karachi_trafic

کراچی خوابوں کا شہر، مگر حالت کیا بنا دی ہے اس کی ہم نے ؟

EjazNews

ہم پاکستانی 20کروڑسے زائد ہو چکے ہیں۔ مختلف شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے شہر سمٹتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں۔ لاہور، کراچی، ملتان، فیصل آباد ، گوجرانوالہ اور راولپنڈی جیسے شہروں میں خوب گہما گہمی ہے۔ روزانہ سوا دو کروڑ پرائمری کے طالب علم اپنے سکولوں کا رخ کرتے تھے کرونا سے پہلے ، کچھ کو والدین ان کے تعلیمی اداروں میں چھوڑنے ان کے ساتھ جاتے تھے جبکہ لاکھوں والدین نے اپنے بچوں کی نقل و حمل کے لیے رکشوں کا سہارا لے رکھا تھا۔ مزید لاکھوں طالب علم ویگن اور بسوں کے رحم و کرم پر ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں طالب علموں کی کل تعداد 4کروڑ 78لاکھ ہے۔ اس میں سب سے زیادہ تعداد پرائمری کے طلبہ کی ہے۔ یہ بچے اپنے ماں باپ کے رحم و کرم پر ہیں۔ مزید لاکھوں طالب علم مڈل اور 40لاکھ کے لگ بھگ ہائی سکولوں میں ہیں۔ ثانوی ہائی سکولوںکے 19لاکھ طالب علم اور ساڑھے 16 لاکھ روزانہ نقل و حمل کرتے ہیں۔ اساتذہ ان کے علاوہ ہیں یہ بھی کوئی ساڑھے سولہ لاکھ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  خیبر پختونخوا میں ضم شدہ علاقے آپ کی مزید توجہ کے طالب ہیں

وفاقی سرکاری ملازمین مختلف سالوں میں ساڑھے چار لاکھ سے پانچ لاکھ تک رہے ہیں جبکہ ملک بھر میںنچلے طبقے کے پولیس ملازمین کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ہے۔ گریڈ1سے گریڈ 16تک کے وفاقی ملازمین کی تعداد بھی سوا لاکھ ہے جبکہ مزید سوا تین لاکھ افراد 210 خود مختار ، نیم خود مختار اداروں اور کارپوریشنوں سے منسلک ہیں۔ یہ بھی اپنا روزگار کمانے کے لیے نقل و حرکت پر مجبور ہیں۔ صوبائی ملازمین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جبکہ مزید لاکھوں افراد نجی شعبہ سے منسلک ہے۔ یہ ملک بھر میں کروڑوں افراد دن میں کئی مرتبہ نقل و حرکت کرتے ہیں۔ ایک کونے سے دوسرے کونے تک کا سفر کرتے ہیں۔ اس سفر کا آغاز کسی کا کسی کو اندازہ نہیں۔ تاہم آج سے چند سال قبل ایک سروے میں بتایا گیا کہ تقریباً 4کروڑ 10لاکھ ٹرپ کیے جاتے ہیں۔ ہمارے اندازے کے مطابق یہ تعداد صحیح نہیں۔ ہمارے تمام ہسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ بیشتر شہر انتہائی گنجان آباد ہیں ۔ فی کنال میں ہماری رہائش مسلسل بڑھتی جارہی ہے جسے انگریزی میں ڈینسٹیDensityکہاجاتا ہے۔ یعنی لوگوں کے لیے جگہ کم پڑتی جارہی ہے۔ آبادی کے دباﺅ میں اضافہ کی وجہ سے بازاروں اور سڑکوں پر تل دھرنے کو جگہ نہیںہر جگہ ٹریفک کا اژدھام ہے۔ ہر سڑک دن میں کئی مرتبہ بند رہتی ہے، کراچی سے خیبر تک یہی صورتحال ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  علامہ محمد اسد ،ایک تاریخ ساز شخصیت

