Hindo

کیا بھارت ہندو ریاست بن جائے گا؟جہاں کسی اورکو برداشت نہیں کیا جائے گا

EjazNews

میں رامائن کی پوجا کرتا ہوں میں اسے ایک تاریخی دستاویزات سمجھتا ہوں۔ اسے افسانے سمجھانے والے غلطی پر ہیںیہ بات بھارتی وزیر ثقافت نے کہی تھی۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے انتہائی خاموشی کے ساتھ ڈکشٹ کی سربراہی میں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی جس کا بنیادی مقصد پورے بھارت کو ہندو بنانا ہے اس کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ۔ نریندر ا مودی نے بھارت بھر سے 14دانشوروں کو اکٹھا کر کے تاریخ کو دوبارہ ازسر نولکھنے کا ٹاسک دیا تھا، اس کمیٹی کا مقصد آر ایس ایس کے اس مشن کی تکمیل ہے جس کے لیے وہ کئی عشروں سے پر تشدد مظاہروں میں مگن ہے۔ آر ایس ایس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بھارت میں رہنے والوں کو ہندو بن کر بھارت میں رہنا ہوگا۔ گاﺅں ماتا کی پوجا کرنا ہوگی بھارتی نصاب پڑھنا ہوگا۔ مسلمان حکمرانوں کو قاتل ، حملہ آور اور لٹیرے ماننا ہوگا۔ یہ ہے اس تنظیم کا بنیادی مقصد۔

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی بھی آر ایس ایس کے ساتھ عہد جوانی میں پیروکار رہے ہیں۔ بھارت میں یہ سوچ آج پیدا نہیں ہوئی بلکہ کئی دہائیوں سے جنم لے رہی ہے۔ زمانہ انگریز میں بھی یہی سوچ کارفرما تھی۔
مغل بادشاہوں نے اپنا کردار مذہبی رواداری کی بنیاد پر قائم کیا۔ بابر ہو یا شاہ جہاں ،اورنگزیب ہو سبھی نے مذہبی رواداری کو فروغ دیا۔ البتہ جزیہ جیسی شرائط ہندوﺅں پر عائد کی گئیں جبکہ یہ بھی کچھ ہی عرصہ بھی واپس لے لی گئی۔ مسلمانوں اور ہندوﺅں میں کوئی تفریق روا نہ رکھی گئی۔ مغل دور میں راجہ اور مہاراجاﺅں کو مکمل آزادی حاصل تھی یہ آزادی وقت کے ساتھ پروان چڑھتی گئی۔ مغلوں کے علاوہ ٹیپو سلطان نے بھی کئی مندروں کی تکمیل کے لیے اخراجات دئیے۔ دیوی کا مندر بھی 1791ءمیں ٹیپو سلطان نے بنوایا۔ وہ کئی دوسرے مندروں کے لیے بھی مالی معاونت کرتا رہا یہ رواداری کی ایک مثال تھی۔ ہندو آپس میں سینکڑوں نہیں ہزاروں گروہوں میں تقسیم تھے۔ انگریزوں نے اپنی ایک دستاویز میں ہندوستان میں ہندوﺅں کو 23سو سے زائد گروہوں اور فرقوں کا تذکرہ کیا ہے۔ غیر منظم اور غیر متحد ہندوﺅں کو مسلمانوں نے ہی اپنے پرچم تلے چھتری مہیا کی ورنہ چنگیز خان بھارت کو کب کا نیست و نابود کر دیتا۔ خود ہندوﺅں نے اعتراف کیا کہ اگر علاﺅ الدین خلجی نہ ہوتا تو بھارت بھی چنگیز خان کی نسلوں کے ہاتھوں نیست و نابود ہو جاتا۔ مضبوط دفاعی نظام قائم کر کے مسلمانوں نے وہ کام کیا جس کا بدلہ رہتی دنیا تک ہندو چکانے کے قابل نہیں۔ ہندوستان میں یہ مذہبی رواداری بھرپور طاقت کے ساتھ پروان چڑھتی رہی۔

