army public school

سانحہ آرمی پبلک سکول:والدین جب عدالت میں آبدیدہ ہو گئے

EjazNews

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سانحہ آرمی پبلک سکول پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ سے متعلق حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔ سماعت کے دوران آرمی پبلک سکول میں ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہوگئے جس پر چیف جسٹس نے انھیں تسلی دی۔ سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور از خود نوٹس پر سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ سانحہ اے پی ایس کے حوالے سے قائم کیے گئے انکوائری کمیشن کی 6 جلدوں پر مشتمل رپورٹ عدالت میں پیش کر دی گئی ہے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ حکومت کے آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق آگاہ کریں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر 5 اکتوبر 2018 کو پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس ابراہیم کی سربراہی میں انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران آرمی پبلک سکول میں شہید ہوئے بچوں کے والدین بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ والدین نے عدالت سے انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی۔ انھوں نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس کرسی پر آپ بیٹھے ہیں اللہ نے آپ کو بہت عزت دی ہے، آپ ہی ہمیں انصاف دلا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کے آمد کی خبر نہیں تھی: وزیراعلی سندھ

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے اور کہا کہ ہمیں آپ سے بے حد ہمدردی ہے، جو آپ کے ساتھ ہوا ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا۔ آپ عدالت سے کیا چاہتے ہیں؟۔
عدالت میں موجود والدین نے چیف جسٹس سے گزارش کی کہ تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کی کاپی انہیں بھی دی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی ہم نے نہیں پڑھی، حکومت کا جواب آئے گا تو دیکھ لیں گے۔
اس میں دو رائے نہیں قانون اور آئین کے مطابق جو ہوگا وہی کریں گے۔ ہم نے کمیشن بنایا تاکہ کیس کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔
اس دوران والدین کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہو گئے اور کہا کہ اس صورت حال میں ہم پاکستان میں نہیں رہ سکتے۔

چیف جسٹس نے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں قانون کی حکمرانی ہے، جس کی کوتاہی ہے اسے قانون کے مطابق دیکھیں گے، ہم نے کسی بھی ذمہ دار کو نہیں چھوڑنا۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ چھ جلدوں پر مشتمل رپورٹ پہلے عدالت دیکھے گی پھر بتائیں گے، جو رپورٹ آئی ہے اس پر فیصلہ عدالت نے ہی کرنا ہے۔کیس کی سماعت 4 ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  بجلی چوری مہم میں 20ہزار پرچے درج ہو چکے ہیں:وزیراطلاعات و نشریات