کیونکہ اداروں ، صحت کے مراکز اور دوسری تمام سماجی سرگرمیوں کے لیے کروڑوں افراد اپنے گھروں سے نکلتے ہیں۔
ایک پرانی رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک نے بتایا کہ بلوچستان میں بچیوں کے سکول 10-10کلو میٹر کے فاصلے پر ہوتے ہیں پنجاب میں یہ صورتحال نہیں۔ یہاں سکول کئی شہروں میں ایک کلو میٹر کی حدود میں موجودگی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ دوسرے شہروں میں لاہور سے بہتر صورتحال ہے۔ جہاں نجی شعبے نے سکولوں کے خلا کو پورا کیا ہے۔اسی طرح شادی بیاہ اور دوسرے میل ملاپ سے بھی گہما گہمی میں اضافہ ہوا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دن بھر میں کتنا سفر کرنا پڑتا ہے۔ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ لیکن ہمیں یہ پتہ ہے کہ ہر شہر کا اپنا مسئلہ ہے یہ دوسرے شہر سے بالکل مختلف ہے۔
کراچی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ، لاہور کی ایک کروڑ گیارہ لاکھ ،فیصل آباد کی32 لاکھ ، راولپنڈی کی 21لاکھ، گوجرانوالہ کی 20 لاکھ، پشاور کی20 لاکھ، حیدر آباد کی 17.3لاکھ ، ملتان کی 18.7لاکھ اور کوئٹہ اور اسلام آباد کی 10-10لاکھ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ذرائع ابلاغ کے ساتھ اپنی تشہیر کیلئے کام کرنا

صوبہ سندھ نے اپنی سڑکوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے درکار وسائل سے کہیں کم فنڈز خرچ کر کے ٹریفک کے مسئلے کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے اور یہ عمل گزشتہ کئی سال سے جاری ہے۔ پاکستان میں سڑکوں کی کل لمبائی تقریباً 3لاکھ 60ہزار کلو میٹر ہے۔ اس میں اچھی اور غیرمعیاری دونوں طرح کی سڑکیں شامل ہیں۔ پیچ ورک بھی اسی میں شامل ہے۔ مگر ایک سڑک کو بنانے کے بعد توڑنے کا عمل اس رپورٹ کا حصہ نہیں۔ یہ کسی نے دیکھا ہی نہیں کہ لاہور میں آدھی سے زیادہ سڑکیں بنانے کے بعد سال چھ مہینے میں خود سرکارہی توڑ دیتی ہے۔ لاہور میں ایجرٹن روڈ، ملتان روڈ، ٹھوکرسمیت درجنوں سڑکیں اس کی افسوسناک مثال ہیں۔ کوئی سڑک ایسی نہیں جس پر سیف سٹی کے نام پر عین چوک کے نزدیک بھیانک کٹ نہ لگایاگیا ہویوں ہر چوک کے قریب ٹریفک پھنسنے لگی ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ ملک کے 20کروڑ سے زائد افراد اپنے عزیزوں و اقارب سے ملنے کے لیے کن سہولتوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں ان کے پاس سکول ، کالج ، دفتر یا ہسپتال جانے کے لیے کون سے وسائل ہیں۔ یہ صورتحال ہر شہر میں مختلف ہے۔ اس وقت ملک میں موٹر سائیکلوں کی تعداد 1کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہر سال 25لاکھ موٹر سائیکلوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ کاروں کی تعداد بھی اسی تناسب سے بڑھ رہی ہے ۔ جبکہ ساڑھے تین ہزار جیبیں اور 24ہزار ہلکی بزنس گاڑیاں اس کے علاو ہ ہیں۔ سائیکلوں کی پیداوار 2لاکھ سالانہ ہے۔ جبکہ تقریباً ساڑھے پانچ ہزار ٹریکٹر بھی سالانہ تیار ہو رہے ہیں۔ یہ سب ہماری سڑکوں پر رواں دواں ہیں۔
ملک میں سستی سے سستی کار بھی 7.5لاکھ میں پڑتی ہے۔ اس کی پیدا وار میں 8فیصد سالانہ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ہزاروں کاریں سالانہ درآمد کی جارہی ہیں، درآمدی کاروں پر گزشتہ برسوں میں حکومت کو 78ارب روپے کے ٹیکسز بھی ملے ہیں۔ جبکہ موٹر سائیکل کی قیمتیں 50ہزار سے ڈیڑھ لاکھ تک ہے جبکہ بڑے برانڈ کی کاریں اپنی مرضی سے قیمتیں بڑھاتی رہتی ہیں لہٰذا لکھنے کی ضرورت نہیں۔ سائیکلوں کی مانگ ختم ہو گئی اور اب اس کی قیمت ساڑھے تین ہزار روپے سے 8ہزار روپے تک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  گھریلو تشدد کی ہمارے ہاں کیا صورتحال ہے