یہ بھی پڑھیں:  قانونی اصلاحات کیلئے لابنگ

مگر اس کے بعد دور انگریز میں مسلمانوں اور ہندوﺅں میں تفریق کے عمل کا آغاز ہوا۔ جو بڑھتے بڑھتے اب اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ مسلمان دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ اب یہ کہا جارہا ہے ہندوﺅں اور مسلمانوں کو باور کراتے ہوئے کہا کہ اگر قرآن پاک اور بائبل تاریخی حقیقت ہیں تو ہندو مذہب کو تاریخی ماننے میں رکاوٹ کیا ہے یعنی ہندو براہ راست ہندوستان کے مالک ہیں۔ ابتدائی نسلوں کی اولاد ہیں اور مسلمان کی کوئی حیثیت اور اہمیت نہیں۔ نئی ابھرتی ہوئی ہندو سوچ کے مطابق ہندوستان میں رہنے والے تمام لوگ بشمول مسلمان ، مسیحی ، سکھ ، پارسی سب ہندو ہیں اور ہندوﺅں کے طور طریقے اپنائے بغیر انہیں ہندوستان میں رہنے کی اجازت نہیں مل سکتی۔

ہندوﺅں کی سوچ نے ہی دو قومی نظریہ کو جنم دیا تھا جو آج پوری طاقت کے ساتھ دنیا کے سامنے ہے۔ کم و بیش مسلمانوں کے رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ مسلمان بھارت میں اتنے پسماندہ اور دوسرے درجے کے شہری کبھی نہ تھی جتنے آج ہیں اس سوچ کا آغاز برسہا برس پہلے ہوا تھا۔

بھارت دراصل کبھی ایک منظم ملک نہیں رہا اسے منظم ملک تو مسلمانوں نے بنایا تھا او ر یہ 560سے زائد ریاستوں پر مشتمل تھا ہر چند کلو میٹر کے فاصلے پر رسوم و رواج اور دیوی دیوتا بدل جاتے ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی 20فیصد ہوگی۔ باقی ماندہ ہندو ہزاروں اقسام کے بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ 40فیصد بھارت پر 560چھوٹی بڑی ریاستیں قائم تھیں یہ کبھی بھارت کے اقتدار میں نہیں رہا ۔مسلمانوں نے منظم اور متحد رکھا۔ ریاست حیدر آباد کا رقبہ برطانیہ اور ویلز کے مجموعی حصے سے بڑا ہوگا۔ بھارت میں 12سو انگریز سول سرونٹ حکومت کرنے میں کامیاب رہے کیونکہ ہندوﺅں نے کبھی ان کی مزاحمت ہی نہیںکی، انہوں نے غلامی کو قبول کیا یہ مسلمان تھے جو غلامی کے حق میں نہ تھے۔ مسلمانوں نے ہر دور میں آزادی کے لیے تحریکیں چلائیں۔ 1920سے 1922ءتک ایک بڑی تحریک چلی پھر 1930ءسے 1934ءتک تحریک چلی اور پھر 1940ءمیں تحریک پاکستان کا آغاز ہوا ۔ انگریز پھر بھی ہندوﺅں کی وجہ سے منظم رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھوک آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی

1857ءکے بعد انگریزوں نے اپنی حکمت عملی میں 3بنیادی تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے مسلمانوں اور ہندوﺅں کو لڑانے کی پالیسی پر عمل کیا جبکہ ہندوپہلے ہی اس پالیسی پر عمل پیرا تھے۔ صرف دہلی میں 27ہزار مسلمانوں کو جنگ آزادی کے بعد تخت دار پر لٹکایا گیا۔ اترپردیش اور بہار میں مسلمان اور ہندو ہمیشہ امن و آتشی سے رہے ۔ مگر ہندو قوم پرستی نے وہاں بھی مسلمانوں کو کنارے سے لگانے کی کوشش کی اور انگریزوں نے پہلا ہتھیار انگریزی اور ہندی زبان کا استعمال کیا۔ مسلمانوں کو پسماندہ رکھنے کے لیے سرکاری ملازمتوں اور عدالتوں میں اردو کو خارج کر دیا گیا۔ اردو کو قبل ازیں سرکاری زبان کے طور پر تسلیم کیا جاتا لیکن انگریزوں نے یہ ختم کر دیا جس کے مسلمان سرکاری ملازمتوں اور نوکریوں سے محروم رہ گئے اسی لیے سر سید احمد خان نے 1880ءمیں ملک بھر میں سائنسی سوسائٹیوں کی بنیاد رکھنا چاہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلمان اور ہندو دو مختلف قومیں ہیں ان کی اپنی تہذیب ، اپنی ثقافت اور اپنی رسوم و رواج ہے۔ بھارت میں ہندوﺅں میں بھی ہندو نیشنل ازم بڑھتا گیا۔ بمبئی وہ واحد صوبہ تھا جہاں مسلمانوں کو کوئی اہمیت حاصل تھی ۔ ہندو ﺅں نے مسلمانوں کو جھانسہ دینے اور دھوکہ میں رکھنے کے لیے کئی مسلمانوں کو اپنی کانگریس میں شامل کیا۔ جن میں بدر دین طیب جی بھی شامل تھے۔ بیرسٹر قائداعظم محمد علی جناح بھی کچھ عرصہ کانگریس میں شامل رہے۔ مگر ہندوﺅں کے ذہن نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ قیام پاکستان کا مطالبہ کریں انہوں نے کانگریس میں قیام کے دوران ہندو اور مسلمانوں میں فرق کو محسوس کر لیا تھا۔ کانگریس کے بنیادی مقاصد میں ہندو ازم کی ترویج و ترقی شامل تھی۔ بظاہر یہ سیکولر جماعت تھی مگر در پردہ اس کے عملی اقدامات اس کے بالکل الٹ تھے۔ یہی بات آگے چل کر نواب محسن الملک اور آغا خان کی کوششوں کے بعد 1906ءمیں مسلم لیگ کے قیام کی وجہ بنی۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی ادویہ ساز کمپنیوں کی چھٹی کرانے سے ادویات سستی نہیں ہوں گی،خام مال کو سستا کرنے سے قیمتیں کنٹرول ہوں گی

مسلمانوں کا طرز حکمرانی مذہبی رواداری اور عدم مداخلت رہا ہے۔ کسی مسلمان حکمران نے ہندو یا عیسائی مذہب میں مداخلت نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو خود مسلمانوں کے ساتھ مل کر باغی ہندوﺅں کے ساتھ نبرد آزما رہے۔ مسلمانوں کو شکست دینے میں مسلمانوں نے کر دار ادا کیا۔ میر جعفر نامی غدار مسلمان تھے لیکن ہندو ان کی فوج میں بھی کلیدی عہدوں پر فائز تھے۔

مسلمانوں نے سول فوجی ملازمتوں میں صرف میرٹ کو پیش نظر رکھا مذہب کبھی آڑے نہ آیا۔ مگر ہندوﺅں نے کایا پلٹ دی رولز بدل دئیے اور یہ سوچ اسی زمانے میں پروان چڑھنا شروع ہوئی کہ ہندوستان صرف ہندو کا ہے یہاں کسی اور کوئی رہنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ٹیپو سلطان نے میسور کو ایک بڑا تجارتی مرکز بنایا بحریہ کی بنیاد ٹیپو سلطان نے رکھی اس کی آمدنی دوسری ریاستوں سے کہیں زیادہ تھی۔ حتیٰ کہ دیوی شاردا کا 1791ءکا مندر ٹیپو سلطان نے بنایا وہ نہ ہوتا تو آج کئی مندر بنے ہی نہ ہوتے مگر ہندو سماج کسی کو قبول کرنے کو تیار نہیں وہ اپنی برادریوں کو قبول نہیں کرتے تو کسی اور کو کیسے قبول کرتے۔