health_tips

طبی مشورے

EjazNews

برگر میں ادھ پکے کباب مضر صحت ہیں

برگر کا استعمال بچوں میں ہی نہیں بڑوں میں بھی حالیہ برسوں کے دوران تیزسے بڑھا ہے، خصوصاً بچے تو سکولوں میں لنچ کے دوران برگر کے استعما ل کے عادی ہو چکے ہیں لیکن برگر کے شوقین افراد کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ برگر میں استعمال ہونے والے کباب اچھی طرح پکے ہوئے ہوں کیونکہ یہ کباب جتنے بڑے اور موٹے ہوتے ہیں ان کا درمیانی حصہ جو کہ پکنے سے رہ جاتا ہے اتنا ہی خطرناک اور مضر صحت ثابت ہو سکتا ہے۔ اندرونی قیمے کے خوب گرم نہ ہونے کی وجہ سے اس میں موجود جراثیم بد ہضمی کے علاوہ پیٹ میں درد خوانی، دست اور گردوں کے فیل ہونے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ خصوصاً چھوٹے بچوں کو اس سلسلے میں سخت احتیاط کرانا چاہئے۔ برگر کے کباب کا پوری طرح پکا ہونا بہت ضرور ہے جس کے لئے لیڈز یونیورسٹی کے پروفیسر چرڈ لیسی کی تحقیق یہ کہتی ہے کہ فریزر میں رکھے ہوئے کباب کو کباب کو تازہ ہوا میں رکھ کر پگھلانے کے بعد پوری طرح پکا کر استعما ل کرنا چاہئے کیونکہ اگر کباب کو پگھلایا نہ جائے تو اس میں مختلف نوعیت کے جراثیم پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے خاص طور پر کچے قیمے کے کبابوں کا استعمال نہایت احتیاط کا متقاضی ہے۔

وٹامن سی کا زائدہ استعمال نقصان دہ !

وٹامن سی کو سرطان سے حفاظت کے لئے اکسیر سمجھا جاتا ہے لیکن کسی حد تک کیونکہ اس کا زائد استعمال برعکس نتائج بھی سامنے لا سکتا ہے ۔ ماہرین کی ایک تحقیق کے مطابق اس حیاتین کی بڑی خوراکیں سرطان کے علاج کو ناکا م بھی بنا سکتی ہیں کیونکہ سرطان کے کئی ایسے علاج بھی ہیں جن کی وجہ سے فری ریڈیکلز زیادہ پیدا ہوتے ہیں جو کہ سرطانی خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ بعض حالتوں میں صحت مند خلیات بھی زد میں آسکتے ہیں۔ وٹامن سی فری ریڈیکلز کو ہڑپ کر جاتی ہے لیکن یہ اسے لوگوں کے لئے مفید ہے جو کہ سرطان کے مرض میں مبتلا نہیں ہیں۔ سرطان کے مریضوں کے لئے وٹامن سی اس اعتبار سے مضر ثابت ہو سکتی ہے کہ یہ سرطان کے لئے استعما ل ہونے والی دواﺅں کے اثرات کو کم کر دیتی ہے لہٰذا ایسے افراد اس کا استعمال کرتے ہوئے محتاط رہیں کہ روز مرہ کی مقدار ایک گرام سے زائد نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  بلا ضرورت آپریشنز،بھاری فیسیں ہیں ،اپنی صحت کا خیال رکھیں

صحت مندانہ غذا کیلئے چند اہم ہدایات

کیا آپ کو معلوم ہے کہ کھانا پکاتے ہوئے آپ بہت ساری غذائیت ضائع کر سکتی ہیں؟ یہاں کچھ ایسی ہدایات و مشورے موجود ہیں جو کہ کھانے کے ممکنہ حد تک غذائیت سے بھرپور رکھتے ہیں۔
کھانے کو زیادہ فرائی نہ کریں بلکہ ابال کر، اسٹیو بنا کر، گرل اور بیک کر کے استعمال کریں۔ بھاپ اور مائیکرو ویو اوون میں پکانا بھی بہتر ہے۔
کھانا پکانے سے قبل گوشت سے ہر قسم کی چکنائی کو علیحدہ کر دیں۔
اگر آپ گوشت اور مچھلی کی غذائیت اور ذائقہ برقرار رکھنا چاہتی ہیں تو اسے جلنے مت دیں۔
مرغی پکاتے ہوئے اس کی کھال ضرور اتار یں کیونکہ تمام تر چکنائی اس میں ہوتی ہے۔
سبزیوں کو ابالنے کے بجائے بھاپ میں یا مائیکروویو میں پکائیں، اس طرح وٹامن کے اجزا اس میں محفوظ رہتے ہیں۔
اگر سبزی کو ابالنا ضروری ہو تو بہت کم پانی استعمال کریں اورحد سے زیادہ نہ پکائیں یہ پانی بعد میں سوپ ، شوربے یا اسٹیو میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
پکاتے وقت چکنائی اور تیل کا زیادہ استعمال ہرگز نہ کریں۔
تیل اور چکنائی کا استعمال ضروری ہو تو زیتون یا سن فلاور آئل کو ترجیح دیں جس میں ناسیر شدہ چکنائی ہوتی ہے۔
کھانا پکانے کی ابتدا میں بھوننے کے لئے تیل کے بجائے تھوڑا سا پانی استعمال کریں۔

