umro ayyar_amir_hamza

عمرو کی یاوری

EjazNews

نوشیرواں نے بختک کے کہنے پر ایک حبشی بادشاہ شداد کو حمزہ کو مارنے کو لکھا۔ اس نے حمزہ سے لڑائی کی اور ہارا اور جب اپنے ملک جانے لگا تو مدائن جا پہنچا سو چا نوشیرواں کی وجہ سے میں حمزہ سے ہارا ہوں مجھے اس سے بدلہ لینا چاہئے۔ وہ نوشیرواں کو گرفتار کر کے لے گیا۔ نوشیرواں کے بیٹے ہرمز کو پتہ چلا تو اس نے بزر جمہر سے کہا کہ میرا باپ کیسے رہا ہو گا۔ تو انہوں نے کہا اسے صرف حمزہ لا سکتا ہے۔ ہرمز نے کہا حمزہ میرا کہنا کیسے مانے گا۔انہوں نے کہا اپنی ماں سے کہو۔ اس نے اپنی ماں سے کہا اور ملکہ نے حمزہ کو لکھا کہ نوشیرواں کو چھڑا لائو۔ امیر جب بادشاہ کو چھڑانے جانے لگے تو انہوں نے عمرو کو ساتھ جانا چاہا۔ عمرو نے کہا میں اس کو چھڑانے حبش نہ جائوں گا بلکہ اس طرف پائوں بھی نہ رکھوں گا۔ امیر نے کہا تم نہیں جاتے تو نہ جائو میں مقبل کو ساتھ لے جائوں گا۔ عمرو نے کہا جاتے ہو تو جائو مگر جا کر پریشان ہو گے۔ امیر نے کہا تم مجھے اپنے کما ل دکھا رہے ہو۔ عمرو نے کہا ٹھیک ہے جائو ۔ خدا کے سپرد۔

امیر حبش پہنچے تو رات کو شداد کے محل پہنچے وہ خود سو رہا تھا اور ایک کالا بچھو اس کی طرف بڑھ رہا تھا اور نوشیرواں کو پنجرے میں ڈا ل کر تخت کے سامنے لٹکایا ہوا تھا۔ امیر نے بچھو کو مار دیا۔ میوے کھائے ا س کو خط لکھا کہ میں نوشیرواں کو لے جارہا ہوں اور نوشیرواں کا پنجرہ لے کر باہر آئے۔ نوشیرواں کو مقبل کو دیا اور اپنا گھوڑا ڈھونڈنے لگے۔

شداد کی جب آنکھ کھلی تو اس نے نوشیرواں کو نہ دیکھا۔ مرا ہوا بچھو اور خط دیکھا تو امیر کو پکڑنے چلا۔ باہر آکر باغ میں پہنچا تو نوشیرواں کو پنجرے میں دیکھا۔ اس سے پوچھا کہ حمزہ کہاں ہے اس نے کہا اگر تم مجھے نہ مار وتو بتاتا ہوں۔

اس نے وعدہ کیا اور نوشیرواں نے اشارے سے بتادیا۔ شداد اسی راستے سے گیا تو مقبل گھوڑے کو لا رہا تھا۔ شداد نے مقبل اور گھوڑے کو پکڑ لیا مگر حمزہ اسے نہ ملا۔ شداد نے کہا حمزہ ریگستان میں پھنس گیا ہوگا۔ افریقہ کا ریگستان مشہور ہے وہ وہاں بھوکا پیاسا مر جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کا کمال

امیر واقعی ریگستان میں پھنس گئے تھے تین رات دن تک باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈتے رہے مگر نہ نکل سکے آخر خدا سے گڑ گڑا کر دعا کی اور خدا نے ان کی سن لی۔

اسی رات عمرو نے خواب میں دیکھا کہ حمزہ مٹی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس ڈرائونے خواب کو دیکھ کر جاگ گئے اوربھاگتے گئے۔ راستے میں ایک لشکر جاتا دیکھا۔ ایک حبشی سے پوچھا کہ یہ لشکر کس کا ہے اس نے کہا یہ شداد حبشی کا لشکر ہے۔ مہرنگار کو لینے جارہا ہے۔ عمرو نے پوچھا حمزہ نوشیرواں کو لینے گیا تھا اس کا کیا ہوا۔ اس نے جواب دیا حمزہ ریگستان میں پھنسا ہوا ہے۔وہاں سے وہ نکل نہیں سکتا اسی لئے تو شدیداد مہرنگار کو لینے جارہا ہے۔ نوشیرواں بھی اس کے پاس ہے۔ عمرو یہ سن کر بڑا پریشان ہوا۔ بھاگتے ہوئے ریگستان میں آیا اور امیر کو ڈھونڈنے لگا۔

امیر پانچ دن سے بھوکے پیاسے تھے۔ بغیر پانی کی مچھلی کی طرح ریت پر تڑپ رہے تھے۔ بات نہ کر سکتے تھے۔ عمرو ہر طرف آوازیں دے رہا تھا۔ امیر سن رہے تھے مگر جواب دینے کی طاقت نہ تھی۔ تب ڈھونڈتے ڈھونڈتے عمرو امیر کے پاس آیا اور دیکھا کہ بات کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اپنی زنبیل سے شربت نکال کر دیا۔ امیر نے شربت پی کر آنکھیں کھولیں عمرو نے دوسرا پیالہ بھ کر دیا امیر کی ساری تھکن دور ہو گئی۔ جسم یمں طاقت آگئی۔ ہتھیار جو امیر نے اتار کر پھینک دئیے تھے باندھ لئے اور عمرو کو لے کر حبش کی طرف چلے۔ وہاں اشقر اور مقبل کو قید دیکھا۔ اشقر نے امیر کو دیکھتے ہی زور لگایا اور کمند توڑ دی۔ اور امیر کے پاس آیا امیر اس پر سوار ہو ئے۔ چوکیدار امیر کو دیکھ کر بھ اگ کھڑے ہوئے۔ امیر نے مقبل کو چھڑایا اور شہر میں آیا۔شداد کے بیٹے سے مقابلہ ہوا وہ ہار گیا تو تین دن تک امیر کو مہمان رکھا۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو پھر آ پہنچا