لوگوں کا یہ سارا سرمایہ گھروں اور سڑکوں پر کہیں بھی محفوظ نہیں۔ کار چور ہر قسم کے تالوں کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایک اندازے کے مطابق ملک میں 1ارب روپے کے پیڈ لاک اورتالے وغیرہ فروخت ہوئے۔ ان کی برآمد پر بھی تقریباً 10کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ ٹیکسوں اور منافع نے قیمتوں کو چار چاند لگا دیا۔
سڑکوں کی کمی اور ٹریفک کی ناقص مینجمنٹ نے بہت سی کاروں کو حادثات سے دوچار کر دیا۔ 2016-17ءمیں کل 9582 حادثات میں سے 3591 جان لیوا ثابت ہوئے۔ 5ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 13ہزار سے زائد تھی یعنی تقریباً 18ہزار افراد سڑکوں پر موت و حیات کی کشمکش میںمبتلا ہو گئے اس میں قصور کس کا ہے؟۔ یہ آج تک پتہ نہیں چلا تاہم گزشتہ چند سالوں میں حادثات کا شکار کاروں کی تعداد 1 ڈیجٹ سے بڑھ کر 2ڈیجٹ میں ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  بے نظیر بھٹو: ایک مثالی شخصیت

1997 ءمیں کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن بنی، سوا پانچ ہزار عملہ اور 6ڈپو تھے۔ ساڑھے پانچ سو بسیں خریدی گئیں اور نئی ورکشاپس بنیں پھر سیاسی ہنگامہ آرائی اور گہما گہمی کا زمانہ آگیا۔ مشتعل ہجوم کا پہلا نشانہ ہمیشہ بسیں اور کاریں ہی ہوتی ہیں۔ جن پرا ن کے بچے سکول جاتے ہیں اہل خانہ علاج کے لیے ہسپتال کا رخ کرتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کا پہلا نشانہ ہمیشہ یہ سہولت ہی بنتی ہے۔ چنانچہ چند سالوں کے اندر اندر ایک ایک کروڑ روپے کی بسیں بند ہونا شروع ہو گئیں۔ اور 24بسیں جل کر راکھ کا ڈھیر ہو گئیں مزید 184بسوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ یوں 208بسیں کٹھارہ ہو گئیں کئی درجن ارب روپے کی زمین اس وقت بھی ناکارہ پڑی ہے۔سب کی نظریں اسی زمین پر جمی ہوئی ہیں۔ کئی حکمرانوں نے اسے بیچنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ کبھی قانونی پیچیدگیوں نے انہیں روکے رکھا تو کبھی مرکز اور صوبے کی کشمکش کے باعث نجکاری نہ ہوسکی کیونکہ اس زمین کی خریداری میں سندھ حکومت اور مرکز دونوں کا حصہ تھا۔ یہی نہیں اس کے زمینی استعمال کو بھی تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ چنانچہ عدالت نے بھی اس زمین کی فروخت کے ایک معاہدے کو غیر قانونی قرار دے کر روک دیا۔ سندھ حکومت نے عالمی بینک کے ساتھ مل کر ٹرانسپورٹ سسٹم کو نجی شعبے کے ہاتھ میں دے دیا۔ 3400ملازمین گولڈن ہینڈ شیک کے ذریعے فارغ کر دئیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان قائم ہوا

