lahore vazir khan masjid

1883-84 میں لاہور کے مواصلات

EjazNews

مواصلات
درج ذیل گوشوارے میں 1878-79ء کی انتظامی رپورٹ کے مطابق ذرائع مواصلات کی تفصیل بیان کی گئی ہے:
ذرائع مواصلات میل
دریائوں میں کشتی رانی 104
ریلوے 144
پختہ سڑکیں 113.5
کچی سڑکیں 703
دریا
ستلج میں ضلع لاہور کے جنوب میں سارا سال کشتیاں رواں دواں رہتی ہیں البتہ زیادہ تر ٹریفک کشتیوں کے فیروز والا پل کے نیچے چلتی ہے۔ راوی میں کشتی رانی مشکل ہے اوروہاں آمد ورفت بھی معمولی ہے۔ سیلاب کے دنوں میں چمبہ کے جنگلات کی دیودار لکڑی دریا میں بہہ کر لاہور کی طرف آجاتی ہے۔ ان دریاؤں میں آمدورفت کی مکمل تفصیل پنجاب قحط رپورٹ 1879ء میں درج ہے۔ راوی کے گھاٹ اور کشتیوں کے بارے میں تفصیل پر مشتمل گوشوارہ درج کیا جاتا ہے۔

lahore char1

ریلوے
پنجاب ناردرن سٹیٹ ریلوے کی وزیرآباد برانچ ضلع لاہور کے بادامی باغ 2 میل، شاہدرہ 6 میل، کالا 11 میل اورمرید کے 17 میل سے گزرتی ہے۔
سندھ پنجاب اور دہلی ریلوے کی ٹیمیں مشرق کی جانب امرتسر اور جنوب کی جانب ملتان جاتے ہوئے ضلع لاہور سے گزرتی ہیں۔ امرتسر جاتے ہوئے اس کے سٹیشنوں میں میاں میر 3 میل اور جلو10 میل اورملتان جاتے ہوئے میاں میرویسٹ 4 میل، کاہنہ 13 میل رائے ونڈ26 میل کوٹ رادھا کشن 34 میل چھانگامانگا 44 میل اور واں رادھا رام 60 میل شامل ہے۔ قصور برانچ کی لائن رائے ونڈ سے ستلج پرگنڈا سنگھ والا سے گزرتی ہے اور اس کے سٹیشنوں میں راجا جنگ 3 میل، رکھا نوال 8 میل، قصور 16 میل گنڈا سنگھ والا23 میل اور گنڈا سنگھ بندر(دریا کے کنارے) راۓ ونڈ25 میل شامل ہے۔
سڑکیں اور ریسٹ ہائوس
اگلے گوشوارے میں اہم سڑکوں اور پڑاؤ کے مقامات کی تفصیل درج ہے۔ دریائے راوی پر لاہور اور شاہدرہ کے درمیان کشتیوں کا پل سارا سال استعمال میں رہتا ہے۔ یہ پل 31 کشتیوں پر بنایا گیا ہے اور اس کی لمبائی 1200 فٹ ہے۔ ستلج پرگنڈا سنگھ والا اور فیروز پور کے درمیان میں عام طور پر مئی کے اوائل میں ختم اور اکتوبر میں دوبارہ کھول دیا جاتا ہے۔68 کشتیوں تعمیر کیے جانے والے اس پل کی لمبائی 291فٹ ہے۔ ریلوے کمپنی رائے ونڈ اور گنڈا سنگھ والا کے درمیان بھاپ سے چلنے والی کشتی کی سروس شروع کرنے پر غورکررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جنگ کنواہہ

