bangloor

شان رسالتﷺمیں گستاخی پر بنگلور میں پر تشدد احتجاج مظاہرے

EjazNews

انڈیا میں بنگلور کے پلاکیشی نگر میں شان رسالت ﷺ میں گستاخی کے بعد پر تشدد مظاہروں میں کئی افراد کے ہلاک جبکہ 100سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

انڈین میڈیا کے مطابق رکن اسمبلی اکھانڈا سرینواس مورتی کے ایک رشتہ دار نے سوشل میڈیا پر ایک گستاخانہ پوسٹ کیا تھا اس پر احتجاجی مظاہرین رکن اسمبلی کی رہائش کے باہر جمع ہوئے ۔ مشرقی بنگلور میں اس پوسٹ کی وجہ سے فرقہ وارانہ تشدد پھوٹ پڑا۔ جبکہ متعدد علاقے میں کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا ۔ شہر بھر میں دفعہ 144کے تحت پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

انڈین میڈیا کے مطابق کمشنر پولیس نے بتایا کہ تشدد اور تصادم میں 60سے زایدہ پولیس جوان بشمول ایڈیشنل کمشنر پولیس زخمی ہو گئے۔
احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ تھا کہ پوسٹ کرنے والے پی نوین کے خلاف فوری کارروائی کی جائے جس نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ پوسٹ کی ۔ رکن اسمبلی کے گھر کے باہر احتجاج مظاہرین اور پولیس میں تصادم کے بعد رکن اسمبلی کے گھر کے باہر کھڑی بہت سے گاڑیاں بھی نذر آتش ہوئیں اور دو پولیس اسٹیشن کو بھی نقصان ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  اگر ایران جنگ چاہتا ہے تو اس کا خاتمہ ہو جائے گا: امریکی صدر

انڈیا میں جاری اردو اخبارات کے مطابق مظاہرین پولیس کو مقدمہ درج کرنےکا کہہ رہے تھے جبکہ پولیس ان کو مشورہ دے رہی تھی کہ بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کیا جائے ۔ پولیس کے اس رد عمل پر ہجوم نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور پولیس پر پتھرائو کیا تھا۔لوگوں کا مطالبہ تھا کہ پولیس اس شخص کیخلاف کارروائی کرے جس نے شان رسالتﷺ میں گستاخی کی ہے۔