1971ءمیں فری فرانسپورٹ پالیسی منظر عام پر آئی۔ بھٹو حکومت نے نجی شعبے کو شریک کر نے کے لیے ہر شخص کو منی بسیں چلانے کی اجازت دے دی۔ ملک بھر میں ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے دفاتر قائم کر دئیے گئے۔ تھانہ کلچرل کی طرح ٹرانسپورٹ اتھارٹی میں بھی ایک نیا کلچرپروان چڑھا۔ کٹھارہ سے کٹھارہ گاڑی چند روپوں کے عوض میرٹ پر پوری اترنے لگی۔ چنانچہ پورے ملک میں منی بسوں کو فروغ ملنے لگا۔ سب سے زیادہ اہمیت کراچی میں ملی۔ جہاں سو نشستوں والی ایک بس تقریباً 80لاکھ روپے تک تیار ہو نے لگی۔

یہ بھی پڑھیں:  دوہری شہریت کے حامل کون کون سے امیدوار الیکشن میں حصہ لے چکے ہیں

تھوڑا سا ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ 1985ءمیں ہی منی بسیں سیاسی اختلافات کا پہلا نشانہ بننے لگیں۔ چوراہوں پر آئے روز حملوں کا شکار ہونے والے ٹرانسپورٹروں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ چنانچہ منی بس کلچر کا پھیلاﺅ رک گیا۔ اب اس کی جگہ حکومت نے منی بسوں کی رجسٹریشن پر پابندی لگا کے کوچ سروس شروع کی۔ جس سے ورکشاپوں کی چاندی ہو گئی۔ ہر منی بس کو ورکشاپ میں معمولی تبدیلیوں کے بعد کوچ قرار دیا جانے لگا۔ کوچ کا لیبل لگنے سے ان کی رجسٹریشن کا عمل پھر آسان ہوگیا۔
منی بسوں ، بسوں اور کوچوں کی تعداد اس قدر کم تھی کہ یہ کراچی کے لاکھوں عوام کو سفری سہولتیں پہنچانے کے قابل نہ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے منظور شدہ روٹوںپر کبھی بھی ٹرانسپورٹ نہیں چلا ئی گئی۔ 329 روٹوں میں سے محض 111روٹوں پر ٹرانسپورٹ فعال تھی۔ باقی تمام روٹ بند پڑے تھے یہ یا تو منافع بخش نہ تھے یا پھر سیاسی طور پر خطرناک تھے یا پھر یہاں ٹریفک کے دوسرے مسائل تھے۔
1964ءمیں سرکلر ریلوے ، اہل کراچی کے سفر کا ایک بڑا ذریعہ تھی۔ 44کلو میٹر لمبی ریلوے لائن کراچی کی بندرگارہ، سائیٹ، لانڈی اور سینٹرل بزنل ڈسٹرکٹ کے لاکھوں مسافروں کو سہولت مہیا کرتی تھی دن بھر میں 24ٹرینیں لاکھوں کو مسافروں کو ان کی منزل مقصود تک پہنچاتے تھے۔ قیام پاکستان کے ساتھ ورثے میں ملنے والا یہ نظام ہم برقرار رکھنے میں ناکام رہے۔ 1980ءکی دہائی میں زوال شروع ہوا اور 1988 ءمیں چند ایک ٹرینو ں کے دن بھر میں 12ٹرپ رہ گئے۔ اور دسمبر 1999ءمیں کراچی سرکلر ریلوے مکمل طور پر بند کر دی گئی۔ لانڈی ، کورنگی سیکشن پر دن بھر میں 2005ءمیں 2ٹرپ لگائے گئے۔ اسے زندہ کرنے کی کوششیں ہر بار ناکام ہوئیں۔ اللہ کرے اس دفعہ جو کوشش کی جارہی ہے اسے کامیابی مل جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  ماہی گیر عورتوں کے مسائل

