husban and wife

ساتھ ساتھ نہیں پاس پاس رہئے

EjazNews

محبت ایک خوبصورت جذبہ ہے کہا جاتا ہے کہ جس نے محبت نہیں کی وہ گویا زندگی کے ایک دلکش احساس سے محروم رہ گیا۔ ہم اپنے والدین سے بھی محبت کرتے ہیں، دوستوں اور بہن بھائیوں سے بھی محبت ہوتی ہے لیکنی ہاں ہم میاں بیوی کے مضبوط رشتے اوران کے درمیان الفت و محبت کا ذکر رہے ہیں ہیں یہ ایک ایسا رشتہ ہے جو ذہنی جسمانی اور روحانی طور پر سب سے زیادہ قریب تر ہوتا ہے اور اگر ان کے تعلقات خوشگوار ہیں تو پورا گھرانہ خوشحال رہے گا۔

زندگی ان قصے، کہانیوں، فلموں یا ڈراموں کی طرح نہیں ہے جس میں ایک لڑکا اور لڑکی محبت کرتے ہیں پھر ان کی شادی ہو جاتی ہے اور زندگی ہنسی خوشی گزرنے لگتی ہے بلکہ زندگی دراصل اتار چڑھاﺅ کا نام ہے اس میں خوشیاں بھی ملتی ہیں اور دکھ بھی جھیلنے پڑتے ہیں اور اچھے برے حالات کا مقابلہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح شادی کے بعد تعلقات میں بھی اتار چڑھاﺅ آتا ہے کبھی یہ تعلق بہت مضبوط اور پر اعتماد ہوتا ہے اور کبھی گزرتے وقت کے ساتھ اس میں دراڑیں بھی پڑ جاتی ہیں۔ محض ساتھ ساتھ رہنے سے ہی قربت کا احساس نہیں ہوتا ہے اور نہ ہی یہ محبت کا ثبوت ہے آج کل ہمارے معاشرے میں زیادہ تر شادی شدہ جوڑے اپنے رشتے سے غیر مطمئن نظر آتے ہیں

فریقین کو ایک دوسرے سے کئی شکایات ہوتی ہیں :
وہ مبحت جو شادی سے پہلے اور شادی کے ابتدائی عرصے میں اپنے عروج پر ہوتی ہے آہستہ آہستہ اس میں کمی آتی جاتی ہے ا ور ایسا تب ہو تا ہے جب فریقین ایک دوسرے سے محبت کرنے میں کاہلی برتنے کے ساتھ ہی زندگی کے دوسرے معاملات کو محبت پر فوقیت دینا شروع کر دیتے ہیں حالانکہ محبت ایک گھڑی کی طرح ہوتی ہے جس کو وقتاً فوقتاً چابی دینے کی ضرورت ہے۔

شادی در حقیقت ایک معاہدے ہے جس میں میاں بیوی ایک ساتھ رہنے کا عہدکرتے ہیں اور جب وہ لوگ ایک ساتھ ایک چھت کے نیچے رہنا شروع کرتے ہیں تو آپس کی خوبیاں اور خامیاں بھی سامنے آتی ہیں لہٰذا یہاں برداشت اور درگزر کرنے کی ضروتر ہوتی ہے لہٰذا ایک دوسرے کوسمجھنے کی کوشش کریں اور ایسا کوئی کام نہ کریں جو آپ کے ساتھی کو ناگوار گزرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خواتین پر تشدداورمعاشرتی رویہ

دراصل شادی سے پہلے محبت کا جذبہ اتناش دید ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی غلط باتوں کو بھی برداشت کر لیتے ہیں اور خامیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور ہر فریق اپنا اچھا تاثر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک دوسرے سے بہت توقعات وابستہ کر لی جاتی ہیں کہ آئندہ زندگی بھر ہم ایسے ہی گزاریں گے اور ہمارا ساتھی ہماری ہر بات مانے گا لیکن شادی کے بعد ذمہ داریاں پڑتی ہیں اور ایک ساتھ رہنے کا موقع ملتا ہے تو ایک دوسرے کی خامیاں کھل کر سامنے آتی ہیں اورخوابوں کے گھروندے ٹوٹ جاتے ہیں۔

