umro ayyar bakhtak

عمرو کی بختک کو سزا

EjazNews

 عمروکے جانے کے بعد ایک دن امیر اپنی حالت دیکھ کربہت روئے۔ جسم میں ذرا بھی طاقت نہ تھی اپنے آپ چل پھر نہ سکتے تھے۔ سوچا کہ ایسی زندگی سے تو مر جانا اچھا ہے۔ یہی افسوس کرتے کرتے سوگئے۔ خواب میں دیکھا کہ حضرت ابراہیم نے آ کر کہا اے بیٹے خدا نے تیرا مرض دور کردیا۔ اٹھ اور شکر کا سجدہ کر۔ امیر مارے خوشی کے جاگ گئے۔ اٹھنے کا ارادہ کیا تو کھڑے ہو گئے اور بدن میں طاقت بھی زیادہ تھی۔ اٹھ کر شکرانے کی نماز پڑھی اور آ کر بیٹھے ہی تھے کہ اس وقت عمروآ گیا۔ امیر کی جگہ ایک صحت مند نوجوان کو دیکھا تو سامنے آ کھڑا ہوا اور پوچھا۔تم کون ہو اور امیر کہاں ہے۔ انہوں نے کہا  میں اولاد بن مرزبان کا بھائی ہوں۔ اپنے بھائی کی قید کی خبر سن کر آیا ہوں۔ میں نے امیر کو ماردیا ہے۔ عمرو کو یہ سنتے ہی بہت غصہ آیا۔ عمرو نے خنجر نکالا اور اسے مارنے لگا تھا کہ امیر نے خنجر پکڑلیا اور عمرو کو گلے گا کر کہا۔ ارے پہچانا نہیں میں حمزہ ہوں۔ خدا نے مجھے اچھا کردیا ہے۔ عمرو یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ بھاگ کر باہر گیا ا سب کو یہ اچھی خبر سنائی۔
سب سردار آئے امیر پر روپے وارے خوشیاں منائیں اور کچھ دن بعد امیر لشکر کو لے کر مدائن چل پڑے۔ جب امیر مدائن پہنچے تو بادشاہ نے خلعت دی اورتعریف کی۔ رات کو بختک بادشاہ کے پاس گیا کہ امیر اب لندھور کو بھی ساتھ لے گیا ہے یہ دونوں مل کر آپ سے تخت اور تاج چھین لیں گے۔ بادشاہ نے کہا پھر کیا کیا جائے۔ اس نے کہا صبح جب امیرآئے تو اس کہے کہ میں نے لندھور کا سر لانے کو کہا تھا۔ زندہ لندھدور کو لے کر کیوں آئے۔ دوسرے دن بختک نے امیر سے کہا کہ بادشاہ نے ہندوستان کے بادشاہ کا سرمانگا تھا۔ اب بادشاہ یہ چاہتے ہیں کہ اس کا سرکاٹ کر حاضر کیا جائے۔ حمزہ کو یہ جان کر دکھ ہوا۔ انہوں نے کہا مقصد تو اطاعت سے ہے۔ اس نے اطاعت قبول کر لی اب سرکاٹنا کوئی ضروری ہے‘ بختک نے کہا، ہاں ضروری ہے، کیونکہ بات تو سرکی ہوئی تھی۔ امیر نے عمرو سے کہا کہ جا کر انہیں لشکر سے لائے اور عمرو
نے جا کر لندھور سے کہا کہ دشمنوں نے بادشاہ کے کان بھرے ہیں۔ امیر نے دیکھا ہے اب تم کیا کہتے ہو۔ لندھورنےعمرو کی طرف دیکھ کر کہا، میں امیر کاحکم مانوں گا۔ جو چاہتے ہیں وہی کرو، میرے ہاتھ باندھ کر لے چلو اور اس میں دیر مت کرو عمروبین کرنے لگ پڑا اور کہنے گا آپ کو کون مار سکتا ہے۔
