umro ayyar-6

عمرو کی سراغ رسانی

EjazNews

ایک دن جب جنگ میں امیر کافروں کو مار رہے تھے اور ان کی حفاظت کرتے ہوئے ان کے پیچھے رہ کر عمرو اپنے آتشی شیشے سے جلا رہا تھا تو ژوپین نے اپنے لشکر سے کہا کہ امیر کے پیچھے سے عمرو کو ہٹائو۔ تب بہت سے کافروں نے ہلہ بول کر عمرو کو امیر سے الگ کر دیا اور بہمن نے پیچھے سے وار کر امیر کے سر پر چار انگل کا زخم کر دیا۔ امیر نے پلٹ کر اسے مارنا چاہا مگر وہ بھاگ گیا۔ امیر کے زخم سے بہت سا خون نکل رہا تھا۔ امیر نے اشقر کو کہا مجھے کافروں سے نکال کر لے جا اور اشقر کی گردن میں بازو ڈال دئیے ۔ اشقر کافروں کو مارتا کاٹتا امیر کو نکال کر لے گیا اور امیر کو ایک نالہ کے پانی میں گرادیا اور خود امیر کے سر کے پاس کھڑا رہا۔

اس نالے کا پانی امیر کے خون سے سرخ ہو کر بہتا تھا۔ یہاں سے تھوڑی دور ایک پن چکی تھی جو اسی پانی سے چلتی تھی ۔ چکی والے نے دیکھا کہ لال رنگ کا پانی بہتا ہے۔ وہ آگے بڑھاتو دیکھا کہ ایک مرد پڑا ہے۔ اس کے سر سے خون بہہ رہا ہے اور گھوڑا اس کے سر کے پاس کھڑا ہے۔ اس نے سوچا یہ کوئی شہزادہ ہے ۔ اگر میں اس کی دیکھ بھال کروں تو مجھے بہت انعام دے گا ۔ اس نے قریب آکر امیر کو کمر سے پکڑا اور زور لگا کر اٹھانے لگا۔ اشقر نے بھی امیر کو دانتوں سے پکڑا اور کھینچا ۔ پھر خود بیٹھ گیا اورامیر کو سوار کیا۔ چکی والے نے امیر کو گھوڑے پر خوب کس کے باندھ دیا اور اپنے گھر لے گیا۔ گھر جا کر بستر پر لٹایا تو اس کی ماں نے پوچھا۔ بیٹے یہ کون ہے۔ اس نے کہا یہ کوئی بڑا آدمی ہے، زخمی ہوگیا ہے۔ گھوڑے نے زمین پر گرادیا تھا۔ ا گر ہم اس کی دیکھ بھال کریں گے تو جب اچھا ہوگا تو ہمیں خدمت کا صلہ دے گا اگر مر گیا تو اس کے ہتھیار، کپڑے اور گھوڑا ہمارا ہوگا۔ ہم ہر طرح سے فائدہ میں رہیں گے۔ یہ کہہ کر ہتھیار کھولے اور ایک مٹھی آٹا اور نمک ملا کرزخم پر باندھا۔ اشقر اس کے کام کو دیکھ رہا تھا۔ وہ ہر وقت امیر کے پاس رہتا اور گھاس چرنے نہ جاتا۔ چکی والا اگر کبھی زبردستی چرنے کے لئے جانے کو کہتا تو وہ اپنے ماتھے کی تیسری آنکھ نکال کر ڈراتا۔ وہ چکی والا کہتا۔ کمال ہے اس گھوڑے کی تین آنکھیں ہیں۔ہم نے تین آنکھوں والا گھوڑا نہ دیکھا نہ سنا اور کہاں سے سنا ہوگا کہ یہ اپنی نسل کا نایاب گھوڑا تھا۔ یہ دیو تھا امیر نے پیار سے اس کا نام اشقر رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کی استاد سے شرارتیں (۳)

