ablution

وضو کی سنتیں اور ترتیب

EjazNews

ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا:
ہر کام صاحب ِ شان بسم اللہ سے شروع نہ کیا جائے وہ مقطو ع عن البرکت ہے۔(مطالع المسرات: ص 6)۔

حضرت ابی سعیدؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کا وضو (کامل ) نہیں جس نے بسم اللہ نہ پڑھی۔( ترمذی: ج 1،ص6)
فائدہ: حدیث مذکور میں لا وضوء سے وضو کامل کی نفی مقصود ہے جیساکہ حدیث لاصلوۃ لجار المسجد الافی المسجد(مسجد کے ہمسایہ کی نماز نہیں ہے مگر مسجد میں ) میں لاصلوۃسے کامل نماز کی نفی مراد ہے۔

حضرت ابن مسعودؓسے مروی ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے: جس نے وضو کیا اور بسم اللہ پڑھ لی اُس کا تمام جسم پاک ہو گیااگر بسم اللہ نہ پڑھی بغیر اعضاء وضو کے باقی مکمل جسم پاک نہ ہوا۔(دارقطنی: ج1،ص24،حدیث232)
حضرت وکیع، ربیع سے، حسن سے حدیث بیان کرتے ہیں جب وضو کرے تو بسم اللہ پڑھے اگر نہ پڑھا تو کافی ہو جائے گا ( وضو ہو جائے گا ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:ج1ص12،حدیث18)

ابتداء وضو میں دونوں ہاتھوں کو گٹوں تک دھونا:
(حضرت ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے تو وضو کے برتن میں ہاتھ نہ ڈالے حتی کہ ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے وہ نہیں جانتا کہ اس کے ہاتھ سونے (حالت ِ نیند)میں کہاں رہے۔

ناک میں پانی دینا:
حضرت ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نیند سے جاگے پھر وضو کرے تو تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے اس لئے کہ اس کے ناک کے سوراخ میں شیطان رات بسر کرتا ہے۔(مسلم :ج1،ص212،حدیث238)

کلی کرنا:
حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم ؓسے کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺکیسے وضو فرماتے تھے تو اُنہوں نے پانی طلب فرمایا اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دو دو مرتبہ دھویا پھر کلی کی تین مرتبہ اور ناک میں تین مرتبہ پانی دیا۔

تمام سر کا مسح کرنا:
ہمیں حدیث بیان کی ابو بکر نے، اسے حدیث بیان کی حفص بن غیاث نے اُنہوں نے لیث سے۔( اُنہوں نے طلحہ سے، اُنہوں نے اپنے باپ سے، اُنہوں نے اپنے دادا سے، فرمایا دیکھا میں نے نبی علیہ السلام کو وضوفرماتے تو اُنہوں نے اپنے سر مبارک کا یوں مسح کیا اور حضرت حفص نے اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھ کر پیچھے کھینچا حتّٰی کہ قفا مبارک تک مسح کیا۔
حضرت ہشام بن عروہ ؓاپنے باپ سے روایت فرماتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنے سر پر یوں مسح فرماتے، مقدم سر سے مؤخر تک اور پھر دونوں ہاتھ آگے لے آتے۔(مصنف ابن ابی شیبہ:ص27)

یہ بھی پڑھیں:  صلح اور ملاپ

کانوں کا مسح کرنا:
حضرت عبد اللہ بن ادریس محمد بن عجلان سے وہ زید بن اسلم سے وہ عطاء بن یسار سے وہ ابن عباس ؓسے کہ رسول اللہ ﷺنے مسح فرمایا، دونوں کان مبارک داخل کان مبارک کا دو انگلیوں سبابہ سے پھر دونوں انگوٹھے مبارک سے ظاہر حصہ دو کان مبارک پر اس طرح دونوں کان مبارک کے باطن اور ظاہر پر مسح فرمایا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ص29 ج1 )