جب ز مانہ بدلا تو ہم بھی بدل گئے۔ پھر ماسٹر پلان بننے کا دور شروع ہوا۔ ہر بڑے شہر کا ماسٹر پلان بنانے کا مسمم ارادہ کیا گیا۔ 1975ء، 1985ءاور پھر موجودہ صدی میں ماسٹر پلانو ں پر بہت توجہ دی گئی۔ ماسک ٹرانزک ٹرین کراچی کے ماسٹر پلان کا حصہ رہا۔ چنانچہ اسے پہلے ماسٹر پلان میں زندہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر جنرل ضیاءالحق نے منصوبہ ترک کر دیا۔ پھر 2000ءمیں عالمی بینک میدان میں آیا جس نے بڑھتے ہوئے لاگتی اخراجات کے پیش نظر ماس ٹرانزٹ منصوبے کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔ عالمی بینک اور عالمی اداروں کو بس ٹرانزٹ سسٹم بہت پسند آیا۔ پنجاب اورسندھ میں بلٹ ، آپریٹ ،ٹرانسفر کی بنیادی پر 87.4 کلو میٹر طویل 6روٹ منظور کیے گئے۔ یہ چل جاتے تو کراچی میں سفری مشکلات کم ہو جاتیں۔ اور لوگ کافی حد تک ٹریفک کے اژدھام سے محفوظ رہتے ۔کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر بلبلانے سے جان بچ جاتی مگر کیا کریں سول سوسائٹی کی اپنی خواہشات ہیں۔ یہ سوسائٹی بظاہر تو سول ہے لیکن اصل میں خاص ہے۔ اسے ان مسائل کا سامنا ہی نہیں کرناپڑتا جس سے ایک عام آدمی دن بھر میں گزرتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہماری سول سوسائٹی ہم میں سے نہیں ہے یہ خواص میں سے ہے جس کے پاس وسائل ہے یہ اس کے نظریات کی عکاس ہے۔ چنانچہ 6بسوں کے ٹرانزٹ سسٹم پر سول سوسائٹی نے شدید اعتراضات لگائے۔ تاریخی عمارتوں کے اوپر سے گزرنے والی بسیں تاریخی حسن کے لیے خطرہ نظر آئیں چنانچہ حکومت نے سول سوسائٹی کی سن لی عوام کا کیا ہے دھکے کھانے کے لیے سڑکیں کافی ہیں۔ وہ پھر منی بسوں ، رکشوں اور بسوں کے رحم و کرم پر چلے گئے۔ اب وہ اس میں مرغا بنے یا مرغی سول سوسائٹی کو کیا۔ چنانچہ بس ٹرانزٹ منصوبے کے بعد اب کچھ نیا سوچا جانے لگا۔

یہ بھی پڑھیں:  شادی کی عمروں میں بڑھتا ہوا فاصلہ

ایک مرتبہ پھر کراچی ماس ٹرانزٹ ٹرین کا منصوبہ 2009ءمیں سرکاری فائلوں میں آگیا۔ اب کی بار جاپان میدان میں تھا اور لاہور سے بھی کافی مدد ملنا تھی۔ 2010-11 ءمیں 2030ءتک کے کراچی ماس ٹرانزٹ پلان کو حتمی شکل دے دی گئی۔ فائلیں بہت خوبصورت تھیں ۔ 17لاکھ افراد یومیہ سفر کر سکتے تھے۔ جاپانی ادارے جائیکا نے 93.4فیصد سرمایہ محض 0.2فیصد شرح مارک اپ پر 40سال کے لیے دینا تھا۔ یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچتا تو اہل کراچی کی موج ہو جاتی ،سفر کسی نعمت سے کم نہ ہوتا۔ مگر کسی حکومت نے بھی اس کی اونر شپ نہ لی ۔ ضلعی حکومت ہو یا صوبائی یا وفاقی سب نے ہاتھ کھڑے کر دئیے۔ بلکہ کچھ ادارے تو آپس میں گتھم گتھا ہو گئے جاپانی ماہرین ہماری آپس کی لڑائی دیکھ کر درمیان میں سے نکل گئے۔ یہ منصوبہ بھی خاک میں مل گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ میں اولیاءاللہ کے مزارات (۱)

