islam_safi_taharat

طہارت کے مسائل اور احکام

EjazNews

ترجمہ:اس میں وہ لوگ ہیں جو خوب طہارت حاصل کرنے کو محبوب رکھتے ہیں اور طہارت کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہوتے ہیں۔(توبہ:108)
یہ آیت مبارکہ اہل مسجد ِقبا کے حق میں نازل ہوئی۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:طہارت ایمان کا حصہ ہے۔(مسلم شریف: ج1،ص 118)
طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں کی جاتی۔(مصنف ابن شیبہ:ص،14،ج1)
جاننا چاہیے: نماز شروع کرنے سے پہلے(1) طہارتِ جسم،(2) طہارتِ لباس اور (3) طہارتِ مکان شرائط ِ نماز میں سے ہے، پلیدی دو قسم کی ہے۔

قسم اوّل: غلاظت حقیقی
جو غلاظت بظاہر جسم یا کپڑے پر لگ جائے اگر وہ مر ئی( نظر آنے والی ) ہے جیسا کہ خون وغیرہ تواس کو پاک پانی سے دھوئیںحتی کہ وہ نظر نہ آئے۔ اس سے پاکی ہوجائے گی۔ اگر وہ پلیدی غیر مرئی ( نظر نہ آنے والی ) ہے تو پاک پانی سے خوب دھوئیں جو چیز نچوڑی جا سکتی ہے اسکو تین مرتبہ دھونے کے ساتھ ہر مرتبہ نچوڑا جائے۔ اور جو نچوڑی نہیں جا سکتی اُس میں تین مرتبہ قطرات آب رک جانے تک دھویاجائے۔

قسم ثانی: حکمی پلیدی
بے وضو اور جنابت ہو جانے سے حکمی پلیدی ہو تی ہے۔ جس کو تین طریقوں سے پاک کیا جاتا ہے۔(1)وضو سے۔(2)غسل سے۔(3) اگر پانی نہ ہو تو تیمم سے۔ اِن تینوں کے مسائل معلوم کرنا ضروری ہے جن کا ذکرہم آئندہ کریں گے۔

آداب الخلاء:
اگر بول و براز کا تقاضا ہو تو اُس سے بھی فراغت حاصل کرے تاکہ عبادت سکون سے ہو ، اس کے بھی آداب ہیں۔
حضرت عبد الرحمن بن یزید سے مروی ہے کہ حضرت سلمان ؄سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے نبی ﷺنے تم کو ہر قسم کی تعلیم دی ہے حتّٰی کہ بول و براز کی نوبت تک۔ حضرت سلمان؄ نے فرمایا: ہاں صحیح ہے ہمیں نبیﷺنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا)(سبحان اللہ واقعی اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔(مصنف ابن ابی شیبہ:ص177)

یہ بھی پڑھیں:  نمازِ جنازہ کا طریقہ اور دعائیں

قبلہ رخ اور قبلہ پشت قضائے حاجت نہ کرے:
حضرت ایوب انصاری ؄سے مروی ہے کہ پیشاب او ر پاخانہ کرنے کو جب جائو قبلہ رخ او ر قبلہ پشت نہ کرو ۔( بخاری: ج 1ص 57)
حضرت ابو بکر ؄نے فرمایا: ہمیں نبی ﷺنے منع فرمایا کہ بول و براز قبلہ رخ کریں۔ (مصنف ابن شیبہ : ج 1،ص، 176)
پانی پینے کی جگہ، راستہ اور سایہ میں بول و براز نہ کرے:

حضرت معاذ ابن جبل ؄فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لعنت کی تین جگہوں سے بچو۔ پانی پینے کی جگہ، راستہ اور سایہ کے نیچے بول و براز کرنے سے۔ مذکورہ تین جگہ بول و براز کرنا موجب ِ لعنت ہے۔(ابوداؤد:ج 1،ص5،ابن ماجہ ص 38)
غسل خانہ اور وضو خانہ کی جگہ بول و براز نہ کرے:
حضرت عبد اللہ بن مغفل سرجس ؄فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہ تم میں کوئی بھی غسل خانہ میں پیشاپ نہ کرے اور پھر اس میں غسل کرتا ہے۔ امام احمد نے فرمایا پھر اس میں وضو کرتا ہے۔ اس لئے کہ اس سے عموماً وسوسہ پیدا ہوتا ہے۔ معلوم ہوا کہ غسل خانہ یا وضو کی جگہ پیشاب کرنے سے وسوسہ پیدا ہوتا ہے اس لئے ممنوع ہے۔(ابو داؤد: ج1،ص 5)