lahore char2

اچھی سڑک بارہ دری
اچھی حالت میں ایک کچی سڑک باری دوآب مین برانچ لوئر،لا ہور برانچ، قصور اور سبراوں برانچ نہروں کے ساتھ ساتھ گزرتی ہے جہاں ان مقامات پر پل تعمیر کیے گئے ہیں۔ مین برانچ لوئر گلپن (ڈل) جامن بیدیاں، سرہالی، للیانی، دفتھو، ستوکے اوروہاں لاہوربرانچ گرینڈ ٹرنک روڈ بمقام واگے، خیر، تلسپور، شالا مار، دہلی گیٹ، انارکلی روڈ، جیل روڈ، جی ٹی روڈ تا فیروز پو،ر شاہ کا کنواں، نیاز بیگ، قصور برانچ مغل والۂ، منی ہالہ، کچا پکا، گھاٹے کلیساں، ازگوں، سبراؤں، برانج، بھٹے بھینی اوربھاگو پور۔
لاہور اور میاں میر میں ڈاک بنگلے موجود ہیں البته لاہور کا ڈاک بنگلہ سرکاری حکام کے مطابق یکم اپریل 1884ء سے بند کر دیا جائے گا۔ مانگٹا نوالہ، چوہنگ، ننکانہ، مناواں، بھائی پھیرو، کنگن پور، کھڈیاں، ولٹہا اور پتی میں پولیس ریسٹ ہاؤس قائم ہیں۔ ان سب مقامات پر فرنیچر کراکری اور کھانا پکانے کے برتن موجود ہیں لیکن کوئی ملازم نہیں۔ جامن، بیدیاں، دفتو، نتھو، ستو کے، راجا جنگ، ہندال، گندیاں، واں، چومدها، بروال، واگے خیراہ، تلسپور، نیاز بیگ، دوگیج، امرسدھو، کلاس ماری اور بھمبے میں لوئرمین برانچ، لاہوربرائی اورباری دوآب نہر کے راجباہوں پرکینال ریسٹ ہاؤس تعمیر کیے گئے ہیں۔ قصور برانچ پرمنی ہالہ اورالگون اور باری د و دوآب نہر کی سبراؤں برانچ پر کھیم کرن میں بھی کینال ریسٹ ہاؤس موجود ہے۔ کٹورا کینال پرگنڈا سنگھ والا حسین خان اورلدی اورخانواہ نہرپرلولا کے مقام پر بھی ریسٹ ہاؤس قائم ہیں۔ گرینڈ ٹرنک روڈ پر فیروز پور کے راستے کاہنہ کاچھا، للیانی اورقصورجبکہ پشاور کے راستے راوی کے کشتیوں کے پل اورکالا شاہ کاکواورشیخوپورہ کے راستے منڈیالی کے مقام پرروڈ بنگلے تعمیر کیے گئے ہیں۔ سرائے مغل، قصور، چونیاں اور مرید کے میں سول ریسٹ ہاؤس اور شرقپوررائے ونڈ چھانگامانگا، واں، رادھا رام اور ہر یکے میں یورپی باشندوں کے لیے رہائش گاہیں موجود ہیں۔ چھانگا مانگا میں ایک فاریسٹ بنگلہ موجود ہے۔ کینال روڈ اور ڈسٹرکٹ ریسٹ ہاؤسوں میں فرنیچر موجود ہے لیکن کراکری کھانا پکانے کے برتن اور ملازم موجود نہیں۔
گرینڈ ٹرنک روڈ کے ساتھ فیروز پور تک گھوڑوں کے ذریعے ڈاک پہنچانے کا انتظام اب بھی موجود ہ ے اور ایک گھوڑا گاڑی روزانہ لاہور سے میاں میر جاتی ہے۔
اب ہم ضلع لاہور کی ک چی سڑکوں کی تفصیل درج کریںگے:

یہ بھی پڑھیں:  آریوں کی برصغیر میں آمد

lahore char3

پوسٹ آفس
تحصیل لاہور میں جن مقامات پر ڈاک خانے قائم ہیں ان کے نام یہ ہیں: لاہورجنرل پوسٹ آفس، لوہاری منڈی، موتی بازار، ریلوے سٹیشن، میاں میر، صدر بازار، رائے ونڈ، مانواں، شاہدرہ کا ہنا کاچھا، چوہنگ اور بھڈانہ۔ تحصیل قصور
کھلرا، پتی،ولٹوہا، قصور، کھیم کرن، گنڈا سنگھ والا اورللیانی۔
تحصیل چونیاں
چونیاں کنگن پور، کھڈیاں، چھانگا مانگا، بھائی پھیرو، سرائے مغل، کلرک آباد، تحصيل شرقپور، شرقپور، مرید کے اور مانگٹانوالہ۔ ان تمام ڈاک خانوں میں ماسوائے لاہورریلوے سٹیشن کے سیونگ بنک اورمنی آرڈر آفس موجود ہیں۔
ٹیلی گراف
ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ ٹیلی گراف لائن بچھائی گئی ہے۔ ہر ریلوے سٹیشن پر ٹیلی گراف آفس موجود ہے۔ ضلع لاہور میں دو امپیریں ٹیلی گراف آفس قائم ہیں جن کا لاہور میں ہیڈ آفس اور میاں میر میں سب آفس ہے۔ ہیڈ آفس کی عمارت بہت عمدہ ہے۔ 1882ء میں تعمیر کی جانے والی یہ عمارت اکاونٹ جزل آفس کے سامنے شاہراہوں کے سنگم پر واقع ہے۔ اس میں سگنل آفس اور بارہ سگنلزکے لیے دو بیرکیں موجود ہیں۔ ہیڈ آفس کا سٹاف ان اہل کاروں پرمشتمل ہے۔
سب اسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ انچارج 1
ٹیلی گراف ماسٹرز 4
سلنگرز 26
کلرک 2
دیی سگنلرز 4
میاں میر سب آفس بریگیڈئیر میجر کے زیرنگرانی کام کرتا ہے اور یہاں فوج کے سگنلر تعینات ہیں۔
لاہور میں لاہور ٹیلی گراف سب ڈویژن کا ہیڈ کوارٹرز قائم ہے اور ملتان سے راولپنڈی تک کا علاقہ اس کے کنٹرول میں ہے۔ اس کی شاخیں وزیر آباد سے سپچیت گڑھ (جموں کے علاقے میں ) اورلالہ موسی سے بھیرہ اور کھیوڑہ سالٹ مائنز تک پھیلی ہوئی ہیں ۔ گورنمنٹ ٹیلی گراف آفس میں ایک ٹیلی فون ایکسچینج بھی قائم ہے جس سے درج ذیل سرکاری دفاتراورسرکاری حکام کی رہائش گاہیں منسلک ہیں:
اکاونٹ جنرل آفس، ملٹری سیکرٹری آفس، سینٹری کمشنر،آفس ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر، سول سیکرٹریٹ، پی ڈبلیو ڈی ڈپارٹمنٹ، سول سیکرٹریٹ پریس بنک آف بنگال، رہائش گاہ لیفٹیننٹ گورنر اور رہائش گاہ گورنرز سیکرٹری۔ ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کی رہائش گاہ ، ڈسٹرکٹ پولیس آفس سینٹرل جیل، انارکلی پولیس سٹیشن اور شہر میں پولیس لائن میں بھی ٹیلی فون نصب ہیں۔ چیئرنگ کراس پولیس پوسٹ پر بیس ٹیلی فون ایکسچینج بھی موجود ہے۔ پولیس ایکسچیج اور ڈسٹرکٹ پولیس آفس کا گورنمنٹ آفس کے ساتھ براہ راست رابطہ ہے۔
لاہور ریلوے سٹیشن پربھی ٹیلی فون ایکسچینج قائم ہے جس سے سندھ پنجاب اوردہلی ریلوے کمپنی کے ہیڈ کوارٹرز کے درج ذیل انتظامی دفاتر مسلک ہیں: آڈیٹرز آفس، سینٹرل آڈٹ آفس، آڈٹ آفس ایجنٹ آفس ٹریفک منیجرز آفس، کنسلٹنگ انجینرزآفس، سٹیشنری آفس، چیف انجینئر ز آفس، سٹور کیپر آفس، کوآیرپیٹوسٹورزاورلوکو موٹو سپرنٹنڈنٹ آفس۔ سول اینڈ ملٹری گزٹ پریس بھی گورنمنٹ ایکسچینج کے ساتھ منسلک ہے۔ ریلوے ٹیلی گراف کے دفاتر کا فنی عملہ گورنمنٹ ٹیلی گراف آفس کے ماتحت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ میں مسلمانوں کی حکومت اور اس کے اثرات