سات دن بعد امیر کو ہوش آیا۔ آنکھ کھول کر دیکھا تو اشقران کے سر کے پا س کھڑا تھا۔ امیر نے خدا کا شکر ادا کیا۔ اشقر نے امیر کو ہوش میں دیکھا تو زمین پر سررکھ کر سلام کیا۔ امیر نے چکی والے کو اشارے سے کہا کہ گھوڑے کی زین کھولو اور اسے چرنے کو چھوڑو۔ اس نے اشقر کی زین اتار کر اسے چرنے کو چھوڑ دیا۔ امیر نے کروٹ بدل کر شہ شیر چکی والے سے حقیقت پوچھی اس نے ساری بات بتادی۔ امیر نے کہا۔ تمہیں تمہاری محنت کا صلہ ملے گا۔ مگر اب میں بھوکا ہوں ایک بکری کے گوشت کا شوربہ بنا کے لائو۔ ایک بکری کے بدلے میں تمہیں سات بکریاں دوں گا۔ یہ سن کروہ اپنی ما ں کے پاس گیا اور ایک بکری لے آیا۔ امیر نے آہستہ سے اٹھ کر وہ بکری ذبح کی۔ شہ شیر نے بکری صاف کر کے شوربہ پکایا اور امیر کو دیا۔ امیر نے کچھ شوربہ پی کر باقی اس کو دے دیا۔ دوسرے دن امیر نے پھر بکری مانگی۔ شہ شیر نے کہا وہ بکری میں اپنی ماں سے لایا تھا اب کہاں سے لائوں۔ امیر نے کہا ، تیری ماں کے پاس جتنی بکریاں ہیں سب لے آئو میں ایک بدلے سات دوں گا۔ اس نے اپنی ماں سے جا کر کہا۔ اس نے کہا میں خود بات کرتی ہوں۔ اب وہ عورت امیر کے پاس آئی اور کہا۔ بیٹے کیا کہتے ہو۔امیر نے کہا جتنی بکریاں تیرے پاس ہیں، مجھے دے دو۔ میں ایک کے بدلے سات دوں گا۔ اس نے کہا میری شرط ہے، وہ شرط پوری کرے گا تو باقی چھ بکریاں دوں گا۔ ا میر نے پوچھا کیا شرط ہے۔ اس نے کہا، اپنا نام بتائو اور ایک بکری کے بدلے دس بکریاں لوں گی۔ امیر نے کہا منظور ہے ۔ میرا نام سعد شامی ہے میں امیر حمزہ کا چھوٹا بھائی ہوں اور ایک بکری کے بدلے آپ کو دس بکریاں دوں گا ،یہ میرا وعدہ ہے ۔ اس عورت نے امیر ا نام سنا توبکریاں لے آئی۔

یہ بھی پڑھیں:  عمروکا دوا کے حصول کا انوکھا طریقہ

امیر ہر روز بکری ذبح کرکے کھاتے۔ امیر کے لشکر والے امیر کے لئے بہت پریشان تھے۔ کیونکہ امیر مل نہیں رہے تھے اور نہ ہی اشقر کے پائوں کے نشان زمین پر تھے کیونکہ یہ پہاڑی علاقہ تھا اور پتھروں پر پائوں کے نشان نہیں بنتے عمرو بھی دن رات امیر کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔ ایک دن عمرو ڈھونڈتے ڈھونڈتے نالہ پر جا نکلا تو وہاں گھاس پر اشقر کو چرتے دیکھا۔ اشقر نے جب عمرو کو دیکھا تو ماتھا زمین پر رگڑا اور آگے آگے چل پڑا۔ عمرو بھی اس کےپیچھے چل پڑا۔ اشقر عمرو کوشہ شیر کے گھر لے آیا، جب عمرو اندر آیا تو اس نے امیر کو دیکھا۔ عمرو دوڑ کے امیر کے قدموں پر گرگیا۔ امیر نے عمرو کوگلے لگا لیا۔ دونوں گلے مل کربہت روئے کیونکہ امیر کی یہ حالت عمرو سے برداشت نہیں ہو رہی تھی اور اسے دیکھ کر امیر کوبھی رونا آرہا تھا۔ پھر جو کچھ کھانے کو تھا دونوں نے مل کر کھایا۔ عمرو نے کہا ۔ اے امیر، مہرنگار بہت پریشان ہے ۔ امیر نے کہا اے عمرو جا اور میرے دوستوں سے اور مہرنگار کو یہاں لے۔ تب عمرو دوڑتا ہوا گیا اور امیر کے زندہ بچنے کی خبر دوستوں اور مہرنگار کو سنائی۔ دوستوں نے خوشی کے شیادیانے بجائے اور سب سوار ہو کے امیر کے پاس آئے۔ مہرنگار بھی ساتھ آئی۔ سب نے شہ شیر کو اتنا مال دیا کہ وہ نہال ہوگیا اس کی ماں کو ستر بکریاں دیں۔ وہ اس دولت سے امیر ہو گئی اور خوش و خرم ہو کر زندگی گزارنے لگے۔ ان کی سات دن کی محنت نے ان کی قسمت پھیر دی۔

یہ بھی پڑھیں:  عمروکی ہاتھ کی صفائی