umro ayyar

عمرو کی ذمہ داری

EjazNews

امیر کو پریوں نے اپنی مدد کے لئے کہا۔ وہ ان کے ساتھ اٹھارہ دن کے لئے گئے مگر وہاں اٹھارہ سال لگ گئے۔ بزرجمہر نے عمرو کو خط لکھ کر بتایا کہ اٹھارہ سال بعد امیر تنجہ شہرمیں تم سے آکر ملیں گے۔ عمروسب کو لے کر اس طرف چل دیا۔ ان کے لشکر کے پیچھے ژوپین اوربختک نے بھی لشکر لگا دیا۔ یہ لڑتے بھڑتے تنجہ شہر پہنچ گئے۔

اٹھارہ سال بعد مہرنگارمحل کی چھت پر کھڑی کوہ قاف کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اسی وقت دو پرندے آسمان پر اڑے جارہے تھے۔ مہر نگار نے سوچا ان پرندوں کو تیرمارتی ہوں۔ اگرنشانہ ٹھیک لگا تو امیرآج آجائیں گے اور اگر نشانہ چونک گیا تو امیرنہیں آئیں گے۔ مہرنگار نے نیت کر کے تیر چلایا تو تیرنے دونوں پرندوں کو چھید ڈالا اور دونوں پرندے زخمی ہوکر زمین پر آگرے۔ اس وقت امیر اپنے گھوڑے پر سوار یہیں سے گزررہے تھے۔ انہوں نے گھوڑے سے اتر کر پرندوں کو ذبح کیا۔ تیر کو دیکھا تو پروں کو صاف کرنے لگے۔ مہر نگار نے عمرو سے کہا کہ میں نے دو پرندے مارے ہیں وہ نیچے گرے ہیں، جا کر لے آؤ۔

عمروان پرندوں کو لینے کے لئے قلعہ سے باہر آیا۔ اس نے دیکھا کہ ایک آدمی جس نے پوتین پہنی ہوئی ہے۔ پرندوں کو صاف کر رہا ہے۔ عمرو بولا اے شخص یہ پرندے تو میری ملکہ کے ہیں توان کے پرکیوں نکال رہا ہے۔ اگر اپنی بھلائی چاہتے ہو توان پرندوں کوفورا مجھے دے دو۔ امیر نے عمرو کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔ دل میں خدا کا شکر کیا مگرعمروکی بات کا جواب نہ دیا۔ تب عمرو نے ان کے قریب آ کر کہا کیا بہرے ہو۔ سنتے نہیں، یہ پرندے میرے ہیں۔ امیر نے جواب دیا۔ اللہ نے ان پرندوں کو میرے سامنے لا ڈالا ۔ اب یہ میرے ہیں۔ میں تمہیں ہرگز یہ پرندے نہ دوں گا۔ عمرو نے کہا کہ ہماری ملکہ مہرنگارنے ان پرندوں کو تیز سے مارا ہے۔ تیر سے مارنا شکار ہے۔ اب اس شکار کو جلدی سے مجھے دو۔ امیر نے کہا۔ مہر نگارکون ہے۔ عمرو نے کہا۔ وہ حمزہ کی منگیتراورنوشیرواں کی بیٹی ہے۔ امیر نے کہا۔ اچھا اچھا، میں بھی حمزہ کے پاس سے چل کے مہر نگار کے پاس آیا ہوں۔ عمرو نے پوچھا حمزہ کہاں ہے۔ امیر نے کہا۔ وہ کوہ قاف میں ہے۔ عمرو نے پوچھا۔ وہ وہاں کیا کررہا ہے۔ امیر نے کہا۔ ملک زرین میں اسماء پری کے ساتھ عیش کررہا ہے۔ اورکا۔ مجھے مہرنگار کے پاس بھیجا ہے۔ حمزہ کے بارے میں باقی باتیں مہرنگار کے سامنے بناؤں گا۔ عمرو نے کہا۔آپ سوارہوں۔ میں آپ کو مہرنگار کے پاس لئے چلتا ہوں۔ امیر سوار ہو کرعمرو کے ساتھ چل پڑے۔ کافروں کا لشکر عمرو پرنظررکھے ہوئے تھا۔ انہوں نے عمرو کو ایک سوارکے ساتھ جاتے دیکھا تو بزرجمہر سے کہا۔ آپ نے کہا تھا۔ امیرحمزہ کوہ قاف سے اٹھارہ سال بعد آئے گا۔ آج اٹھارہ سال ہو گئے۔ حمزہ کہاں ہے۔ بزرجمر نے کہا۔ اس سوارکو دیکھوجوعمرو کے ساتھ جارہا ہے۔ وہی حمزہ ہے۔ نوشیرواں نے کہا یہ گھوڑا حمزہ کا نہیں ہے یہ کوئی اورہے۔ امیر جب خندق کے پاس آئے تو چھلانگ لگا کر گھوڑے سے اترے اور اسے کہا جب میں جاؤں گا۔ اس کے بعد آنا ژوپین نے جو اتنا شاندار گھوڑا دیکھا تو اپنے آدمیوں کو کہا اس گھوڑے کو پکڑ لا تب مغل دوڑے اور اشقرگھوڑے کو گھیرا۔ اشقرمغلوں پردوڑا کسی کو لات ماری کسی کو دانتوں سے کاٹا۔ کچھ مارے گئے کچھ بھاگ گئے تو اشقرکود کرقلعہ میں گیا۔ تب نوشیرواں اوردوسرے بولے اگر حمزہ کا گھوڑا ایسا نہ ہوتا تو بہادری کہاں ہوتی گھوڑا نہ ملنے پر ژوپین اوربختک شرمندہ ہوئے۔ ادھر امیر اشقر پر سوار ہوکرمحل میں مہر نگار کے پاس گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  عمرو کی فطانت

