A View Near Lahore - 1860-80

1883-84 میں لاہور کے پیشے، صنعتیں، تجارت اور مواصلات(۲)

EjazNews

دیگر عمارتی سامان:
عمارتوں پر پلستر کرنے کے لیے استعمال ہونے والے میٹریل کا معیار ناقص اور غیر اطمینان بخش ہے اور یہ دوتین سال کے بعد اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ میٹریل اور کاریگر دونوں کی کارکردگی غیر معیاری ہے۔ پرانی عمارتوں پر جو کام ہوا ہے، اب اس معیار کا کام نہیں ہوتا۔ حال ہی میں واٹر ورکس کی تعمیر کے سلسلے میں جوعمارتیں گرائی گئیں، ان کی جانچ پڑتال سے یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ پچھلی صدی کے دوران ان مکانوں میں لکڑی کا جو عمدہ کام ہوا ہے، اس کی تازگی ابھی تک برقرار ہے۔ عمارتوں کے اندر نقش و نگار کے اعلیٰ معیار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس زمانے میں فن تعمیر سیکھنے والے نوجوانوں کو ڈرائینگ کے علاوہ پھول اور برگ وبار بنانے پر کامل دسترس حاصل تھی اور انہوں نے یہ فن سخت ریاضت اور تربیت کے بعد سیکھا تھا۔ ریلوے ورکشاپس اور دوسرے ادارے اس حقیقت سے چشم پوشی کررہے ہیں جس کا نتیجہ نکلا ہے فن تعمیر کا معیار ہر سال گرتا جارہا ہے۔

صنعتیں ( تیل اور وارنش):
ان صنعتوں کی کامیابی کا انحصار ایندھن کی قیمتوں پر ہے۔ سپلائی کی صورت حال بہتر ہونے سے یہاں سوتی کپڑے اور دوسری اشیائے صرف کی ملیں قائم ہوسکتی ہیں۔ بھاپ سے چلنے والی ملوں میں تیار ہونے والے السی کے تیل کا معیار بہت عمدہ ہے۔ السی کے تیل کو ابال کر رنگ میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ تیل اچھی طرح خشک ہوجاتا ہے اور عملی مقاصد کے لیے برطانوی کمپنیوں کے تیار کردہ تیل کے برابر ہے۔ اس سے اگلے مرحلے میں مختلف قسم کی وارنش تیار کی جاتی ہے۔سستی قسم کی تار پیںمیں دیودار لکڑی سے نکلنے والے گندے بیروزے سے بنائی جاتی ہے۔ رنگ و روغن کے لیے یہ ایک مناسب محلول ہے۔ رنگ ساز خودبھی وارنش تیار کر لیتے ہیں لیکن ناکافی آلات کی وجہ سے اس کا معیار اچھانہیں ہوتا۔ اس وقت انگلستان سے بڑی مقدار میں اعلیٰ قسم کی وارنش درآمد کی جارہی ہے۔ غرض اب گوند،ہرقسم کے تیل اور تارپین بازار میں عام دستیاب ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں ہنرمندی کے ساتھ بروئے کار لایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  محی الدین اورنگ زیب عالم گیر کی اصلاحات و فتوحات

موم بتیاں اور صابن:
لاہور میں تیار ہونے والے صابن کی کوالٹی بہت عمدہ ہے۔ اون صاف کرنے کے لیے بڑے پیا نے پر یہ صابن استعمال کیا جاتا ہے۔ وھاریوال کی ایجرٹن اولین ملز اس کی واضح مثال ہے۔ موم بتیوں کی صنعت نئی لیکن ترقی پذیر ہے۔ موبتی سے شمع دان یا چراغ کی طرح دھواں پیدا نہیں ہوتا جس کی وجہ سے اس کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح امیرطبقوں میں دیسی تیل کے لیمپوں کے بجائے مٹی کے تیل کے لیمپ عام ہورہے ہیں جس کی وجہ سے جلنے والے تیل کی مانگ کم ہورہی ہے۔

