women_out_door

جب شوہر آپ سے دور ہو تو؟

EjazNews

شوہروں کو گھر سے نکل کر روزگار کی تلاش میں جانا ہی پڑتا ہے، اس حقیقت سے ہر عورت اچھی طرح واقف ہوتی ہے مگر حیران کن امر یہ ہے کہ بیشتر خواتین شکوہ بہ لب ہی رہتی ہیں اور شوہر کے جاتے ہی گویا ان کی زندگی میں مایوسی اور اداسی ڈیرے ڈال دیتی ہے۔ کسی کونے میں منہ لپیٹ کر پڑ جانے اور ان کی یاد میں آنسو بہانے سے کہیں بہتر ہے کہ اس وقت کا بہترین استعمال کریں تا کہ جب آپ کے شوہر کی شام ڈھلے گھر واپسی ہو تو آپ اس کا خوشدلی سے استقبال کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہوں اور حسب روایت اسی طرح خوبصورت اور پر اعتماد نظر آئیں جیسے کہ عموما اس کی موجودگی میں نظر آتی ہیں۔

فرزانہ کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ جب شوہر دور ہو تو اسے کن کیفیات سے گزرنا پڑتا ہے۔ شادی سے قبل اسے احساس تک نہ تھا کہ اس کا شوہر اپنے کام کی غرض سے بیرون ملک یا بیرون شہر چلا جائے تو عورت یہ دکھ اور دوری کس طرح برداشت کرتی ہے، وہ اس بات کو سمجھنے سے اس لئے قاصر تھی کہ اسے ایسے حالات سے واسطہ ہی نہیں پڑا تھا لیکن جب اس کی شادی ہو گئی تو اسے بذات خود اس صورتحال سے دوچار ہونا پڑا کیونکہ اس کے شوہر کی جاب بھی کچھ اس نوعیت کی تھی کہ اسے سال میں ایک یا دو مرتبہ دفتری کاموں کے سبب تین سے چار ہفتے تک گھر سے دور رہنا پڑتا تھا۔ ابتدائی عرصے میں شوہر کے جانے کے بعد وہ خود کو بہت زیادہ تنہا، مایوس اور اداس محسوس کرتی تھی اور یہ تمام احساسات شوہر کی واپسی تک اس پر پوری طرح طاری رہتے تھے۔ اس تمام قصے کا بد ترین پہلو یہ ہے کہ فون یا خط کے ذریعہ رابطہ ہونے پر وہ ان تمام کیفیات سے شوہر کو بھی آگاہ کرتی تھی، یوں دونوں طرف ایک پریشانی ہی رہتی تھی لیکن جب فرزانہ کے یہاں پہلے بچے کی آمد ہوئی تو سب کچھ تبدیل ہو گیا اور وہ شوہر کی دور کوذہنی پختگی کے ساتھ قبول کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ ظاہر ہے کہ یہ اس کا بچہ ہی تھا جس نے اسے اپنی جانب متوجہ کر کے ایک ایسی دلچسپی مہیا کر دی کہ وہ تنہائی اور اکیلے پن کے خول سے باہر نکل آئی لیکن گزرے ہوئے عرصے میں پیداشدہ ڈپریشن کے اثرات نہ صرف اس پر منفی اندازے پڑے بلکہ اس کا شوہر بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا جو کہ اس دوران اس کے پاس موجود ہی نہیں تھا۔ اب حرف آخر یہ ہے کہ بیوی اور شوہر دونوں کو ایسی راہیں تلاش کرنا چاہئیں تاکہ وہ کسی نہ کسی طرح مصروف رہیں۔ نہ تو بیوی اپنے شوہر کے چلے جانے پر روتی دھوتی اور آنسو بہاتی رہے اور نہ ہی شوہر اس کی جدائی کے غم میں ہمہ وقت نڈھال رہے بلکہ خود کو جس حد تک ممکن ہو نارمل رکھنے کی کوشش کرے۔

یہ بھی پڑھیں:  عورتوں کے حقوق کی عالمی تحریکیں

کام کا طريقہ کار اور نیند کا وقت :
خواتین خود کو پوری طرح فعال اور چاق و چوبند رکھیں اور جس حد تک بھی ممکن ہو مصروف رہیں۔ مریضانہ انداز سے سوچ و بچار میں وقت نہ ضائع کریں اور دن بھر میں نہ صرف زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملنے جلنے کی کو شش کریں بلکہ ممکن ہو تو نئی دوست بنائیں کیونکہ ہم سب اسی سماج کی پیداوار ہیں، اسی مٹی سے پیدا ہوئے ہیں لہٰذا ہم اپنے خیالات اور جذبات جتنے زیادہ دوسرے افراد کے ساتھ شیئر کریں گے اتنا ہی خوش رہیں گے۔ دوپہر کے اوقات میں بھی نیند لینے کے بجائے محض اونگھ پر ہی گزارہ کریں اس طرح آپ کو رات کے اوقات میں بہت اچھی نیند آئے گی جب مختلف قسم کی یادیں انسان کو زیادہ ستاتی ہیں اور نیند اچاٹ ہو جاتی ہے۔ رات کی اچھی نیند کے سبب آپ خود کو پوری طرح تازہ دم محسوس کریں گی اور ایک نئے عزم کے ساتھ خود کو گھریلو سر گرمیوں میں مصروف کر لیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  عورتوں کے نزدیک مردوں کی قسمیں

