umro_ayar

عمرو پھر آ پہنچا

EjazNews

امیر کے دشمنوں کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ امیر نے دنیا داری ترک کر دی اور فقیری اختیار کی ہے تو ہر دشمن کا بیٹا امیر سے بدلہ لینے کی آرزو کرنے لگا۔ جس نے قباد شہریار کو مارا تھا اس کا بیٹا امیر سے بدلہ لینے نکلا اس کا نا م کلیات تھا۔ فرید زعکہ جس کو حمزہ کے پوتے نے مارا تھا اور اس کا بیٹا قارون نام کا کلیات کے ساتھ مل گیا۔ کلیات نے حمزہ کو کہاکہ میں اپنی باقی عمر آپ کی خدمت کر کے گزار دینا چاہتا ہوں۔ امیر نے منع کیا مگر وہ باز نہ آیا۔ آخر امیر نے رہنے دیا بعد میں تینوں نے مل کر کھانا کھایا ۔ وہ پانی لینے گیا تو پانی میں بیہوشی کی دوا ملا لایا۔ امیر اور مقبل نے پانی پیا اور کلیات قارون کے پاس آیا کہ میں امیر کو بے ہوشی کی دوا پلا آیا ہوں۔ جلدی سے چلو۔ جب وہ آیا اور امیر و مقبل بے ہوش ہوگئے تو امیر کو بیڑیاں اور ہتھکڑیاں اور گلے میں طوق پہنا دیا اور بعد میں امیر کو ہوش میںلائے اور قارون امیر کو لکڑی سے مارنے لگا۔ امیر نے کہا اتنا مار جتنا سہہ سکے ۔اس نے کہا تجھے میں مار رہا ہوں مجھے کون مارے گا۔ وہ روز مارتا اور مارنے کے بعد چمڑے میں نمک چھڑک کر اس میں امیر کوبند کرنے کے بعد ایک ستون کے ساتھ لٹکا دیتا۔ دوسرے دن پھر مارتا۔ پھر اس نے نوشیرواں کو لکھا کہ میں حمزہ کو اس طرح عذاب دے رہا ہوں اگر آپ مارنا چاہیں تو اور اچھا ہے۔ نوشیرواں آیا۔ قارون کو انعام دیا اور حمزہ کو اپنے سامنے منگوایا۔

عمرو جزیرہ عدن چلا گیا تھا۔ حمزہ کے والد حضرت عبد المطلب نے حمزہ کے پکڑے جانے کی خبر عمرو کے با پ عمیہ ضمیری کو لکھ کر دی کہ امیر کے دوستوں تک پہنچا دو۔ عمیہ ضمیری جوتے میں کاغذ چھپا کر جارہا تھا کہ کلیات نے دیکھ کر پہچانا کہ یہ کوئی عیار ہے۔ سب کو دوڑ کر اسے پکڑ لیا اورنو شیرواں کے سامنے لے گئے نوشیرواں کے حکم سے اس کی تلاشی لی گئی تو اس کے پاس سے عبدالمطلب کا خط نکلا۔ یہ دیکھ کر کلیا ت نے عمیہ ضمیری کا سر کاٹ لیا۔ بختک نے کہا اے کلیات جس کو تونے مارا ہے یہ عمرو کا باپ ہے اب بے فکر ہو کر نہ رہنا۔ اسے پتہ چلا تو تم پر آپڑے گا۔ کلیا ت نے کہا میں کسی سے نہیں ڈرتا۔

دوسرے دن عمرو مکہ آیا۔ کلیات نے عمرو کے آنے کی خبر سنی تو پہاڑ پر ایک عیار بٹھا دیا کہ وہ اس پر نظر رکھے ۔ عمرو دور سے نظر آیا اور آگے چلا۔ کلیا ت نے عمرو کا پیچھا کیا ۔ راستے میں ایک پھول میں عمرو نے بے ہوشی کی دوا ڈالی اور پھول کو راستے میں ڈال دیا، کلیا ت نے راستے میں دیکھا کہ ایک بہت خوبصورت پھول پڑا ہے۔ اس نے پھول اٹھا کر سونگھا تو بے ہوش ہوگیا۔ عمرو نے پیچھے پلٹ کر اس کو پکڑا اور اس کا سر کاٹ لیااور جلدی سے اس ستون کے پاس چلا گیا جہاں امیر چمڑے میں بندھے تھے۔ مقبل کوبندھا دیکھ کر سلام کیا۔ مقبل نے سلام کا جواب دے کر کہا اے اسلام کے لشکر کے چراغ اتنے دن تک کہاں رہا جو ہماری مدد کو نہیں پہنچا۔ عمرو نے کہا بے فکر ر ہو اب پہنچتا ہوں۔ یہ کہہ کر کلیا ت کا سر نیچے باندھا اور خود ستون پر چڑھنے لگا۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو بھی اندھا ہو گیا

