Umro ayyar_ayari

عمرو کا کمال

EjazNews

عمرو امیر کا خط لے کر ہوم کے دربار کے باہر جا کھڑا ہوا اور چوکیداروں کو کہا ،ہوم کو خبر کرو کہ عمرو آیا ہے ۔ژوپین نے عمرو کا نام سنا تو کہنے لگا۔ افسوس ہزار حمزہ ہوتے مگر یہ ایک عمرو نہ ہوتا۔ خدا اس سے بچائے۔ یہ سن کرہوم نے کہا۔ کیا وہ بہت بہادر ہے۔ ژوپین نے کہا ایسا ویسا بہادر، وہ بڑے بڑے بہادروں کی داڑھیاں مونڈتا ہے اور بہادروں کو لاتیں مار کر سر کے پٹے کاٹتا ہے۔ یہ سن کر ہوم نے عمرو کو اندر بلوایا۔ اس دبلے پتلے مسخرے کو دیکھ کر ہوم ہنسنے لگا اور ہنستے ہنستے بے حال ہونے لگا۔ عمرو نے کہا۔ کیوں ہنستے ہوا بھی رو دو گے۔ ہوم نے کہا ایسا کون ہے جو مجھے رلا دے۔ عمرو نے کہا، تجھے میں رلاﺅں گا۔ ہوم نے اپنے آدمیوں سے کہا پکڑو اس عیار کو۔ سپاہی جیسے ہی عمرو کی طرف بڑھے۔ عمرو نے ٹوپی پہن لی اور غائب ہو گیا۔ کافر یہ دیکھ کر بہت حیران ہو ئے۔

عمرو نے ہوم کی داہنی طرف آکر بازو پر زور سے لا تماری کہ اس کا سارا بازو پھڑکنے لگا اس کی ایک طرف اس کا وزیر بیٹھا تھا ہوم نے اس کی گردن پر ما مارا اور کہا تیری یہ مجال کہ مجھے مارتا ہے، وزیر نے کہا، میں آپ کے ساتھ ایسی حرکت کیسے کر سکتا ہوں۔ ساتھ ہی مکے کی وجہ سے وزیر بے ہوش ہوگیا یہ دیکھ کر سارے وزیر امیر گھبرا گئے کہ آج ہوم کو کیا ہوگیا۔ اب عمرو نے دوسری طرف سے ہوم کولات ماری اس طرف ژوپین بیٹھا ہوا تھا۔ ہوم نے کہا اے ژوپین تم نے مجھے کیو ں مارا۔ پژوپین نے کہا، میں نے نہیں عمرو نے مارا ہے۔ ہوم یہ سن کر گھبرا گیا کہنے لگا اس طرح تو یہ مار ڈالے گا۔ ژوپین نے کہا عمرو لا ت، مکے مارے گا۔ مگر جان نہیں لے گا۔ عمرو نے ہوم کو اتنی لاتیں ماریں کہ اس کا سر گھومنے لگا۔ تب ہوم نے کہااے عمرو مجھے تم سے کچھ کام نہیں۔میرا مقابلہ حمزہ سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  عمروکی غلط فہمی

عمرو ٹوپی اتار کر سامنے آیا اور کہا میر ے خط کا جواب دو۔ ہوم خط پڑھ رہا تھا کہ اس سے عمرو نے کہا۔ اے ہوم، میں نے کہا تھا کہ اتنا مت ہنس ورنہ رو دے گا۔ہوم نے کہا میں تمہیں مان گیا اور عمرو کو ایک ہزار روپے دئیے۔ عمرو نے کہا خط کا جواب چاہئے۔ ہوم نے کہا حمزہ سے کہنا کہ میری تمہارے ساتھ جنگ ہے۔ عمرو وہاں سے رخص تہوا اور امیر کوسب باتیں آکر بتائیں۔ امیر نے کہا مجھے ہوم دکھا دو۔ عمرو نے کہا دکھا دوں گا۔ رات ہو گئی تو حمزہ اور عمرو نے خندق پار کی اور آگے جا کے ایک جگہ سو گئے۔ صبح ہوئی تو ہوم اپنے اکھاڑے میں ورزش کرنے آیا عمرو نے اپنی شکل سوداگروں جیسی بنائی اور حمزہ سے کہا جب کہوں ، اے فولاد آ، تب آنا۔ امیر نے قبول کیا۔ اور دونوں ورزش کی جگہ پر گئے۔ ہوم نے سونے کی اینٹ پر پاﺅں رکھا۔ چار سو پہلوان ہلانے کی کوشش کرنے لگے مگر ہوم کا پاﺅں ہلا نہ سکے۔ پھر ہوم نے اپنے پاﺅں کو جھٹکا تو پہلوان دور جا گرے۔ اس وقت عمرو ہوم کے سامنے آگیا اور کہا۔ اے با دشاہ میرا ایک زبردست غلام ہے۔ میرا کہنا نہیں مانتا اور مجھے تکلیف دیتا ہے۔ آپ اس کو سدھار دیں۔ ہوم نے کہا۔ اس غلام کو بلاﺅ۔ عمرو نے زور سے کہا۔ اے فولا دآ۔ امیر آگئے۔ وہاں بختک اور ژوبین بھی تھے۔ انہوں نے کہا اس سوداگر کی چال ڈھال عمرو جیسی ہے جب عمرو ہے تو حمزہ بھی ہوگا۔ یہ سوچ جکر انہوں نے لشکر کو کہا سب تیار رہو اور قلعہ کے دروازے بند کر دو۔