بول و براز ایسی جگہ کرے جہاں کوئی نہ دیکھے:
جو شخص بول و براز کو جائے تو پردہ کرے ( پوشیدہ بیٹھے) پردہ کی جگہ نہ پائے تو ریت کا ٹیلہ بنا کر اس کے پیچھے بیٹھے۔ ( ابو داؤد: ج 1،ص 6)۔
حضرت جابر؄ فرماتے ہیں کہ نبی ،ﷺ جب بول و براز کرنے کا ارادہ فرماتے تو ایسی جگہ پر بیٹھتے جہاں کوئی بھی آپ کو نہ دیکھتا۔(ابوداؤد:ج 1،ص2)

یہ بھی پڑھیں:  نیک عورتوں کے اوصاف حمیدہ اوران کے ساتھ حسن سلوک کا حکم

گوبر ، ہڈ ی اور کوئلہ سے استنجا نہ کرے:
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؄سے مروی ہے ،فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گوبر اور ہڈیوں سے استنجا نہ کرو۔ بے شک یہ ( دونوں ) تمہارے مسلمان بھائیوں جنات کیلئے توشہ خوراک ہیں۔(ترمذی: ج 1،ص5)
بعض روایات میں یہ بھی ہے ہڈ یا ں جن پرگوشت لگا ہو جنات کی خوراک اور سرگین جس میں کچھ دانہ جات ہوں انکے چارپاؤںکی خوراک ہے۔
حضرت ابن مسعود؄فرماتے ہیں کہ جنات کی جماعت نے نبی کریم،ﷺ کے ہاں حاضری دی اور عرض کی آپ اپنی اُمت کو ہڈی، گوبر اور کوئلہ سے استنجا کرنے سے روکیں جبکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے خوراک بنائی ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مذکورہ اشیاء سے استنجا کرنے سے منع فرما دیا)(ابوداؤد:ج1،ص6)۔

تین ڈھیلوں سے استنجا کرے:
حضرت عائشہ ؅ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بھی تم میں سے کوئی بول وبراز کو جائے تو اپنے ساتھ تین ڈھیلے لیکر جائے اوراُن سے صفائی و پاکی حاصل کرے۔ پس بیشک وہ اس سے کفایت کرینگے۔(ابوداؤد: ج 1،ص6)۔

داہنے ہاتھ سے استنجا نہ کرے:
حضرت قتادہ ؄ے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء کو جائے تو اپنی شرمگاہ کو دایاں ہاتھ نہ لگائے اور نہ ہی دائیں ہاتھ سے استنجاکرے۔(بخاری: ج 1ص27،مصنف ابن ابی شیبہ ، ص 177، ج 1)
بروایت حضرت ابو بکر؄ہمیں رسول اللہ ﷺ نے دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا:’’ ولایستنج بیمینہ‘‘( دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے) ( ابن ماجہ: ص 27)۔

سخت جگہ پیشاب وغیرہ نہ کرے:
پیشاپ کے چھینٹوں سے بچو ،بے شک عموماً عذاب ِ قبر پیشاب کے چھینٹوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔(ابن ماجہ: ص 29)
سخت جگہ یا کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے چھینٹوں سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  فضائل اعمال و اقوال

کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے:
حضرت جابر؄سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔(مسلم شریف :ج 1،ص 138)۔

پانی سے استنجا مسنون ہے:
حضرت انس ؄سے مروی ہے:کہ رسو ل اللہ ﷺ پانی سے استنجا فرماتے۔(بخاری: ج 1،ص 27)

سوراخ میں بول و براز نہ کرے:
حضرت عبد اللہ بن سرجس ؄سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی زمین یا دیوار کے سوارخ میں پیشاب نہ کرے۔(ابوداؤد :ج 1،ص5،)

بول و براز کے وقت باتیں نہ کرے
حضرت ہلال ابن عیاض سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوسعید؄سے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا : نہیں نکلتے دو مرد جب وہ بول و براز کو جاتے ہیں جبکہ وہ اپنے ننگ سے ستر اُٹھاتے ہیں پھر وہ باتیں کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہو جاتا ہے۔( ابوداؤد :ج1، ص3)

کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرے:
حضرت عمر؄سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے مجھے دیکھ لیا جبکہ میں کھڑے ہو کر پیشاب کر رہا تھا تو سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا: اے عمر! کھڑے ہو کر پیشاب نہ کر اس کے بعد میں نے کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہیں کیا۔(ترمذی ج 1ص4، ابن ماجہ ص26)
تنبیہ :اگر کسی معذرتِ شرعی کی وجہ سے کھڑے ہو کر پیشاب کرے تو یہ جائز ہے۔ جس طرح حضرت حذیفہ ؄سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب فرمایا تو یہ بوجہ معذرتِ شرعی تھا۔