میاں بیوی کے تعلقات کو خوشگواررکھنے کا طریقہ دشوار بھی ہے اور آسان بھی۔ اس کے لئے آپ کو کشادہ دلی اور برداشت سے کام لینا ہوگا۔ اپنی انا کو قربان کرنا آسان نہیں ہے لیکن اگر آپ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنا چاہتی ہیں اور اپنے گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنانا چاہتی ہیں تو ایسا کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ویسے تو دونوں فریقین کو ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن ہمارا معاشرہ بالخصوص عورت سے توقع کرتاہے کہ وہ گھر کی خوشحالی کے لئے قربانیاں دے یہی وجہ ہے کہ جب اس رشتے میں دراڑیں پڑتی ہیںتو قصور وار عورت ہی کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں طلاق کی شرح بڑھ جانے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ خواتین کی سوچ اور طرز زندگی میں تبدیلیاں آگی ہیں۔ پہلے خواتین گھر گرہستی تک ہی محدود تھیں۔ مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا نعرہ بلند نہیں ہواتھا چنانچہ خواتین بری بھلی باتیں برداشت کر جاتی تھیں کیونکہ ان کو یہ بات ذہن نشین کرائی گئی ہوتی تھی کہ گھر بسانا ان کی ذمہ داری ہے لہٰذا اس کے لئے وہ اپنے شوہر اور گھر کی دیگر ذمہ داریوں کو بہت توجہ اور محبت سے پوراکرتی تھیں۔ موجودہ دور میں خواتین میں تعلیمکا رجحان بڑھ گیا ہے اور وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی حالت کو بہتر کرنے کے لئے خواتین کو گھر سے باہر قدم نکالنا پڑا اور اب بیشتر خواتین مردوں کے شانہ بشاہ کام کر رہی ہیں جو کہ ملازمت بھی کرتی ہیں اور گھریلو امور بھی انجام دیتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ اب اپنے آپ کومردوں کا محکوم نہیں سمجھتی ہیں وہ اپنا کماتی اور کھاتی ہیں گھر کے اخراجات کو پورا کرنے میں مردوںکا ہاتھ بٹاتی ہیں اور کسی طرح اپنے آپ کو مردوں سے کمتر نہیں سمجھتی ہیں ملازمت اورگھر گھرہستی کی دوہری ذمہ داریوں کی وجہ سے ان کی مصروفیات مردوں سے زیادہ بڑ گئی ہیں اسی لئے وہ یہ توقع کرتی ہیں کہ ان کو برابری کے حقوق ملیں اور گھر کی ذمہ داریوں میں ان کے شوہر بھی ہاتھ بٹائیں لیکن جب ایسا نہیں ہوتا تو تلخیاں جنم لیتی ہیں اس کے علاوہ خواتین کی مصروفیات کی وجہ سے شوہر نظر انداز ہوتے ہیں اور یوں ان کے درمیان آہستہ آہستہ دوری پیدا ہونے لگتی ہے۔ میاں بیوی اگر معاشی ضروریا تکو پورا کرنے میں شوہر کا ہاتھ بٹا سکی ہے تو شوہر گھر کی ذمہ داریوں کو انجام دینے میں بیوی کا ہاتھ بٹانے سے قطعاً شرمانا نہیں چاہئے۔ ضروری نہیں ہے کہ شوہر جھاڑو پونچھا کرے یا کھانا پکائے بلکہ وہ بچوں کو ہوم ورک کراسکتے ہیں، گھر کا سودا سلف لا سکتے ہیں بل وغیرہ جمع کرا سکتے ہیں۔ اس طرح ایک دوسرے کا خیال رھنے سے آپس میں محبت بڑھتی ہے اور قربت کا احساس ہوتا ہے بیوی کو بھی چاہئے کہ وہ دن کا کچھ وقت صرف اور صرف اپنے شوہر کے لئے مخصوص کر دے کیونکہ یہ شوہر کا حق ہے کہاس کو توجہ اور محبت دی جائے بات چیت کے ذریعے مسئلے حل ہوتے ہیں ایک دوسرے کی بات کو تو جہ سے سنیں، ہلکا پھلکا ہنسی مذ اق کریں اس سے گھریلو ماحول خوشگوار ہوگا۔ محبت اظہار چاہتی ہے صرف دل میں اپنے احساسات کو قید کرنا مناسب نہیں ہے بلکہ اس کا زبان سے اظہار بھی ضروری ہے تاکہ آپ کے شریک حیات کو معلوم ہو کہ آپ کے دل میں اس کے لئے کیا احساسات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  آبروریزی اور جنسی حملہ

ہر فرد کی اپنی پسند نا پسند اور طور طریقے ہوتے ہیں حتیٰ کہ جڑواں بچوں کی عادتیں بھی ایک دوسرے سے الگ ہو سکتی ہیں لہٰذا جب دو فریق ایک ساتھ رہنا شروع کرتے ہیں تو ان کی بہت سی باتیں ایک دوسرے سے متصادم ہو سکتی ہیں چنانچہ صبر و تحمل اور برداشت سے کام لیں۔ ایک دوسرے کو مجبوری سمجھتے ہوئے برداشت کرنے اور ہر جگہ ساتھ ساتھ نظر آنے سے بہتر ہے کہ آپ الگ الگ مگر ایک دوسرے کی خوشی کے لئے کام کرتے نظر آئیں۔ جھگڑے اور مسائل روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں ان حالات میں میاں بیوی میں محبت و اتفاق کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی مدد اور خیالات کو سمجھنے کی صلاحیت کا موجودہ ہونا بھی ضروری ہے آپ کا فریق ایک جیتا جاگتا اور انفرادی فرد ہے لہٰذا ایک دورسے کی خوبیوں کو تسلیم کریں اورخامیوں کو نظر انداز کریں۔ آپ کی ترجیحات ایک دوسرے سے الگ نہیں ہونی چاہئے۔ اگر آپ کے تعلقات نئے ہیں تو ایک دوسرے کے بارے میں بہت زیادہ اندازے لگانے کی کوشش نہ کریں اور نہ ہی بہت زیادہ توقعات وابستہ کریں بصورت دیگر مایوسی کے باعث آپ کے ذہن پر بوجھ بڑھتا جائے گا۔ جو بات بری لگے اس کو دل میں رکھنے سے بہتر ہے کہ شوہر کے سامنے بیان کر دیں کیونکہ بات چیت سے مسئلے حل ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  معاشرے کا بنیادی ستون خاندان ہے

میاں بیوی کا رشتہ بہت خوبصورت ہوتا ہے اور اس میں جتنا اعتماد، بھروسہ اور مضبوط ہوگی گھرانہ اتنا ہی خوشحال ہوگا اپن ے گھر کی خو شحالی اور پر سکون زندگی گزارنے کے لئے اپنے شریک حیات کو خوشی رکھیں اور پانی محبت کو کم زور نہ پڑنے دیں۔