سمندری گھونگھے کا زہر: درد کا خاتمہ

جب آپ درد رفع کرنے والی کوئی دوا استعما ل کریں اور درد سے نجات نہ ملے تو یہ بڑی پیچیدہ صورتحال ہو جاتی ہے کیونکہ آپ کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ دوا فوری طور پر اثر کرے گی اور آپ کو تکلیف سے چھٹکارہ مل جائے گا۔ امریکی محققین نے اس مشکل صورتحال میں تبدیلی پیدا کرنے کی غرض سے ایک دوا ایجاد کی ۔ جو لوگوں کے وقت بے وقت مختلف نوعیت کے درد فوری طور پر فع کر دے گی۔ یہ ایسے افراد کے لئے بھی ایک بہترین طریقہ ہے جو کہ عام طور پر استعمال کی جانے والی دوا مارفین یا درد کو ختم کرنے والی دیگر دواﺅں سے بھی آرام نہیں پاتے ہیں۔ دواﺅں میںیہ پہلی دوا ہے جو کہ اعصاب کے ان چینلز کو بلاک کر دیتی ہے جو کہ جسم کے دوسرے حصوں تک درد کے سگنل پہنچاتے ہیں۔ اس دوا کو Prialtکے نام سے مارکیٹ کیا گیا جو کہ اب عام طور پر دستیاب ہے۔
شدید ترین درد کو رفع کرنے کے لئے مارفین ایک اسفینڈرڈ دوا کا درجہ رکھتی ہے جس سے مختلف بیماریوں یہاں تک کہ سرطان اور ایڈز کے نتیجے میں پیدا شدہ درد کی تکلیف کو دور کیا جاسکتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کے اثرات میں کمی آنے لگتی ہے اور اس کی خوراک میں اضافہ بھی کرنا پڑتا ہے اور بات یہاں تک جا پہنچتی ہے کہ منہ یا انجکشن کی صورت میں دوا استعمال کرنے والوں کی جلد میں مائیکرو انفیوژن پمپ لگانا پڑتا ہے جو کہ ریڑھ کی ہڈی کے گرد جمع ہونے والی رگوں اور نسوں کو براہ راست دوا فراہم کرتا ہے اور ایسی صورتحال سے بچاﺅ کے لئے نئی ایجاد کر دہ دوا خاصی موثر کہی جاسکتی ہے جسے ایک سمندری گھونگھے کے زہر سے تیار کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ دوا مارفین کے مقابلے میں ایک ہزار مرتبہ زائد طاقتور ہے جسے طویل عرصے سے بیمار افراد پر آخری علاج کے طورپر استعمال کیاجارہا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  آئیےجانتے ہیں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی عمر کیوں لمبی ہوتی ہے

سرخ گوشت کا زائد استعمال گٹھیا کا باعث

نسبتاً زیادہ مقدار میں سرخ گوشت کا روزانہ استعمال نقرس یا گٹھیا کے مرض میں مبتلا ہونے کے خطرات کو بڑھا وا دیتا ہے اور آ پ جوڑوں کے درد کے مریض بھی بن سکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ بہت زیادہ سرخ گوشت کھانے کی صورت میں صحت کے حوالے سے تیار کر دہ آپ کی مشکلات پر مبنی فہرست میں ایک اور بیماری کا اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ ڈاکٹروں کی سختی کے ساتھ تاکید ہے کہ سرخ گوشت کے استعمال میں فوری طور پر کمی کر دیں جو کہ امراض قلب اور سرطان جیسی موذی بیماریوں کو بھی کھلی دعوت دیتا ہے۔
جوڑوں کادرد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نامعلوم وجوہات کی بنا پر اعصابی نظام غلطی سے ہڈیوں کے جوڑوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے اور سوزش کے علاو ہ سوجن اور درد کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ ہی یہ عمل ہڈیوں کو کاٹ ڈالتا ہے اور جوڑوں کے درمیان ٹشوز نرم پڑنے لگتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نقرس یا گٹھیا کی بیماری انسانی جسم میں گھر کر لیتی ہے اور اچھا بھلا شخص اٹھنے بیٹھنے یا کام کرنے سے بھی معذور ہو جاتا ہے ۔ بعض ایسی ریسرچ بھی ہیں جن سے علم ہوتا ہے کہ فروٹ کھانے سے پرہیز کی وجہ سے جسم میں وٹا من سی کی کمی واقع ہو جاتی ہے جو کہ گٹھیا کے مرض کے خطرات میں اضافے کی نشاندہی کرتی ہے تاہم مچھلی اور سبزی کا زائد استعمال حالات میں بہتری پیدا کر سکتا ہے۔ سائنسدانوں نے 45سے 75برس کے 25ہزار سے زائد افراد کے کوائف9برس کی مدت میں جمع کیے تھے اور اندازہ کیا کہ گٹھیا کے مرض میں مبتلا بیشتر افراد گوشت کا زائد جبکہ وٹامن سی کا کم استعمال کر رہے تھے، اس کے برعکس کم گوشت کھانے والے اور وٹامن سی کے عادی افراد نسبتاً محفوظ تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہایپر ٹینشن یا بلند فشارخون کے عالمی دن کے حوالے سے خصوصی تحریر
کیٹاگری میں : صحت