bilawal_bhutto_press

دیکھتے ہیں نیب آزاد ادارہ ہے یا نہیں، ہم جلد دیکھیں گے:بلاول بھٹو زرداری

EjazNews

بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج تک کسی بھی صوبے کو اس کا حق نہیں دیا گیا۔ تمام مسائل کی وجہ نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں حق نہ دینا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ مرکزی حکومت نے صوبوں پر ذمہ داریاں بڑھا دی ہیں۔ این ایف سی میں ان کا حق دے دیں تو مسائل حل ہوں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جب میرے عوام کرونا سے متاثر ہورہے تھے تب بھی ان کا حق چھیننے کی کوشش کی گئی۔ ہم سب قدرتی آفت سے گزرے ہیں۔ اس آفت کے بعد وفاق کو اس آفت کا خیال آگیا۔ ہم نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے شکر گزار ہیں،ہم ان مسائل کو مل کر حل کریں گے۔ ہم مشکل میں ہیں ایسے میں وفاق کی نیت صاف ہونی چاہئے۔ جو عوام آفت زدہ ہیں ان سے ان کا حق کیسے چھین سکتے ہیں۔ ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے شکر گزار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سعودی ولی عہد اپنا دورۂ مکمل کر کے پاکستان سے روانہ ہو گئے

ان کا کہنا تھا سندھ کو حصے سے 162 ارب گزشتہ سال کم ملے۔ اس سال بھی 200 ارب سے کم ملے۔ بارشوں نے سندھ اور کراچی میں تباہی مچا دی۔ وفاقی حکومت نے این ڈی ایم اے کو بھیجا۔

ایف ٹی ایف پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ہم نے حکومت کا مکمل ساتھ دیا۔ بل گیٹس کراچی کا نام لے تب بھی عمران خان کریڈٹ لینے کی کوشش کرتےہے۔ کرونا سے احتیاتی تدابیرلازمی ہے۔ اگر احتیاط نہیں اپنائی گئی توکیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔نیب تحریک انصاف کو کچھ نہیں کہتا۔ دیکھتے ہیں نیب آزاد ادارہ ہے یا نہیں، ہم جلد دیکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا جمہوریت وفاق کو مضبوط بناتی ہے مگر موجودہ حکومت کا منشور اور سوچ ہی ون یونٹ قائم کرنا ہے۔ سندھ حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے کورونا وائرس کے خلاف صف اول میں رہ کر کام کرنے والے ڈاکٹرز، نرسسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو رسک الاؤنس دیا۔پارلیمان میں ہونے والی قانون سازی میں عوام کے انسانی و جمہوری حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔ نا مکمل پشاور بی آر ٹی کے نام پر خیبر پختونخواہ کی عوام کا پیسہ لوٹا گیا تاکہ عمران خان اپنا کچن اور الیکشن مہم چلا سکے۔