23ہزار کچی آبادیوں کے مکین بھی ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے حکومت نے انہیں نئی جگہوں پر رہائشی سہولتیں مہیا کرنے کے وعدے کیے۔ مگر سیاستدان کہا ں مانتے ہیں۔ 147ارب روپے کا منصوبہ اب 347ارب روپے سے زائد کا ہو چکا ہے۔ یوں یہ منصوبہ بھی ناقابل عمل اور ہماری دسترس سے باہر ہو چکا ہے اگر بنا بھی تو سفر مہنگا ہوگا۔ دانش مندوں کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر کو 50سال پہلے سوچنا چاہیے اور 20سال پہلے عمل کر لینا چاہیے اس کا ایک قانون بنانا چاہیے کہ اس سے پہلے اگر سڑک یا عمارت کو نقصان پہنچا تو پیسہ ٹھیکیدار دے گا۔ ترقی یافتہ ممالک میں منصوبے اسی طرح پیشگی تیار ہو تے ہیںمگر ہمارے ہاں وقت کے تقاضوں کے مطابق وقت گزرنے کے کئی برس بعد بننا شروع ہوتے ہیں۔ وہ بھی کچھوے کی رفتار سے ۔

یہ بھی پڑھیں:  ماہی گیر عورتوں کے مسائل

2002ءمیں کراچی کے لیے اربن ٹرانسپورٹ سکیم بنی۔ 13سرمایہ کاروں نے 364بڑ ی بسیں متعارف کروائیں ۔ان میں سے 8سرمایہ کاروں نے یا توکرائے کم ہونے یا دوسری وجوہات کی بنا پر 221بسیں دوسرے علاقوں کو منتقل کر دیں۔اس زمانہ میں لاہور میں کرایہ 28روپے فی کلو میٹر اور کراچی میں 14روپے فی کلو میٹر تھا۔ یوں دوسرے علاقوں کو فائدہ پہنچا اور کراچی کے عوام سفری سہولتوں سے محروم ہو گئے۔ 2007ءمیں وفاقی حکومت نے کراچی میں 4ہزار سی این جی بسیں چلانے کی منظوری دی۔ منظوری کے چند مہینوں کے اندر اندر تعدا د4ہزار سے گٹھا کر 2ہزار کر دی گئی۔ 2ہزار بسیں چلا نے کے لیے تمام بینکوں کو سرمایہ کاری کرنے کا حکم ملا مگر پائلٹ پراجیکٹ ہی ناکام رہا۔ ماضی کے تلخ تجربات کے پیش نظر کوئی بینک قرضہ دینے پر آمادہ نہ تھا۔ بہت لے دے کر جولائی 2009ءتک 75سی این جی بسیں چالو ہو سکیں تھیں۔ انہیں بھی کراچی کی انتظامیہ نے آﺅٹ سورس کر دیا۔ اپریل 2013ءمیں یہ معاہدہ بھی منسوخ ہو گیا، چنانچہ 73بسیں مختلف ڈپوﺅں پر کھڑی کر دی گئیں ان کی مرمت پر 4کروڑ روپے کی لاگت آنی تھی۔ ڈیزل، سی این جی، میں تبدیلی پر مزید 27کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ پھر مرمتی اخراجات کو ملانے کے بعد بسوں کو چلانا غیر منافع بخش عمل ہوگا ۔ 2006ءمیں کراچی کی ترقی کے لیے کراچی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پلان بنایا گیا اسے 2020ءتک کار آمد ہونا تھا لیکن یہ منصوبہ ہی اب تک پورے طور پر قابل عمل نہیں۔ اس منصوبے کے مطابق کراچی شہر کی سڑکوں کو روزانہ 2کروڑ 42لاکھ لوگ سفر کرتے ہیں شہری پبلک ٹرانسپورٹ 60فیصد اور نجی ٹرانسپورٹ 40فیصد استعمال کی جاتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق نصف لوگ پبلک ٹرانسپورٹ سے اور دیگر کاروں ، موٹر سائیکلوں اور رکشوں وغیرہ پر سفر کرتے ہیں۔ کراچی میں ٹیکسیاں اور دوسری گاڑیاں بھی 1لاکھ سے زائد ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں 60سال پرانی بسیں سڑکوں پر رواں دواں ہیںیہ ہے محکمہ ٹرانسپورٹ کا نظام۔ نئی بسوں کی خریداری بند پڑی ہے روٹ پرمٹ کے اجراءکے باوجود درجنوں روٹ بسوں سے محروم ہیں مقامی حکومت نے 2000ءمیں 140نئے روٹ منظور کیے جن میں سے 65روٹ پر سرے سے کوئی منی بس نہ چلی جبکہ بسوں کے لیے 60روٹ منظور کیے گئے جن میں سے 20پر کوئی بس چلائی نہیں گئی۔ جبکہ 1941ءمیں کراچی کی آبادی محض 4لاکھ 36ہزار تھی۔ اس زمانہ میں بھی پبلک اور نجی ٹرانسپورٹ پوری نہ تھی اور اب بھی نہ ہے۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق کراچی میں 45ہزار شہری روزانہ نواحی علاقوں سے سفر کرتے ہیں۔ مثلاً سائٹ ایریا میں 56فیصد لوگ دوسرے علاقوں سے آتے ہیں یہی حال لانڈی اور کورنگی کا ہے۔ ہول سیل مارکیٹوں میں بھی ہزاروں لوگ روزگارکمانے کے لیے دور دراز کے علاقوں سے سفر کرتے ہیں۔ اور مجموعی طور پر ایک رپورٹ کے مطابق ایک ملازمت پیشہ فرد کو کم از کم 20کلو میٹر اور زیادہ سے زیادہ 45کلو میٹر کا سفر روزانہ طے کرنا پڑتا ہے۔ یوں ہانک کانگ سے 4گنا بڑے کر اچی شہر میں نقل و حمل کی سہولتیں ہانک کانگ سے 4گنا کم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بے نظیر بھٹو: ایک مثالی شخصیت