اس طرف شداد امیر کے دوستوں سے لڑ رہا تھا ایک آدمی نے نوشیرواں سے کہا آپ کہیں تو میں امیر کے سب سرداروں کا سر کاٹ لائوں۔ نوشیرواں نے اجازت دے دی۔ وہ رات کو گیا اور امیر کے بیٹے قباد شہر یار کا سر کاٹ لایا۔ نوشیرواں نے سنا تو بہت پچھتایا اور نواسے کا ماتم کیا۔ مہرنگار اپنے بیٹے کے مرنے کی خبر سن کر بے ہوش ہوگئی۔ امیر کے لشکر کے عیاروں نے اس آدمی کے ٹکڑے کر دئیے مگر جو نقصان ہو گیا تھا وہ تو پورا نہیں ہو سکتا تھا ۔ دونوں طرف قباد شہریار کا غم منایا گی اور لڑائی بند رہی۔ جب ماتم منا چکے تو پھر جنگ چھڑی کہ اچانک گرد اٹھی۔ سب نے اس طرف دیکھا جب گرد چھٹی تو امیر اور عمرو آتے نظر آئے۔ امیر کے سب سردار امیر کی طرف بڑھے۔ امیر نے پوچھا شداد کہاں انہوں نے کہا ابھی آپ کو دیکھ کر اس طرف بھاگا ہے۔ امیر نے اس کے پیچھے گھوڑا بگایا امیر کے دوست بھ یامیر کے پیچھے گئے۔ اب مہرنگار غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ اکیلی رہ گئی۔ ژوبین نے بختک سے کہا مہرنگار کو حاصل کرن ے کا یہی موقع ہے۔ بختک نے کہا تو پھر جلدی کر ۔ ژوپین نے اس طرف جانے کا ارادہ کیا۔

مہرنگار نے جب دیکھا کہ ژوپین قریب آگیا ہے تو اس نے کمان میں تیر جوڑ کر چلایا جو ژوپین کے سینے پر لگا ۔ ژوپین کو بہت غصہ آیا۔ اس نے سوچا جو میری نہیں ہوسکی وہ کسی کی نہ ہو۔ اس نے مہرنگار کو توار ماری۔ مہرنگار زخمی ہو کر گر ی۔اسی وقت امیر آگئے اور ژوپین پر تلوار ماری۔ ژوپین نے امیر پر تلوار ماری امیر نے اس کی تلوار ڈھال پر روکی۔ اپنے دونوں پائوں رکاب میں جما کرزین سے اٹھ کے پوری قوت سے ایسی تلوار ماری کہ ژوپین دو ٹکڑے ہو گیا۔ اس کے لشکر نے یہ دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے۔ امیر مہرنگار کے پاس آئے دیکھا تو مر رہی ہے عمرو کو کہا۔ اے دوست جا کر بزر ج مہر کو بلا لا۔ جب تک بزر جمہر آئے مہرنگار مر گئی۔ امیر نے نعرہ مارا اور بے ہو ش ہوگئے ۔جب ہوش میں آئے تو پاگل ہو گئے تھے۔ بزر جمہر نے یہ حال دیکھا تو عمرو سے بولے۔ یہ اکیس دن پاگل رہیں گے۔ پھر ٹھیک ہو جائیں گے تم غم نہ کرو اور ان کا خیال رکھو۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کی سراغ رسانی

اکیسو ں دن امیر نے خوا ب میں حضرت ابراہیم ؑ کو دیکھا۔ انہوں نے ایک گلاس امیر کو پلایا اور کہا اے بیٹے تم ایک عورت کے لئے پاگل ہو گئے ہو یہ اچھا نہیں ہے۔ اتنے بیقرار نہ ہو اور اپنے کام دوبارہ کرن ے لگو۔ امیر جاگے تو ٹھیک ہو گئے تھے۔ عمرو سے پوچھا مجھے کیا ہوا تھا۔ عمرو نے سارا حال بتا دیا۔ امیر نے کہا اور تو سب ٹھیک ہے مگر میں نے اور مہرنگار نے وعدہ کیا تھا جو پہلے مرے گا دوسرا اس کی قبر پر مجاور بن ے گا۔ ا ب وہ پہلے مر گئی ہے میں اس کی قبر پر مجاور بنوں گا۔ تم سب اپن ے اپنے گھروں کو جائو۔ عمرو نے بہت سمجھایا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ سب دوست رو رو کر رخصت ہوئے۔

آخر میں عمرو اور مقبل رہ گئے تو عمرو کو کہا کہ تم بھی جائو۔عمرو نے کہا میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔ انہو ں نے کہا مقبل ہے نا میرے ساتھ۔ تم دریا کا سفر کرو جو کوئی چور، عیار اور لٹیرا ہو ان کو پکڑو۔ یہ بھی ایک کام ہے اور اس کام کو تم ہی کر سکتے ہو۔ عمرو نہ جاتا تھا مگر امیر نے زبر دستی اسے الگ کیا۔ آخر بڑی مشکل سے وہ مانا اور چلا گیا ۔ پھر امیر مہرنگار کی قبر پر جھاڑو دینے لگے۔ رات کو قبر کے پائوں کی طرف سو جاتے ۔ مقبل ان کے ساتھ رہتا۔