japan

ایٹم بم گرا،لیکن اس کے باوجود میڈ ان جاپان پوری دنیا پر چھایا

EjazNews

سرزمین ِجاپان، برّ ِاعظم ایشیا کے انتہائی مشرق میں جزیروں کے ایک لمبے سلسلے پر مشتمل ہے، جو شمال سے جنوب کی طرف پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ آبادی کے لحاظ سے بہت بڑا ملک ہے ۔ جاپان جسے آٹو موبائل انڈسٹری کا ’’گاڈفادر‘‘تصور کیا جاتا ہے، یہاںشہریوں کے لیےہر قسم کی سہولتیں میسّر ہیں۔ بادشاہت قائم ہےاور جاپانی قوم کا شمار دنیا کی محنتی اقوام میں ہوتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ جاپان ترقّی یافتہ ممالک کی صف اول میں کھڑا نظر آتا ہے۔

ایشیا کے اہم صنعتی و معاشی طور پر مضبوط ملک ’’جاپان‘‘ کے بارے میں صاحبِ طرز شاعر و ادیب ابن انشاء نے کہا تھا کہ ’’اے صاحبو! جاپان تو جدید ہے، لیکن جاپانی اتنے جدید نہیں ہیں۔
اسی جاپان پر ایٹم بم بھی گرایا گیا تھا۔ ایٹمی جنگ کا ذکر کرنا تو آسان ہے، لیکن ایٹم بم کے استعمال کے تصوّر ہی سے ہول آنے لگتا ہے اور اس سلسلے میں ہیروشیما اور ناگاساکی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں سے ہونے والی تباہی قیامتِ صغریٰ سے کم نہیں ہو گی۔ حب الوطنی اور جان نچھار کرنے کی باتیں اپنی جگہ، لیکن جب مُلک ہی تباہ ہو جائے گا، پھر بچائیں گے کِسے۔

دوسری جنگ عظیم تک جاپان کا یہ حال تھا کہ ’’میڈ اِن جاپان‘‘ کا لفظ جس سامان پر لکھا ہوا ہوتا، اس کے متعلق پیشگی طور پر سمجھ لیا جاتا تھا کہ یہ سستا اور ناقابل اعتماد ہوگا۔ جاپانی سامان کی تصویر اتنی گھٹیا تھی کہ مغربی ممالک کے تاجر جاپانی ساخت کا سامان اپنی دکان پر رکھنا اپنی ہتک سمجھتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  انسانوں کے درمیان فرشتہ ”عبدالستار ایدھی“

1949ء میں ایروڈ ڈلیمنگ نے کوالٹی کنٹرول کا ایک نیا نظریہ پیش کیا، جسے جاپانیوں نے پوری طرح اپنایا اور اپنے صنعتی نظام کو کوالٹی کنٹرول کے رخ پر چلانا شروع کردیا۔ اور پھر جلد ہی جاپانیوں کے کارخانے بے نقص سامان تیار کرنے لگے، یہاں تک حال یہ ہوگیا کہ برطانیہ کے دکان داروں کو کہنا پڑا کہ وہ جاپان سے اگر ایک ملین کی تعداد میں کوئی سامان منگواتے ہیں، تب بھی انہیں یقین ہوتا ہے کہ اس میں کوئی ایک چیز بھی نقص والی نہیں ہوگی۔ دنیا بھر میں جاپانی سامان پر سو فیصد بھروسا کیا جانے لگا اور اس طرح جاپانی، امریکہ ہی سے کوالٹی کنٹرول کا مذکورہ نسخہ حاصل کرکے امریکہ کی منڈی پر چھا گئے۔ آج دنیا بھر میں استعمال ہونے والے الیکٹرانک آلات کے کل سامان کا تقریباً بیشتر حصہ جاپانی ساختہ ہے۔چونکہ جاپان میں کارکنوں کو اس بات کا ہر وقت احساس رہتا ہے کہ ان کے ہاتھوں تیار شدہ مال سمندر پار ممالک کو برآمد کیا جائے گا اور اگر اس کا معیار خراب ہوا، تو جاپانی اشیاء کی اہمیت کم ہوجائے گی، نئے آرڈرز ملنے بند ہوجائیں گے اور اس کے جاپانی معیشت پر برے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جاپانیوں کی بنائی اشیاء دنیا بھر کے لوگ مکمل اعتماد اور قلبی اطمینان کے ساتھ خریدتے ہیں۔ حتیٰ کہ امریکہ سمیت یورپ کے ترقی یافتہ ممالک بھی جاپانی مصنوعات و دیگر اشیاء کی خریداری میں ’’میڈ اِن جاپان ‘‘ہی کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مرزا اسد اللہ خاں غالب

بنیادی ضروریات کی جستجو میں انسان جیسے جیسے اوزار بناتا گیا، ضروریات بھی بڑھتی گئیں، نت نئی چیزیں وجود میں آتی گئیں اور دنیا زراعت سے نکل کر صنعت میں داخل ہوگئی۔ ایسے میں جب جاپان نے نت نئی اشیاء اور بے شمار مصنوعات تخلیق کرکے دنیا بھر میں متعارف کروائیں، تو ابتدا میں اس پر یورپی اشیاء کی نقالی کا الزام بھی لگا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جاپان نے ہمیشہ کسی بھی چیز کو ترمیم و اضافے اور انتہائی مہارت کے ساتھ نہ صرف پہلے سے بہتر شکل میں پیش کیا، بلکہ ان مصنوعات اور اشیاء کو سستا، پائیدار اور آسان کر کے ساری دنیا میں عام آدمی تک پہنچانے کی رسم بھی ڈالی۔ اگر یہ کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا کہ جاپان نے صرف مال ہی نہیں، ساری دنیا میں اپنا بھروسا بھی بیچا ہے۔ جاپانی انتہائی لگن، نظم و ضبط اور دیانت داری سے کام کرتے ہیں، اور اس ڈھنگ اور مہارت سے معیاری و مستند مصنوعات تیار کرتے ہیں کہ جنہیں لوگ استعمال کرنا پسند کرتے ہیں۔ اور پھر یہ جاپان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہی ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چین، کوریا، ویتنام اور انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک سے نوجوان لڑکے، لڑکیاں بطور اپرنٹس یہاں سے سیکھ کر اپنے ملک کے لوگوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ صرف یہی نہیں، جاپانی ماہرین پر مشتمل ٹیمیں بھی اطراف کے ممالک میں میکرز کی تربیت و رہنمائی کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  زندگی کی حقیقت

اگر آپ غور کریں تو اس ملک پر ایٹم بم بھی گرایا گیا لیکن یہ محنتی قوم کسی طور پر پیچھے نہیں رہی۔ انہوں نے دن رات کام کیا اور آج دنیا میں باعزت ہیں۔ جاپان دنیا بھر کے لیے مثال ہے کہ تم کچھ کرنے کا جب ارادہ کر لیتے ہو تو پھر غیبی مدد بھی ملتی ہے ۔ راستے بنتے جاتے ہیں بس تم چلتے رہنا۔