ایک دوسرے سے منسلک رہیں:
اپنے شوہر کے ساتھ رومانس کے لمحات کو تازہ کر کے اپنی شادی شدہ زندگی کو نئے معنی عطا کریں۔ غیر حاضری کا عنصر دل کو مزید فریفتہ کر دیتا ہے۔ ممکن ہے کہ بڑھتی ہوئی عمراس راہ میں رکاوٹ ہے مگر کہیں نہ کہیں راکھ میں چنگاری دبی رہتی ہے اور محبت کم نہیں ہو پاتی۔ شوہر کی عدم موجودگی آپ کو اس کی کہیں زیادہ یاد دلاتی ہے اور اس نے پیار کے اظہار کے لئے مختلف اوقات میں جو کچھ بھی کیا ہوتا ہے وہ رفتہ رفتہ ذہن کے پردے پر ابھرنے لگتا ہے، اس سے آپ کی شوہر سے محبت کو نئے سرے سے تازگی ملتی ہے اور اس کی ذات سے پر قائم رہتی ہے اور حیران نہ ہوں کہ غیر ارادی طور پر آپ خود کو دس سال کم عمر محسوس کرنے لگتی ہیں۔

وقت کا موثر استعمال کریں :
فراغت ذہن پر ناخوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے جب آپ تنہائی کا شکار ہوں لہذا اپنے وقت کو مفید اور موثر انداز سے استعال کریں۔ کوئی ایسا مشغلہ اپنالیں یا کچھ ا نیا سیکھنے کی کو شش کریں جس کی آپ برسوں سے خواہشمند یا منتظر تھیں اوروقت نے آپ کو اس کی اجازت نہیں دی یا پھر مناسب مواقع میسر نہیں آ سکے۔ وقت کے موثر استعال کاذریعہ ڈرائیونگ سیکھنا بھی ہو سکتا ہے اور آپ کوئی کپیوٹر کلاس بھی جوائن کر سکتی ہیں۔ اگر حالات اجازت دیتے ہیں تو پیراکی یا جاگنگ میں بھی خود کو مصروف رکھا جاسکتا ہے اور کچھ بھی نہیں تو کوئی ایسا کورس ہی کر لیں جس میں آپ کو دلچسپی محسوس ہوتی ہے۔ آپ وقت کا مفید استعمال کر کے ٹیچرز ٹرینگ کورس بھی کرسکتی ہیں جو کہ آنے والے وقتوں میں آپ کے لئے سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اپنے بچوں کی تعلیم پر پوری توجہ دیں جو کہ آپ کا کافی وقت لے گی اور فراغت کے لمحات کم ہو جائیں گے۔
بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر پوری توجہ دینے کے ساتھ ہی انہیں اپنے ساتھ آؤٹنگ پر لے جائیں تاکہ ان کا ذ ہن تازہ ہو سکے۔ ان کے لئے پکنک پر جانے کا انتظام کریں اور تعلیم کے ساتھ ہی انہیں تفریح سے بھی جوڑنے کی کوشش کریں تاکہ وہ مسلسل پڑھائی سے اکتاہٹ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ کبھی کبھار کسی مووی کے لئے جانے اور گھر سے باہر کھانا کھانے میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے۔ آپ بچوں کی اس طرح حوصلہ افزائی بھی کر سکتی ہیں کہ وہ کسی ویک اینڈ پر اپنے دوستوں کو گھر پر مدعو کر سکیں۔ ان کے لئے کھانا بنائیں اور اپنے وقت کا مفید استعال کرتے ہوئے اولاد پریہ بات واضح کر دیں کہ وہ بھی اہمیت کی حامل ہے۔ یاد رکھیں کہ جب آپ اپنے بچوں کے لئے اتنا کچھ کریں گی تو کیا وہ آپ سے پیار نہیں کریں گے؟ ہماری زندگی میں تنہائی مایوسی یا افسردگی کا یہ دور کسی وقت بھی آسکتا ہے، اس سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا ہے لیکن درست رویہ اختیار کر کے اور بڑے طریقے کے ساتھ ہم اس وقت کے خلاء کو پر کر سکتے ہیں جو کہ ہماری زندگی میں ایک انقلاب لا سکتا ہے اور ہماری ذاتی قابلیت و اہلیت میں بھی اضافہ ممکن ہے۔ یہ مایوسی کے گھور اندھیرے میں روشنی کی وہ کرن بن سکتا ہے جس سے ہماری زندگی جگمگا سکتی ہے اور ہم کہیں زیادہ آزاد اور خود مختار دکھائی دے سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں میں لکھنے کا شوق کیسے بڑھایا جائے