عمرو نے اندرجا کر کہا کہ کوہ قاف سے حمزہ کا قاصد آیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ حمزہ کاحکم ہے میں ان کا پیغام مہرنگار سے اکیلے میں کہوں ۔ کوئی اورنہ سنے۔ مہر نگار نے کہا وہ بات کیا ہے معلوم کر کے آ۔عمرو نے آ کر کہا۔ مہرنگار آج تک کسی غیر مرد کے سامنے نہیں ہوئی پھر تمہارے سامنے کیسے آئے گی۔ اس نے کہا میں سوائے مہرنگار کے کسی اورکچھ نہیں بتاؤں گا۔ مجبور ہو کر عمرو نے پردہ باندھا اس کے ایک طرف مہر نگارکو کھڑا کیا اور دوسری طرف امیرکو کھڑا کیا۔ انہوں نے بھاگ کر مہر نگار کو گلے لگا لیا۔ مہرنگار پہچان کر ان کے قدموں پرگرگئی۔

عمرو نے جلدی سے آ کر پوتین اورٹوپی ہٹائی تو اسے امیر نظر آئے وہ فورا ان سے لپٹ گیا۔ ذرا دیر میں یہ خبرمشہور ہوگئی کہ امیر کوہ قاف سے آگئے ہیں۔ سب جمع ہوئے اورخوشیاں منائیں۔ امیر نے دشمنوں کا حال پوچھا۔ عمرو نے شروع سے اب تک کی ساری باتیں کہہ سنائیں۔ امیر نے لشکر کو جنگ کرنے کا حکم دیا۔ اور ان کو مار بھگایا۔ ان کا سب مال لوٹا اور فتح کا جشن منایا۔ چالیس دن جشن رہا۔ ایک دن عمرو سے پوچھا۔نوشیرواں اب کہاں ہے۔ اس نے کہا ہوم دمشقی کے پاس چھپا ہوا ہے۔ امیر نے عمرو کو خط دیا کہ ہوم دمشقی کو دے آؤ۔ اس وقت انہیں یاد آیا کہ پرستان میں مجھے ایک ٹوپی تحفے میں ملی ہے۔ انہوں نے وہ ٹوپی عمروکو دی۔ اس نے کہا میرے کس کام کی- امیر نے ٹوپی سر پررکھی تو غائب ہو گئے ۔ سب حیران ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  عمروکی دستگیری

امیر نے ٹوپی عمرو کو دی۔ عمرو نے ٹوپی کو چوما اور کہا۔ پہلے نوشیرواں پر بختک اور ژوپین کی بیٹیاں چرا کرلاتا ہوں۔ امیر نے کہا۔ ایسا نہ کرنا۔ اگر تم ایسا کرو گے تو بدنام میں ہو جاؤں گا۔ اس لئے میں یہ ٹوپی تمہیں نہیں دیتا تب عمرو نے کہا۔ میں ایسا نہیں کروں گا۔ امیر نے کہا تم قسم کھاؤ۔ عمرو نے قسم کھائی تو امیر نے ٹوپي عمرو کو دے دی۔