abluton

قسم اول: طہارت ِ صغریٰ وضو

EjazNews

وضو کے فضائل اور احکام:
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیشک میرے اُمتی قیامت کے دن آثار وضو کی وجہ سے نورانی چہرہ سے بلائے جائیں گے پس جو آدمی اپنے نور کو بڑھانا چاہے تو بڑھائے۔(صحیح بخاری: ج 1،ص25)۔

حضرت عثمانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے وضو کیا اور اپنے وضو کو احسن بنایا تو اس کے گنا ہ اس کے جسم سے جھڑ جاتے ہیں حتی کہ ناخنوں کے نیچے سے ہی خارج ہو جاتے ہیں۔(مسلم: ج 1،ص125)۔

حضرت عقبہ بن عامرؓ سے مر وی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور اپنے وضو کو احسن بناتا ہے اور پھر اٹھ کھڑا ہو اور دو رکعت نفل حضورِ قلب اور توجہ تامہ سے پڑھے تو اس کے لئے بہشت لازم ہو گئی۔(مسلم شریف: ج 1،ص122)
معلوم ہوا وضو کرنے کے بعد دو رکعت نفل تحیۃ الوضو کی نیت سے ادا کرنا موجب دخول جنت ہے۔

حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے وضو پر وضو کر لیا اُس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔(ابو داؤد: ج1،ص16)
یزید بن بشر فرماتے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو حکم فرمایا: وضو سے رہو اگر اس طرح نہ کیا تو کوئی مصیبت آ ہی پڑے تو اپنے نفس کے بغیر کسی کو ملامت نہ کرنا۔(ابو داؤد: ج1،ص16)
معلوم ہو ا ہمیشہ با وضو رہنا آنے والی مصیبت کو رو ک دیتا ہے۔

وضو کے فرائض:
وضو کے چار فرائض ہیں۔
قال اللہ تعالیٰ :
ترجمہ:اے ایمان والو! جب نماز کے ارادہ سے اُٹھو پس دھوؤ اپنے منہ کو اور ہاتھوں کو کہنیوں سمیت اور مسح کرو اپنے سروں کا اور پائوں دھوؤٹخنوں سمیت۔( المائدہ:6)
(1)سر کے بالوں سے ٹھوڑی تک منہ دھونا۔ (2) دونوں بازوئوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔ (3) چوتھائی سر کا مسح کرنا۔( 4) ٹخنوںسمیت دونوں پائوں دھونا۔ ( اگر پائوں میں موزہ نہ ہو) ورنہ اندر میعاد اس پر مسح کرنا۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں خدمت خلق کی اہمیت

اعضاء ِ وضو سے ذرا سی جگہ خشک رہنے سے وضو نہیں ہوتا:
حضرت عمرؓ نے فرمایا: ایک شخص نے وضو کیا اور ناخن کے برابر اپنے پائوں پر جگہ خالی چھوڑ دی نبی کریمﷺ نے اُسے دیکھ لیا اور آپ نے فرمایا: جاؤ !اچھی طرح سے وضو کرو ،وہ گیا (اور اچھی طرح وضو کیا ) پھر نماز پڑھی ۔(مسلم،ص،125،ج1)
اگر اِن تین اعضاء کو دھوتے وقت کچھ جگہ خشک رہ جائے تو وضو نہیں ہو گا حتی کہ اگر انگلیوں میں انگشتری یا بازوؤں میں کنگن وغیرہ ہو تو ان کو ہلائے تاکہ پانی پہنچ جائے۔ مصنف ابن شیبہ نے ص 55پر حدیث بیان کی ہم سے زید بن حباب، انہوں نے محمد بن یزید سے، اُنہوں نے محمد بن عتاب سے،انہوں نے اپنے والد سے ،وہ فرماتے ہیں حضرت علی؄ کو میں نے وضو کرایا تو انہوں نے اپنی انگشتری کو حرکت دی۔ اگر ناخن پالش لگی ہے تو اسکے نیچے پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے وضو اور غسل نہ ہو گا اگر ہاتھ یا پاؤں پر مہندی ہے کیونکہ اسکا اپنا جسم نہیں وہ فقط رنگ ہے تو اس سے وضو اور غسل میں کوئی نقص نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:  صرف، شفع اور اجارہ کا بیان

