گئے اور زخمی ہو کر واپس آئے آخر امیر اس کے مقابلہ پر آئے اس کے ساتھ لڑ کر اسے سر سے اوپر اٹھایا اور گھماکر زمین پر پٹکا اور ہاتھ پاﺅں باندھ کے عمرو کے حوالے کیا اور خود بیٹوں سے ملنے گئے۔ تب امیر کے دوستوں نے عمرو کو آکر کہا کہ ژوپین فولادتن نے ہماری بہت بے عزتی کی ہے اب ہم اس کو کیا منہ دکھائیں گے۔ یہ کیا سمجھے گا کہ ہم میں سے کوئی بھی اسے ہرا نہ سکا۔ تب عمرو نے کہا کہ اسے مار ڈالنا چاہئے نہ یہ ہوگا نہ کسی کو طعنہ دے سکے گا۔ انہوں نے ہاں یہ ٹھیک ہے ۔ عمرونے قلعی گلا کر اس کے گلی میں ڈالی تو وہ مرگیا۔

یہ بھی پڑھیں:  عمروکی عقلمندی