اعضائے وضو کو تین تین مرتبہ دھونا:
حضرت ابی امامہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا، اپنے دونوں ہاتھ مبارک تین مرتبہ دھوئے، کلی کی اور نا ک میں پانی بھی تین تین مرتبہ فرمایا، وضو فرمایا تین تین مرتبہ۔‘‘ (اعضاء وضو تین تین مرتبہ دھوئے ۔(مصنف ابن ابی شیبہ: ص 19، ج1 )
مسلم شریف میں ہے حضرت عثمان ؄ے وضو فرمایا اور فرمایا میں تمہیں رسول اللہﷺ کا وضو دکھاتا ہوں۔ تو آپ نے تین تین مرتبہ وضو فرمایا۔ (دار قطنی :بروایت نصب الرایہ ، ص 29)
حضرت ابو ہریرہ ؓفرماتے ہیں نبی علیہ السلام نے ایک ایک مرتبہ وضو کر کے فرمایا اس کے بغیر اللہ تعالیٰ عمل قبول نہیں فرماتا پھر دو دو مرتبہ وضو کر کے فرمایا اِس سے اللہ تعالی ثواب دو گنا فرماتا ہے۔ پھر تین تین مرتبہ وضو کر کے فرمایا یہ میرا اور مجھ سے پہلے اَنبیاء کا وضو ہے۔

دائیں ہاتھ سے کلی کرنا اور بائیں
ہاتھ سے ناک میں پانی دینا اورصاف کرنا:
حضرت عبد خیر فرماتے ہیں کہ ہم بیٹھے تھے حضرت علی ؓکو دیکھ رہے تھے جبکہ وہ وضو فرما رہے تھے تو انہوں نے داہنا ہاتھ پانی میں ڈال کر منہ بھر کلی فرمائی اور ناک میں پانی دیااور ناک صاف فرمایا بائیں ہاتھ سے ، پھر فرمایا جس کو خوش لگے کہ میں رسو ل اللہ ﷺ کا وضو دیکھوں تو اسی طرح ان کا وضو مبار ک تھا۔(دارمی: ص 144)

مسواک کرنا:
حضرت ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر اُمت پر گراں نہ سمجھتا تو اُن کو عشاء تاخیر سے پڑھنے اور ہر نما ز کے وقت مسواک کرنے کاحکم فرماتا۔(مسلم: ج1،ص128،ترمذی: ص 5)

یہ بھی پڑھیں:  رہن کا بیان

حضرت عائشہؓ سے مرو ی ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایامسواک منہ کی طہارت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا موجب ہے۔(نسائی :ص 3، دارمی: ج1ص 140)
(حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نماز کے وضو میں مسواک کیا جائے ستر گنا اس نماز سے بہتر ہے جس کے لئے مسواک نہ کیا گیا ہو۔ (شعب الایمان:ج4،ص280،حدیث2519)

ہاتھ اور پائوں کی انگلیوں اور داڑھی کاخلال کرنا:
حضرت ابن عباس ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تو وضو کرے تو ہاتھ اور پائوں کی انگلیوںمیں خلال کر۔(ترمذی: ج 1،ص7، ابن ماجہ: ج35)
حضرت عثمان ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ اپنی داڑھی مبارک میں خلال فرماتے تھے۔(دارمی :ج 1،ص144)

ابتد اء دائیں سے پھر بائیں:
حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دائیں سے شروع فرمانا پسند فرماتے تھے جہاں تک تمام کاموں میں ممکن ہوتا۔ حتّٰی کہ طہارت ( وضو ) میں اور مینگھ بنانے میں اور جوتا پہننے میں۔(بخاری :ج 1،ص 29، مسلم :ج 1،ص 132،ابن ماجہ: ص 33)
حضرت ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے کہ جب تم لباس پہنو یا وضو کرو تو ابتداء دائیں سے کرو۔ (سنن ابی داؤد:ج4،ص70،حدیث4141)