وضو میں پائوں کو دھونے کا بیان:
جاننا چاہیے کہ قرآ نِ کریم سات قرأۃ پر مشتمل ہے۔ چار قرأۃ میں آیت ِ مذکورہ اَرْجُلَکُمْ یعنی لام پر زبر کے ساتھ پڑھی گئی ہے۔ جس کا عطف وُجُوْھَکُمْ پر ہے تو اس کا معنٰی ہو گا وضو کے وقت منہ اور پائوں کو دھوؤ ۔ تین قرأۃ میں اَرْجُلِکُمْ لام پر زیر کے ساتھ پڑھی گئی ہے۔ تو اس قرأۃ کے اعتبار سے لام کی زیر عطف کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ جر ِجوار ہے۔ ( السنن الکبریٰ بیہقی :ص71 ، ج1)
اگر زیر عطف کی وجہ سے بھی ہو تو سیِّدُ المفسرین، صحابی رسولِ خدا ﷺ حضرت ابن عباس؆ کی تفسیر میں دونوں قرأۃ پر عمل کرنا فرمایا۔ یعنی موزہ کے ساتھ مسح کرو اور بغیر موزہ کے دھوو۔ ( تفسیر ابن عباس: ص71)
بعض لوگ اس کا عطف بھی بِرُئُوسِکُمْ پر اعتبارکر کے اس مغالطہ میں آگئے ہیں کہ پائو ں پر بھی مسح کرنا فرض ہے۔ یہ تفسیر عمل رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام اور عمل آلِ اطہار کے خلاف ہے۔ کیونکہ ان حضرات نے وضو کے وقت پائوں کو دھویا ہے( نسائی:ص 13، ج 1)۔
عبد خیرفرماتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ ؄ہمارے ہا ں تشریف لائے۔ وضو فرمایا: یعنی حضرت علی ؄نے دائیں اور بائیں پائوں کو تین تین بار دھویا اور فرمایا : جس کو خوش (اچھا)لگے کہ نبی کریم ﷺکے وضو کو معلوم کروں تو سرکار ﷺ نے اس طرح وضو فرمایا۔ (بخاری :ص 146، ج 1)

حضرت عطاء بن یسار؄ حضرت عبداللہ ابن عباس ؆کے فرمان کا ذکر پائوں دھونے سے فرمایا اور ساتھ حضرت ابن عباس؆ کے فرمان کا ذکر کیا کہ سرکار دو عالمﷺ کو اسی طرح وضو کرتے میں نے دیکھا ۔( مسلم : ص125، ج1)
حضرت ابو ہریرہ ؄سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جس نے دورانِ وضو ایڑی کو نہیں دھویا تو آپ ﷺ نے فرمایا : ایڑیوں کے لئے ہلاکت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تجارت کے پیشے میں بہت برکت ہے

حضرت عبد اللہ بن عمرؓفرماتے ہیں کہ نبی کریم علیہ السلام ایک سفر میں جو ہم نے آپ کے ساتھ کیا تھا ہم سے پیچھے رہ گئے پھر آپ ﷺ نے ہم کو پا لیا اس اثناء میں عصر کا وقت ہو گیا ہم اپنے پائوں پر مسح کرنے لگے۔ آپ ﷺ نے پکار کر فرمایا : ہلاکت ہے آگ سے ایڑیوں کے لئے۔(مسلم:ص125،ج1)

شیعہ حضرات کی معتبر کتاب الاستبصار ( ص 66، ج 1) میں ہے حضر ت علی ؄فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے وضو کرنا سکھایا۔میں نے پائوں کو دھویا تو سرکار ﷺ نے فرمایا کہ اے علی! انگلیوں میں خلال کرو۔ خشک رہنے سے آگ خلال کرتی ہے۔ اس روایت میں بھی حضرت علی المرتضیٰ ؓ کے وضو میں پائوں دھونے کا ذکر ہے۔ پھر اسی کتاب ( الاستبصار ، ص 76، ج 1) میں حضرت ابی بن عبد اللہ ؓ کا فرمان موجود ہے۔یعنی( سر کے مسح کے بعد دونوں پائوں کو دھوو) ۔ حضرت وکیع سفیان سے وہ ابی اسحاق سے وہ حارث سے وہ حضرت علی ؓ نے حدیث بیان کرتے ہیں انہوں نے دونوں پائوں کو گٹوں تک دھویا ۔(مصنف ابن شیبہ: ص31 ) ۔