کافروں نے نیچے سے اوپر تک گھنٹے لٹکائے ہوئے تھے کہ اگر کوئی چھڑانے آئے تو گھنٹے بج جائیں اور ان کو خبر ہو جائے۔ عمرو گھنٹوں سے بچتا ہوا چڑھا اوپر جا کر امیر کو سلام کیا۔ امیر اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہا دیکھ کہ، اگر کافر گھنٹے کی آواز سنیں گے تو ہوشیار ہو جائیں گے۔ عمرو احتیاط کرتا آیا تھا مگر اس کے سر کے اوپر ایک گھنٹی تھی اس کو عمرو نہ دیکھ سکا۔ بے خبری میں عمر وکا ہاتھ اس گھنٹی پر پڑا تو گھنٹی بج اٹھی۔ اس کی آواز سے کافر ہوشیار ہوئے اور روشنی کر کے تیر مارنے لگے۔ عمرو نے دونوں ہاتھ امیر کی پیٹھ پر رکھے اور چھلانگ لگا کے زمین پر آیا اور غائب ہوگیا ۔

جب کافر ستو ن پر آئے اور اس کے نیچے کلیا ت کا سر دیکھا تو سمجھ گئے کہ عمرو آیا تھا۔ یہ کام صرف عمرو کر سکتا ہے اس کے علاوہ کسی کی اتنی ہمت نہیں ۔ قارون کو جب پتہ چلا کہ کلیات مارا گیا ہے تو وہ ڈرگیا۔ اس نے بختک سے کہا جب تک عمرو کو نہ پکڑ لو حمزہ کو نہ مارنا۔ عمرو نے آج تک کسی کو عیاری سے نہیں مارا۔ اگر حمزہ مارا گیا تو عمرو تیرا اور میرا سر کاٹ لے گا۔ اب عمرو نے امیر کے سب دوستوں کو امیر کی گرفتاری کی خبر پہنچادی۔ امیر کاسارا لشکر جمع ہونے لگا۔ قارون نے نوشیرواں سے کہا کہ اب تک امیر کے لشکر کو خبر نہ تھی جب سے عمروآیا ہے سب کو جمع کر رہا ہے۔ اگر حمزہ کو مار دیا تو بہت مصیبت آئے گی۔ آپ میرے شہر چلیں اور حمزہ کو قید میں رکھیں۔ نوشیرواں نے کہا ہاں یہ تو ٹھیک ہے کہ اگر حمزہ کو مارا تو عمرو ہم کوزندہ نہ چھوڑے گا۔ یہ کہہ کر قارون کے شہر چلے گئے اور امیر کو روز مارتے اور ایک گلاس پانی دیتے۔ جب امیر کا لشکر جمع ہو گیا تو قارون کہنے لگا۔ اے نوشیرواں میں اس لشکر کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور یہ کہہ کر قلعہ بند ہوگیا ۔ ایک دن عمرو قلعہ کے اندر گیا اور وہاںکے ایک کپڑا بیچنے والے سے دوستی کی۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کا استاد سے بیر

