tani+zafar

وزیراعظم کے دو معاون خصوصی مستعفی

EjazNews

ملک کے دو اہم ترین لوگوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ لیکن آپ جتنا مرضی انکار کر لیں اگرآپ دنیا کو سٹڈی کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کو نیو یارک پولیس کے چیف نے کتنا ملکوں کی پولیس کو ہیڈ کیا اور ان کے ہاں پولیس کے اداروں کو ٹھیک کیا۔ ہمارے ہاں سپورٹس کے کھلاڑی بھی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم نے غیر ملکی کوچز کو بھرتی کیا کہ ٹیم کی کارکردگی بہتر بنائی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ گرفتاری کے بعد 8روز کیلئے سی ٹی ڈی کے حوالے

اگر آپ ملک عزیز پر ایک نظر دوڑائیں تو آپ اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ پورے ملک میں کوئی چیز رجسٹرڈ ہی نہیں ہے۔ ملک میں کتنے مزدور ہیں کہاں مزدور کرتے ہیں کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔ کس کے کتنے اثاثے ہیں اور کس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ ان سب چیزوں کو تانیہ رجسٹرڈ کرنے لگی ہوئی تھیں اور یہی تھا ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی کو کچرا شہر بنانے میں پلاسٹک کااہم ترین کردار ہے، دنیا بھر میں ایک سال میں پلاسٹک کی 480ارب بوتلوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے

ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے کہنے پر پاکستان آیا تھا۔ میں نے اس ملک کے لیے محنت اور ایمانداری سے کام کیا۔پاکستان کے لیے کام کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، مطمئن ہوں کہ کرونا کیسز میں کمی کےدوران استعفیٰ دیا۔
حکومت نے اپریل2019 کو ماہر صحت ڈاکٹر ظفراللہ مرزا کو بطور وزیر مملکت برائے صحت تعینات کیا تھا۔ وہ عالمی ادارہ صحت میں اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہوں نے عالمی ادارہ صحت کے ریجنل آفس میں بطور ہیلتھ سسٹم ڈویلپمنٹ کے فرائض سرانجام دئیے تھے۔
تانیہ ایدروس نے اپنے استعفیٰ میں لکھا ہے کہ میری دہری شہریت پر سوالات اٹھائے گئے، عوامی مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ مجھ پر ہونے والی تنقید ڈیجیٹل پاکستان وژن پر اثر اندا ز ہورہی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی میں خطاب

حکومت نے18 جولائی کو وزیراعظم عمران خان کے معاونین خصوصی اور مشیروں کے اثاثے پبلک کیے تھے جس کے بعد حزب اختلاف کی جانب سے ان کے استعفوں کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔معاونین خصوصی کے اثاثے اور شہریت پبلک ہونے کے بعد ملک میں ایک بحث چھڑ گئی تھی کہ اگر دہری شہریت رکھنے والا رکن قومی اسمبلی نہیں ہوسکتا تو کابینہ کا حصہ کیسے بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان اور سری لنکا کے مابین دسمبر میں ٹیسٹ سیریز کھیلی جائے گی

تانیہ ایدروس نے امریکہ کی برانڈیز یونیورسٹی سے بائیولوجی اور اکنامکس میں بی ایس کی ڈگری لی اور پھر میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی سے ایم بی اے کیا ہوا ہے۔انہوں نے گوگل کی جنوبی ایشیا کی کنٹری منیجر کے طور پر 2008 سے 2016 تک کام کیا اور پھر انہیں گوگل کے پراڈکٹ، پیمنٹ فار نیکسٹ بلین یوزر پروگرام کی ڈائریکٹر بنادیا گیا تھا۔وزیراعظم عمران خان نے2019 میں انہیں پاکستان بلا کر ڈیجیٹل پاکستان کیلئے معاون خصوصی کیتعینات کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  غلام سرور اور فردوس عاشق اعوان کیخلا ف توہین عدالت کے نوٹسز واپس لے لیے گئے

جب سے مشیران کے اثاثوں اور نیشنلٹی کو ظاہر کیا گیا ہے اس وقت سے الگ الگ رنگ سے تنقید کی جارہی تھی حالانکہ پاکستانی قوانین کے مطابق ان کے مشیران رہنے میں کوئی قباحت نہیں تھی۔تانیہ یا ظفر مرزا کو تو جاب کی کمی نہیں ہے لیکن ہمارے ہاں ڈیجیٹل ٹیلنٹ کی بہت کمی ہے۔