موالات(پے درپے وضو کرنا):
یعنی بیک وقت یکے بعد دیگرے بغیر وقفہ کے اعضائے وضو کو دھونا۔
حضرت جابرؓسے مروی ہے کہ حضر ت عمر بن خطاب ؄نے ایک شخص کو دیکھا جس نے نماز کے لئے وضو کیا تھا اور ناخن کے برابر قدم کی پشت کو دھونا چھوڑ دیا تھا تو اس کو نبی علیہ السلام نے دیکھ لیا اور فرمایا: اپنے وضو کو اچھا کرو !تو اس نے دوبارہ وضو کیا پھر نماز ادا کی۔( مسلم :ج1،ص125 ، مصنف ابن ابی شیبہ:، ص36، ج 1)
اگر موالات غیر ضروری ہوتا تو سرکار دو عالمﷺ فقط متروکہ جگہ کو دھو لینے کا حکم فرماتے مگر نبی علیہ السلام کا فرمانا کہ جا اور وضو کر اس امر کی واضح دلیل ہے کہ موالات بہتر ہے۔ ساتھ ہی اس حدیث شریف میں پائوں دھونے کو ضروری قرار دیا گیا۔

ترتیب:
قرآن شریف میں جس ترتیب سے وضو کرنے کا ذکر ہے اسی ترتیب سے وضو کیا جائے۔ فرائض وضو میں پہلے منہ دھونا پھر بازو دھونا پھر سر کا مسح کرنا پھر پائوں کا دھونا عمل میں لایا جائے۔
جاننا چاہیے: کچھ لوگ وضو کا عمل پائوں سے شروع کرتے ہیں۔ یہ عمل ترتیب قرآنی کے خلاف ہے اورسنت ِ رسول ﷺ کے بھی خلاف ہے ۔ اگرچہ وضو ہو جاتا ہے مگر ترتیب کے خلاف ہوگا اس لئے کہ قرآن شریف میں جہاں وضو کا حکم ہوا تو اس آیت میں پائوں دھونے کا ذکر آخر میں فرمایا۔
اے ایمان والو! جب تم نماز کے ارادہ کے لئے جائو تو منہ دھوو اور ہاتھ کہنیوں سمیت، پھر سر کا مسح کرو اور پائوں دھوؤ۔ ( المائدہ 6)۔
مذکورہ چار فرائض میں ترتیب دی گئی ہے۔ پہلے منہ دھونا پھر بازو پھر سر کا مسح پھر پائوں دھونا۔ اس ترتیب میں پائوں دھونے کا ذکر چاروں فرائض میں آخری فرض ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کی تدبیریں

مکروہات وضو:
(1) پانی میں اسراف کرنا۔ (2) دائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا۔ (3) بائیں ہاتھ سے کلی کرنا۔ (4) منہ پر زور سے پانی مارنا۔ (5) وضو کرتے وقت دنیاوی باتیں کرنا۔ (6) وضو کے پانی میں بلا و جہ پھونک مارنا یا اس میں تھوک یا ریشہ ناک ڈالنا وغیرہ۔

وضو توڑنے والی چیزوں کا بیان:
(1) پیشاب اور پاخانہ کے راستہ سے کسی چیز کا خارج ہونا۔ وضو کسی چیز کے نکلنے سے ہے داخل ہونے سے نہیں۔ ہاں اگر پیشاب کے راستہ سے ہوا خارج ہو تو وہ ناقض نہیں ہے۔ پیپ یا زرد آب یا خون جب مخرج سے بہہ کر نکلے۔ (2) منہ بھر کے قے آنا اگر منہ بھر سے کم بار بار قے آئے تو، اگر غثیان ایک ہی ہے تو ایسی قلیل قے کا اندازہ کیا جائے گا اگر منہ بھر کے قدر سے کم ہے تو مفسد نہیں ورنہ مفسد ہے۔ (3) نشہ۔ (4) غش۔ (5) جنون۔ (6) بے ہوش ہو جانا۔ (7 ) رکوع و سجود والی نماز میں آواز سے ایسی ہنسی کرنا جسکی آواز ساتھ والا سن لے۔ آواز اگر اس سے کم ہے یا نماز رکوع و سجود والی نہیں ہے جیسے نماز جنازہ تو مفسد نہیں ہو گی۔(8 ) سہارا سے نیند کرنا۔ (9) مرد و عورت یا دو مرد یا دو عورتوں کی شرم گاہ کا مل جانا۔