home remedies kitchen

کیڑے مکوڑے ختم کرنے کے گھریلو نسخے

EjazNews

چیونٹیاں، جھینگر ، لال بیگ اور دیگر حشرات الارض اکثر گھروں میں اپنا ڈیرہ جما لیتے ہیں اور ان کی بڑھتی ہوئی تعداد خاتون خانہ کے لئے مشکلات کھڑی کرتی رہتی ہیں۔ یہ کیڑے مکوڑے نہ صرف حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق گھر کے برقرار رکھے گئے ماحول کو ت ہہ و بالا کرنے لگتے ہیں بلکہ اگر کسی مہمان کے سامنے گھر کے کونے کھدروں میں لال بیگ رینگتے ہوئے نظر آجائیں تو اسے خاتون خانہ اپنی صفائی پر حرف بد محسوس کرنے لگتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کیڑے مکوڑوں کے خاتمے کے لئے مختلف کیمیکل کمپنیاں ایسے زہریلے کیمیائی مادے بڑی تعداد میں تیار کرتی ہیں جو ان کا خاتمہ کر دیتی ہیں ، لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ یہ زہریلی ادویات کافی قیمتی ہوتی ہیں اس طرح گھر کے ماہانہ بجٹ پر بھی اس کا منفی اثر ہی پڑتا ہے جبکہ کیڑے مکوڑوں کی افزائش اور گھروں میں ان کی موجودگی ہمیشہ کا ہی مسئلہ ہے۔

ذرا سوچیں کہ جب یہ کیمیائی وزہریلی ادویات موجود نہیں تھیں تب بھی کیڑے مکوڑوں کا یہ مسئلہ تو موجود ہی تھا تو پھر لوگ ان سے کیسے نمٹتے تھے۔ بات بہت آسانی سے سمجھ میں آجانے و الی ہے۔ قدرت نے ہر چیز کی خصوصیات رکھی ہوئی ہیں اور مختلف چیزوں میں انسان کے مسائل کا حل بھی موجود ہ ے۔ اس زمانے میں لوگ ان مسائل سے نمٹنے کے ئے موجودہ وسائل کے استعمال سے ان چھوٹی چھوٹی گھریلو مشکلات پر قابو پالیا کرتے تھے لیکن انسانی حیات کو آسان بنانےوالی ترقی نے ہمیں ان چیزوں سے دور کر دیا اور رفتہ رفتہ ہم ان گھریلو ٹوٹکوں اور نسخوں کو بھلا کر سہل طریقے ڈھونڈنے لگے، حالانکہ سالوں پرانے یہ ٹوٹکے اور نسخے نہ صرف ارزاں ہوتے تھے بلکہ دور جدیدکے زہریلے مادوں کی طرح انسانی صحت کے لئے مضر نہیں تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  چند آزمودہ گھریلو ٹوٹکے

اگر آپ بھی یہ چاہتی ہیں اس طرح کے گھریلو مسائل کو با آسانی اور ارزاں طریقے سے نمٹا لیا جائے تو پھر ذیل کی تراکیت یقیناً آپ ہی کے لئے ہیں۔

مچھر کیسے دور بھگائیں۔
کمرے میں گندھک یا کلونجی جلا کر دھواں کر دینے سے مچھر جاتے ہیں۔
سرو کی لڑکی اور سرو کے پتے بستر کے آس پاس بچھان ے سے مچھر نزدیک نہیں آتے۔
یوکلپٹس کا تیل، روغن سنگترہ، روغن الائچی اور سرسوں کا تیل ہم وزن ملا کر اسے تھوڑا سا جسم کے کھلے حصوں پر لگا لیا جائے تو مچھر نزدیک نہیں آئے گا۔
سرسوں کے تیل میں تھوڑی سی گوند ملا کر تو یا کسی سیاہ رنگ کے برتن مثلاً کڑاہی وغیرہ پر لگا کر کمرے میں رکھ دیں مچھر سیاہ رنگ کے برتن پر آئے گا اور پھر یہیں چپک کر رہ جائے گا۔
کھٹمل دور بھگائیں:
پلنگ کے پایوں پر اجوائن کی چار پوٹلیاں باندھ دیں۔کھٹمل رفتہ رفتہ ختم ہو جائیں گے۔ علاوہ ازیں اجوائن کو ایسی جگہوں پر چھڑک دیا جائے جہاں کھٹمل کی موجودگی کا شبہ ہو، اس طرح آپ کو کھٹمل سے نجات مل جائے گی۔
گرم پانی میں پھٹکری گھول کر چار پائی کی پٹیوں اورپایوں کے جوڑوں میں ڈالنے سے بھی کھٹمل ختم ہو جاتے ہیں۔
اگر بستر میں کھٹمل کی موجودگی کا شک ہوتو گندھک کو جلا کر بستر کو اس کی دھونی دیں، کھٹمل اگر ہوں گے تو مر جائیں گے۔
چوھوں سے چھٹکارا:
جس جگہ چوہے موجود ہوں وہاں تھوڑا سا پیپر منٹ باریک کر کے چھڑک دیں۔ اس طرح چوہ اس مقام سے بھا گ جاتے ہیں۔
لال بیگ سے چھٹکارا:
خمیری آٹے میں پسا ہوا لہسن ملا کر باریک باریگ گولیاں بنالیں اور انہیں ان جگہوںپر ڈالیں جہاں لال بیگ آتے ہیں۔ چند روز میں ہی لال بگ کا صفایا ہو جائے گا۔
چیونٹیوں سے نجات:
گھر کی دیواروں اور چھتوں پر سفیدی پھر وائیں۔ سفیدی میں نمک، گند اور تیل ملا کر اچھی طرح دو مرتبہ سفید ی کروالیں اس سے چیونٹیاں اور دوسرے کیڑے مکوڑے بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
چیونٹیوں کے بلوں میں مٹی کا تیل ڈال دینے سے بھی ان کا صفایا ہو جاتا ہے۔
جہاں پر بہت ساری چیونٹیاں ہوں تو وہاں پر تھوڑا سا سوکھا آٹا ڈال دیں اس سے بھی چیونٹیاں بھاگ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  گھریلو ٹوٹکے:بہت سے کاموں کے گھر بیٹھے حل