پرنٹنگ:
انگلستان سے درآمد شدہ صنعتوں میں پرنٹنگ کافن سب سے زیادہ مقبول ہوا ہے۔ اگرچہ اس کا شمارفنون لطیفہ میں ہوتا ہے لیکن اسے سیکھنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ اس وقت پنجاب میں کئی ایسے پرنٹنگ پریس موجود ہیں جہاں چھپائی کا معیاری کام ہورہا ہے۔ یہ سب پریس ہاتھ سے چلائے جاتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پانیئر جیسے بڑے اخبارات بھاپ کے انجن کے بجائے ہاتھ سے چلنے والے پریسوں پر سستے داموں چھپ رہے ہیں اور یہ پریس زیادہ قابل اعتماد ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ سٹیم پریس کی صنعت جلد دم توڑ جائے گی۔ مقامی زبانوں کے اخبارات لیتوگرافی کے ذریعے چھتے ہیں لیکن ان کی حالت اچھی نہیں ہے۔ کرومو اور چاک لیتھوگرافی کا ابھی تک کوئی تجر بہ نہیں کیا گیا۔ میلوں اور دوسرے اجتماعات اور شہر میں کتابوں کی چھوٹی چھوٹی دکانوں پر قصے کہانیوں اور شاعری کی جو کتابیں فروخت ہورہی ہیں، ان میں چھپنے والی تصویریں حد درجہ ناقص ہوتی ہیں۔ ریلوے جیل سرکاری اور مشنری پریسوں میں جلد سازی کی تربیت کا انتظام موجود ہے لیکن یہ جلدیں معیاری اور جاذب نظر نہیں ہوتیں۔ جلد بندی توقع کے مطابق نہیں کی جاتی کیونکہ اس کے لیے سلیقہ مندی اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی گاہکوں کے ذوق کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے ۔البتہ یورپی ماہرین کے زیرنگرانی تیار ہونے والی جلد میں انگریز جلدسازوں کا مقابلہ کرتی ہیں لیکن اگر یہ کام کچھ دیر کے لیے مقامی کاریگروں کے کنٹرول میں دے دیا جائے تو وہ اپنی لاپروائی ، غربت اور لالچ کے پیش نظر سارے کام کا ستیاناس کر دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سولھویں صدی میں ہندوستان کے حالات

قصور نسبت انڈسٹر یل سکول:
قصور میں ایک انڈسٹری سکول کئی برسوں سے کام کر رہا ہے جہاں لنگیاں ،کھیس اور دوسرا کپڑا تیار ہوتا ہے۔ کچھ عرصے سے قالین بافی کا کاروبار ترقی پذیر تھالیکن ناقص ڈیزائنوں کی وجہ سے ہی صنعت توقع کے مطابق ترقی نہیں کرسکی۔ انڈسٹر یل سکول نے بیل اور چمڑے کے حقے لکڑی کی مصنوعات اور فرنیچر مختلف نمائشوں میں بھیجا ہے۔ اصل میں یہ ادارہ ایک سکول کے بجائے ایک صنعتی ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ یہاں اعلیٰ قسم کی دریاں بھی تیار ہوتی ہیں۔ صنعتی اداروں کی کارکردگی میں انتظامیہ کو بنیادی عنصر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ سکول کی بہتر انتظامی دیکھ بھال اور ہوشیار پور کے میلے کی وجہ سے ادارہ تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ چونیاں میں بھی پیتل اور چمڑے کے حقے اور دوسری مصنوعات تیار ہوتی ہیں۔

قیمتیں اجرتیں کرائے اور شرح منافع:
لاہور کے سیٹلمنٹ آفیسر نے 1869ء میں زمین کی قیمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: .
پچھلے تین عشروں میں زمین کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ رہا ہے۔ یہ قیمتیں کبھی بہت زیادہ ہوگئیں اور کبھی بہت کم ۔ سیاسی نشیب و فراز اور قحط اس کا بنیادی سبب ہیں ۔ضلع لاہور میں گزشتہ تیس برسوں میں نقد آور فصلوں کی اوسط قیمت فروخت ذیل میں درج کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور:انگریزیوں کے قبضے کے بعد

گندم 60پائونڈ فی روپیہ
جو 85پائونڈ فی روپیہ
چاول 50پائونڈ فی روپیہ
چنے 100پائونڈ فی روپیہ
کپاس 28پائونڈ فی روپیہ
دالیں 120پائونڈ فی روپیہ