لندھور ہاتھی پر بیٹھ کرگرز ہاتھ میں لے کر چلا۔ امیر کے پاس گیا تو امیر نے کہا جلادخانہ میں جا کر موت کا انتظار کرو۔ وہاں سے ملکہ زرانگیز نے چھڑایا اور جب بادشاہ نے ملکہ سے پوچھا تو ملکہ نے کہا۔ بھلا بادشاہ بادشاہوں کو اس طرح مارتے ہیں۔ پہلے حمزہ کو ماروتو سب ختم ہوجائیں گے۔ بادشاہ نے کہا کیسے ماروں۔ وہیں بختک کی ماں سقرغارآگئی اس نے کہا حمزہ کو مارنے کی ترکیب میں بتاتی ہوں۔ آپ حمزہ کو یہ بتائیں کہ تمہاری شادی ہونے والی ہے تیاری کرو۔ وہ تیاری میں لگ جائے گا۔ مہر نگار کو بھی  یہی کہہ کرتہ خانہ میں چھپا دوں گی۔ پھر خبر اڑادوں گی کہ مہرنگار بیمار ہے۔ پانچ دن بعد مشہور کروں گی کہ مہرنگار مرگئی۔حمزہ کو جب یہ پتہ چلے گا تو وہ اپنے آپ کو مار ڈالے گا۔ آپ کا دشمن ختم اور آپ کی پریشانی بھی ختم۔ بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا۔
دوسرے دن امیر دربار میں آئے تو بادشاہ نے کہا ” شادی کی تیاری کرو، اگلے ہفتے تمہاری شادی ہوگی۔ امیر جب اپنے لشکر گئے تو سب نے مبارکباد دی۔ سقرغار مہرنگار کے پاس گئی اور کہا مبارک ہو۔ تمہاری شادی کی تاریخ رکھی گئی ہے اب سب سے الگ ہو کر بیٹھو کہ یہ رسم ہے۔ مہر نگار کو تہ خانے میں لے گئی اور اسے وہیں رکھا۔ دوسرے دن افواہ اڑائی کہ مہرنگار بیمار ہے۔ امیر کو بڑی فکر ہوئی۔ پانچ دن بعد محل سے رونے کی آواز آئی تو سارے شہر میں شور مچ گیا کہ مہر نگار مرگئی۔ امیر نے عمرو کو معلوم کرنے بھیجا توانہوں نے آ کر بتایا کہ مہر نگار کے مرنے پرلوگ رور ہے ہیں۔ امیر نے یقین کرلیا اور اپنے آپ کو مارنا چاہا مگر کوئی ہتھیار نہ ملا۔ عمرو نے امیر سے کہا ہوسکتا ہے دشمنوں نے جھوٹی خبر اڑائی ہو۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں معلوم کر کے آوں۔ امیر نے کہا کیا فائدة عمرو نے کہا آپ اجازت تو دیں۔ شاید کوئی اچھی خبرمل جانے۔ بڑی مشکل سے امیر نے عمرو کو اجازت دی۔
عمرو محل کے دروازے پر پہنچا اور ملکہ سے ملنے کی اجازت چاہی۔ خواجہ سراوں نے ملکہ کوخبر دی۔ کہ عمروخبر لینے آیا ہے۔ سقرغار نے کہا۔ آنے دو۔ یہاں کا حال دیکھے گا تو یقین کرے۔ عمر وکو اندر بلوایا گیا۔ بہت عورتیں رورہی تھیں ملکہ بھی منہ پررومال رکھ کے رورہی تھی۔ عمرو ملکہ کے سامنے دور بیٹھا دیکھ رہا تھا کہ سقرغار کی ملکہ کے کان میں کچھ کہا اور چلی گئی۔ عمرو نے سوچا کان میں کیا کہہ رہی تھی، جو کچھ ہےاس کے ساتھ ہے اس سے معلوم کرنا چاہئے۔ عمرو باغ میں اس کے قریب پہنچا۔ اور پتلی آواز میں کہا۔ اے خاتون! ذرا آہستہ چل۔ یہ سن کر وہ گھبرا گئی کہ میرے پیچھے کون آیا ہے۔ ایسانہ ہوکہ اصل بات کی خبر ہوجائے اس لئے کھڑی ہوکر پیچھے کی طرف دیکھنے لگی۔ عمرو نے اس کا گلا گھونٹ کے مار دیا اور اس کی لاش کو سوکھے پتوں کے ڈھیر کے نیچے چھپا دیا۔
اب اسی کی صورت بنالی اور جس طرف وہ جارہی تھی اسی طرف چل پڑا مگر حیران تھا کہ کس طرف جاوں۔ اندازے سے آگے بڑھنے لگا۔ تھوڑی دور گیا تھا کہ مہرنگار کی ایک کنیز ہاتھ میں شعلے کر آئی۔ اسے دیکھتے ہی کہنے کی سترغازاتنی دیرکیوں کردی۔ انہوں نے کئی بار یاد کیا ہے۔ جواب دیا کہ ملکہ کے پاس بیٹھی تھی اس لئے دیر ہوگئی۔ یہ کہا اوراس کے ساتھ ساتھ چلا۔ وہ تہہ خانے میں پہنچی تو یہ بھی اس کے ساتھ ہی تھا۔ وہاں دیکھا کہ مہرنگار دلہن کے لباس میں بڑی پیاری لگ رہی ہے۔ اسے زندہ دیکھ کر خدا کا شکر کیا اوراس کو دعائیں دیں اوربہت تعریفیں کیں بڑی مدت ہوئی۔ مہرنگار نے کہا تم مجھ سے اتنی محبت کیوں رکھتی ہو۔ اس نے کہا میں تو تمہیں بہت چاہتی ہوں مگر میرا بیٹاتمہارا دشمن ہے اس لئے میں اپنی محبت ظاہر نہیں کرتی اور میں تو اس دین کو بھی چھوڑ چکی ہوں۔ مہر نگار بہن کو خوش ہوئی اور اپنا بہت قیمتی ہار اپنے گلے سے اتار کر اس کے گلے میں ڈال دیا اور کہنے گی۔ اے
سترغار شادی میں کتنی دیرہے۔ یہ سنتے ہی عمروعیار نے اس کو خود پر ظاہر کیا اور کہا کہ شادی اور کیسی دامادی۔ تمہارے مرنے کی افواہ اڑی ہوئی ہے اگر میں نے جلدی جا کر تمہارے زندہ ہونے کی خبرامیرکو نہ پہنچائی تو وہ اپنے آپ کو مار ڈالے گا۔ مہرنگار نے پوچھا  یہاں تک کیسے آئے۔ اس نے کہا سترغار کو مار کراس کی صورت بنا کر یہاں تک آیا ہوں۔ مہر نگار نے پانچ ہزار سونے کے سکے اس کو دینے اور کہا جلدی جا کر امیر کو میرے زندہ ہونے کی بات بتائو، عمرو نے کہا۔ وہ میری بات کو جھوٹ سمجھیں گے۔ آپ لکھ کر اپنے ہاتھ سے دیں تو جب وہ سچ مانیں گے۔ عمرو رقعہ لے کر وہاں سے باہر آیا اور اپنی اصلی صورت میں اپنے لشکر کو چلا۔
امیر کے پاس جا کر سب بات بتائی اور رقہ دیا۔ امیر نے عمرو کو گلے لگا لیا اور کہا یہ کام تم ہی کر سکتے تھے۔ امیر نے عمرو کو دس ہزار روپے دیئے۔ عمرو نے کہا اب میں جو کچھ آپ سے کہوں آپ وہی کریں۔ وہ یہ کہ آپ اپنے سرداروں کو ساتھ لے کر چلیں۔ کیونکہ جب تک آپ نہ جائیں گے جنازہ نہ آئے گا۔ جب جنازہ آئے تو اس کے ساتھ چلے۔ پھر دیکھنے میں ان کا مکران پر کیسے لوٹا تا ہوں کہ اس بات سے ان کو شرمندگی ہواورآئندہ ایسی حرکت کا سوچیں بھی نہیں۔ امیر اپنے دوستوں کے ساتھ دربار میں گئے تو وہاں تمام سردار اوربادشاہ غمگین صورت میں بیٹھے تھے۔ امیر بھی اپنے دوستوں کے ساتھ جا بیٹھے اورغم ظاہر کرنے لگے۔ جب دوپہر ہوگئی تو امیر نے بادشاہ سے کہا جنازہ نکلوانا چاہئے۔ بادشاہ نے ملکہ کو کہلوا بھیجا۔ ملکہ نے کہا شام کو جنازہ باہر نکالیں گے۔ بادشاہ اور تمام سردار چھٹی پر بیٹھے ہوئے غم کرتے رہے۔ ان کے سب ہی لوگ اپنی رسم کے مطابق سکھ بجاتے رہے اور اپنی مذہبی کتاب پڑھتے تھے۔ شام ہونے لگی تو جنازے کی تیاری ہونے گئی۔ سقرغارکوڈھونڈ مگر وہ کہیں نظر نہ آئی۔ ملکہ زرانگیز نے کہا اسے ہر جگہ ڈھونڈا ڈھونڈتے ڈھوڈتے جب سوکھے پتوں کے ڈھیر تک گئی تو دہل گئی۔ پتوں کو ہٹا کر اس کی لاش نکالی اور ملکہ کے پاس لے آئے۔ ملکہ نے حکم دیا، اسے جنازے میں رکھو۔اب بختک کو پتہ چلا کہ تیری ماں اچانک مر گئی اور اس جنازے میں اسی کی لاش ہے تو وہ جنازے کے آگے آگے ماتم کرتا ہوا چلا۔ جب جنازہ بادشاہ کے پاس پہنچا تو تمام سردار مہرنگارکا پرسہ بادشاہ کودینے اور ماتم کرنے لگے۔

یہ بھی پڑھیں:  عمروکی عیاری کالباس