قارون کی ایک بہن فرزانہ کو خواب میں حضرت ابراہیم ؑ نے کہا کہ حمزہ کو قید سے چھڑا کر اس سے شادی کرو تو خدا تمہیں اس سے بیٹا دے گا۔ اس نے چوکیداروں کو ساتھ ملایا اور امیر کو چھڑا لائی اور اپنے گھر لا کر امیر کی دیکھ بھال کرنے لگی۔ صبح جب قارون حمزہ کو مارنے پہنچا تو حمزہ کو نہ پایا۔ اپنے وزیر سے کہا کہ حمزہ اپنے لشکر تو نہیں پہنچا ورنہ وہ خوشیاں مناتے۔ فال دیکھ کر بتاﺅ کہ حمزہ کہا ں ہے۔ اس نے کہا فرزانہ کے گھر عیش کر رہا ہے۔ قارون نے اپنی بہن کو کہلوا بھیجا کہ حمزہ تیرے گھر میں ہے اسے جلدی سے بھیج دے مجھے وزیر نے فا ل دیکھ کر یہ بات بتائی ہے۔ فرزانہ نے کہلا بھیجا کہ وزیر کی مجھ پر نیت خراب ہے میں نے کہنا نہ مانا تو اس نے مجھ پر الزام لگا دیا۔ ورنہ کہاںمیں کہاں حمزہ۔ قارو ن نے یہ بات سنی تو وزیر کو تلوار مار ی اور وہ مر گیا۔ امیر نے فرزانہ سے پوچھا کہ میرا لشکر کہاں ہے اور عمرو کہاں ہے۔ اس نے کہا آپ کے لشکر نے قلعہ کو گھیر ا ہوا ہے لیکن عمرو کا کچھ پتہ نہیں۔ امیر نے کہا پھر تو عمرو قلعہ ہی میں ہے۔ انہوں نے عمرو کی نشانی بتائی اور نوکرانیوں نے بازار میں جا کر عمرو سے کہا اے سوداگر ہماری مالکہ مال خریدنے کے لئے آپ کو بلاتی ہیں۔ عمرو ان نوکرانیوں کے ساتھ آیا۔ امیر چھپ گئے۔جب انہیں تسلی ہو گئی کہ یہ عمرو ہے تو وہ اس کے سامنے آئے۔ عمرو ان کے قدموں پر گرا اور کہا۔ اس کو نے میں کہاں چھپے بیٹھے ہو، باہر چلو۔ امیر نے کہا ںکہاں لے جاﺅ گے۔ کہنے لگا آﺅ میری دوکان پر چلو۔ امیر نے کہا تیری تو کپڑے کی دوکان ہے وہاں ہتھیار کہاں ہو ں گے۔ کسی لوہار کی دکان پر لے چلو۔ عمرو نے کہا جب رات ہو گی تو لے چلو ں گا۔

یہ بھی پڑھیں:  ساحروں پر ان کا سحر پھیر دیا

جب رات ہوئی تو امیر اور عمرو باہر نکلے ایک لوہار کی دوکان پر آئے تو امیر ہتھوڑا ہاتھ میں لے کر لوہار ٹھوکنے لگے۔ قارون نے بختک سے کہا فال دیکھ کر بتاﺅ کہ حمزہ کہاں ہے۔ اس نے کہا لوہار کی دوکان پر لوہا ٹھوک رہا ہے۔ اب دونوں سوار ہو کر لوہار کی دوکان پر آئے ۔ قارو ن نے امیر کو دیکھ کر کہا اب میرے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا۔ امیر نے نعرہ مار کر کہا میں تیرا ہی انتظار کر رہا تھا۔ امیر کے نعرے سے قلعہ کی بنیاد ہل گئی۔ نوشیرواں نے جو یہ نعرہ سنا تو دوسرے دروازے سے نکل کر بھاگ گیا۔ قارون نے تلوار سے امیر پر حملہ کر دیا۔ امیر نے ہتھوڑے پر تلوار روک کے اس کے ہاتھ پر ایسا ہتھوڑا مارا کہ وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ امیر نے اس کے سینے پر بیٹھ کر اسے مضبوط باندھا ۔ بختک نے یہ دیکھا تو بھا گ گیا۔

امیر کے نعرے کی آواز سن کر امیر کے دو ست آگئے۔ آکر امیر کے قدموں پر گرے امیر نے سب کو گلے لگا یا۔ امیرکے لشکر میں فتح کے شادیانے بجنے لگے۔ امیر قارون کے تخت پر بیٹھ گئے اور کہا کہ قارون کو پیش کرو۔ عمرو قارون کو لے آیا۔ امیر نے ہاتھ میں لکڑی لے کر قارون کو مارنا شروع کر دیا اور ایسی لکڑی مارتے تھے کہ اس کی ہڈیاں ٹوٹتی تھیں۔ وہ درد کے مارے زمین پر مچھلی کی طرح تڑپ رہا تھا۔ امیر نے کہا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اتنا مارنا جتنا سہہ سکے۔ مگر تم نے میری بات نہ مانی۔ اب کیوں تڑپتے ہو اور کہا اگر تم معافی مانگو تو چھوڑ دوں گا۔ اس نے کہا تم نے مجھے دوبار میں بے عزت کیا ہے۔ میں کسی طرح معافی نہ مانگو گا۔ مجھے ایک ہی مرتبہ مارنے کا حکم دے دیں۔ امیر نے عادی پہلوان سے کہا کہ اس کو ایسا گرز مارو کہ مٹی میں مل جائے۔ عادی نے گرز مارا اور وہ مرگیا۔ اس طرح امیر کی اس دشمن سے جان چھٹ گئی اور وہ سکون سے رہنے لگے۔ مگر ان کی قسمت میں سکون کہا ں تھا۔ نوشیرواں کو بختک بھڑکا رہا تھا اور و اس کے بہکاوے میں ایک ایک بادشاہ کو امیر سے لڑواتا پھر رہا تھا۔