جب امیر ہوم کے سامنے گئے تو ہوم نے کہا اے سوداگر ترا غلام تجھے پریشان کرتا ہے۔ عمرو نے کہا۔ ہاں یہ پریشان کرتا ہے۔ بے ادب ہے، اسے ادب سکھائیں۔ تب ہوم نے اپنا پاﺅں اینٹ پر رکھا اور کہا اٹھا۔ امیر نے کہا میں پہل نہیں کرتا۔ پہلے تم میرا پاﺅں اٹھاﺅں پھر میں اٹھاﺅں گا۔ اب تو کافروں کو یقین ہو گیا کہ یہی حمزہ ہے۔ امیر نے اپنا پاﺅں اینٹ پر رکھا۔ ہوم نے زور لگایا مگر امیر کا پاﺅں ہلا نہ سکا۔ اتنا زور کیا کہ ہوم کہر انگلی سے ایک قطرہ خون نکلا۔ تب مجبور ہو کر اس نے پاﺅں چھوڑ دیا اور اپنا پاﺅں اینٹ پر رکھا۔ تب امیر نے اس کا پاﺅں بائیں ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا اور اسے اٹھا کر زمین پر دے مارا۔ عمرو نے سونے کی اینٹ اٹھا کر اپنی زنبیل میں رکھ لی۔ تب ژوپین نے اپنے لشکر کو پکارکر کہا۔ حمزہ اکیلا ہے سب مل کر اس پرحملہ کر دو۔ وہیں کافروں نے امیر اور عمرو کو گھیر لیا۔ تلوار چلنے لگی حمزہ کے پیچھے عمرو ساتھ ساتھ رہا اور اپنے آتشی شیشے سے سب کو جلاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  عمروکی ذہانت

امیر کے لشکر کو بھی پتہ چل گیا کہ امیر اور عمرو گھر چکے ہیں۔ وہ بھی آکر لڑنے لگے خوب لڑائی ہوئی۔ بختک نے سپاہیوں کو اشارہ کیا کہ عمرو کو امیر کے پیچھے سے ہٹاﺅ۔ سب نے ہلہ بول دیا اور عمرو کو ہٹا کر لے گئے۔ ہوم نے پیچھے سے حمزہ کے سرپر تلوار ماری اور ان کے سر پر چار انگل کے برابر زخم آیا۔ امیر نے پیچھے مڑ کر اسے مارنا چاہا مگر وہ بھاگ گیا امیر نے لات مار کر دروازہ توڑا باہر گئے اور خندق کے کنارے بے ہوش ہو کر گر گئے تب تک عمر وبھی آگیا۔ وہ امیر کو اٹھاکر اندر لے گیا اور امیر کی مرہم پٹی کی۔ کچھ عرصہ بعد امیر ٹھیک ہو ئے اور پھر جنگ چھیڑی ۔ ژوپین بھا گ گیا اور نوشیرواں و بختک مدائن چلے گئے۔ امیر مدائن گئے تو نوشیرواں نے استقبال کیا۔ جب سبدربار میں بیٹھ گئے تو عمرو بادشاہ کے سامنے ہا تھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ باداشہ نے کہا عمر کیا چاہتے ہو۔ عمرو بولا کہ آپ ک یمرضی سے مہر نگار کا نکاح حمزہ سے کروانا ہے۔ بادشاہ نے کہا۔ میری طرف سے اجازت ہے۔ سب بہت خوش ہو ئے امیر نے بختک سے کہا ژوپین کہاں ہے۔ بختک نے کہا کوہستان کے بادشاہ بہمن کی پناہ میں ہے۔ امیر نے کہا افسوس اٹھارہ سال تک میرے لوگوں کو اس نے ستایا اور جان بچا کر چلا گیا۔ بختک نے کہا اس کا ملک خال یہے۔ جا کر اس کے گھر والوں اور ملک پر قبضہ کرلو۔ امیرنے قسم کھائی کہ جب تک اس کے بال بچے میرے ہاتھ نہ آئیں گے۔ شادی نہ کروں گا۔ عمرو نے اس بات کا برا منایا کہ بھلا اس طرح کی بات کا کیا فائدہ مگر اب تو امیر کو کہا پورا کرنا تھا۔ آخر انہوں نے اس کے ملک کو فتح کیا۔ اس کے بیو ی بچوں پر قبضہ کیا اور مہر نگار سے شادی کر لی۔ عمرو اور امیر کے سب دو ست بہت خوش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کی دودھ پلائی اور بچپن

ایک سال بعد امیر کے ہاں بیٹا پیدا ہوا۔ انہوں نے عمرو کو بھیجا کہ اے یار جلدی سے مدائن جا کر مہرنگار کے ماں با پ کو خوشخبری پہنچا۔ عمرو نے چھ مہینے کا راستہ دو دن میں طے کیا اور مدائن پہن چگیا۔ نوشیرواں کے دربار میں پہنچا تو بادشاہ نے کہا اے عمرو کیا خبر لائے ہو۔ عمرو نے کہا نواسہ مبارک ہو۔ نوشیرواں خوش ہوا اور خوشی کے شادیانے بجوائے۔ عمرو نے نام رکھنے کو کہا تو بادشاہ نے اپنے باپ کا نام رکھنے کو کہا۔ بچے کانام قباد شہریار رکھا۔ عمرو نے ملکہ کو خوشی کی خبر سنائی تو وہ بہت خوش ہوئی اور عمرو کو بہت سا انعام دیا۔ عمرو اتنا مال پا کر نہال ہوگیا۔ بختک اور ژوپین نے بادشاہ کو بھڑکایا کہ وہ آپ کے نواسے کو آپ کے تخت پر بٹھائے گا۔ بادشاہ ان کے بہکاوے میں آکر کوہستان کے بادشاہ بہمن سے مدد مانگنے گئے۔ اس نے امیر کو جنگ کی دعوت دی اور امیر اس سے جنگ کرنے پہنچے۔