پبلک ٹرانسپورٹ اور رجسٹرڈ ٹرانسپورٹ میں بھی زمین آسمان کا فرق ہے یہ 7فیصد سے زیادہ نہیں۔88فیصد شہری موٹر سائیکلوں اور کاروں کو استعمال کر رہے ہیں۔ ہر برس میں 8سے 10افراد کھڑے ہو کر سفر تو کرتے ہی ہیں رش کے اوقات میں ان اعداد و شمار کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔
سندھ حکومت نے سفری دورانیہ میں کمی کے لیے کئی اقدامات کیے بلکہ پالیسیاں بنائیں۔ آرڈیننس جاری کیے اور ایکٹ بنے۔اس سلسلے میں موٹر وئیکل آرڈیننس 1665ء، موٹر وئیکل ایکٹ 1969ء، کراچی ڈویژن ٹریفک انجینئرنگ ایکٹ 1985ء، بھی جاری کیے گئے۔ سندھ حکومت نے ہر ڈویژن میں ٹریفک انجینئرنگ بیورو قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا جس کا مقصد ٹریفک کے نظام کو ہر ڈویژن میں بہتر بنانا تھا۔ مگر یہ خواب بری طرح ناکام ہوا۔ ڈویژن تو کیا کراچی کی ٹریفک کا نظام بھی قابو سے باہر رہا۔ ٹریفک پولیس کی تنظیم نو ، جرمانوں کی آن لائن پیمنٹ، ٹرانسپورٹ کو صنعت کا درجہ دینے، موٹر وہیکل ٹیکسوں کو آن لائن کرنے ، ہر 5سال بعد ٹرانسپورٹ کی ضروریات ا ور اس کے حصول کا ڈیٹا تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ خواب پورے نہ ہوئے، اسی طرح ہر شہرمیں ٹریفک کا ماڈل نظام قائم کرنے کے لیے لینڈ یوز کے بہترین استعمال اور ٹریفک کے دباﺅ کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقی کام کا بیڑھ بھی اٹھایا گیا۔ یہ کام بھی پورا نہ ہوسکا۔ حکومت نے 15سال پرانی گاڑیوں کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کی تجویزمنظور کی تھی مگر یہ بھی پوری نہ ہوسکی ۔ڈرائیوروں کی لازمی تربیت بھی خیال و خواب سے آگے نہ بڑھ سکی۔