old eage

بڑھاپے کو ٹالنے کے کچھ مشورے

EjazNews

جوانی دھوکے باز ہے کبھی ساتھ نہیں دیتی تھوڑا سا وقت ملتا ہے اور وہ بھی آناً فاناً مشقت میں گزر جاتا ہے بالخصوص پاکستان میں تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب پاکستان میں جوانی آئی اور محنت نے چہرو ں پر شقنوں نے چھپادیا کب بال سفید ہونا شروع ہوئے اور کب لوگو ں نے انکل کہنا شروع کر دیا۔

مگر سائنسدان اب بڑھاپے کو بگھانے کی آسان ترکیبوں کو آزما رہے ہیں موت اٹل ہے اور برحقیقت ہے لیکن چہرے کی شقنوں کو چھپایا جاسکتا ہے اور بڑھاپے کو سال دو سال یا چارسال کے لیے ٹالا جاسکتا ہے۔
بزنس انسائیڈر کا شمار ایک معروف غیر ملکی بزنس کے جریدے میں ہوتا ہے اس نے اپنی اشاعت میں ایک مضمون لکھا عنوان تھا ،بڑھاپاٹالنے آسان طریقے بتائے ہیں ۔
سائنسدانوں نے بزنس انسائیڈر کو بتایا کہ بڑھاپا دراصل کروموسومز میں ٹوٹ پھوٹ کی علامت ہے۔ ایلسبتھ بلیک برن نوبل انعام یافتہ سائنسدان ہیں ان کی تحقیق کا بنیادی نظریہ کروموسومز ہیں آنکھوں سے نظر نہ آنے والے انتہائی باریک اور معموملی خلیے۔ بالکل دھاگے کی مانند لمبوترے اور انہیں آپ جینیاتی کورڈ بھی کہہ سکتے ہیں انہی کروموسومز میں ا نسان کے جینیاتی کورڈ چھپے ہوتے ہیںاور ان کروموسومز میں ٹیلومیرزTelomeres کی کمی واقع ہو جائے تو یہ بڑھاپے کے آثار نمایاں ہو جانا شروع ہو جاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کی 10 حیران کن سڑکیں

انہوں نے بتایا کہ یہ کروموسز ہی دراصل سگنل جاری کرتے ہیں اور سگنل ہو تا ہے جناب مرنے کا وقت آگیا تب الزبتھ نے سوچا کہ آخر کروموسومز میں ہونے والی تبدیلیو ں کو کچھ سالوں تک ٹال کر اس پیغام کو روکا جاسکتا ہے اس سگنل کو کچھ برسوں کےلئے ملتوی کیا جاسکتا ہے کیونکہ لوگ اپنے کروموسومز کے ٹیلومئیر کی لمبائی کو 2-4سال کے لیے آسانی سے برقرار رکھ سکتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ بہت لمبی زندگی پالیں یا موت کو شکست دے دیں۔ یہ ممکن نہیں بس اس سے یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کچھ سالوں تک مزید خوش و خرم بیماریوں سے محفوظ زندگی گزار سکیں اس کا پہلا اور آسان راستہ ہے کہ ذہنی دباﺅ پر قابو پائیے ۔
ایسی ماﺅں پر تحقیق کی جن کے بچوں کو آڈوازم یا دوسرے دائمی امراض لاحق تھے کیونکہ ان بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی مائیں مسلسل ذہنی امراض کا شکار رہتی ہیں تب بلیک برن پر انکشاف ہوا کہ یہ مائیں بچوں کے آٹو ازم کی وجہ سے ذہنی دباﺅ کا شکار رہیں اور انہوں نے اپنی عمریں کم کرلیں۔کچھ ماﺅں نے اپنے دباﺅ پر قابو پر کر ایلو مینز کی لمبائی برقرار رکھی تب بلیک برن نے کہا کہ رویہ کا بھی اس میں بہت عمل دخل ہے۔ اگر آپ کسی بھی ذہنی دباﺅ والے عنصر کو ایک چیلنج کے طور پر لیتے ہیںاور جس پر قابو پایا جاسکتا ہے تو پھر خون کا دورانیہ برقرار رہتا ہے اور یہ دل کے راستے دماغ تک خون کی سپلائی مخصوص مقدار میں جاری رہتی ہے۔ جس سے کاٹی سول کے Spikeسپائک کو خوب توانائی ملتی ہے۔ جس سے آپ کے ایلو میرز کی لمبائی برقرار رہتی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانوی دفتر خارجہ سے بلے کی ریٹائرمنٹ

مراقبہ کیجئے:
آپ نے اگر کسی سے نہیں سنا تو ہم سے سن لیجئے مراقبہ بڑھاپا بھگانے میں انتہائی معاون ہے دن میں 12منٹ تک مراقبہ کرنے والے اگر دو ماہ اپنے آپ کو دے دیں تو ان کی ٹیلو میر کی لمبائی برقرار رہتی ہے۔اور وہ لوگ جن کے خاندان میں ڈی مینشیا کا لفظ پایا جاتا ہے وہ بھی صحت مند رہ سکتے ہیں۔

اپنے محلے میں کوئی نیک کام کیجئے:
تشدد کی خبریں پڑھتے رہنایا سنتے رہنا لڑائی جھگڑا دنگا فسا د اور نسل پرستی یہ سب انسانی ٹیلو میر پر اثر انداز ہوتی ہے اور ان کے اثرات دیر پا ہو تے ہیں۔ ان جذباتی ہنگاموں کو نظر انداز کر دیجئے اور کوئی نیک کام کیجئے۔ یہ ٹیلو میر کی صحت کے لیے انتہائی اچھا ہے۔
سائنس دان نے اپنی تحقیق میں ایک اور دلچسپ بات کی اس نے کہا کہ شادی کیجئے اچھا تعلق بنائیے یہ خوشگوار زندگی انسان کو ترقی دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کی 10 تیز ترین کاریں

پیسے کمائیے:
ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ دولت کے پجاری ہو جائیں اور پیسوں کی ہوس آپ کو اندھا کر دے اپنے آپ کو متحرک اور فعال بنائیے اتنا پیسہ کمائیے کہ جو خوشگوار زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔آپ پیار نہیں خرید سکتے محبت بھی نہیں خرید سکتے مگر پیسہ آپ کے ٹیلو میر کی لمبائی پر خوشگوار اثر ڈالتا ہے۔