depration

ڈپریشن محض ایک احساس نہیں۔۔۔۔بیماری ہے

EjazNews

ڈپریشن کے بارے میں ایک خیال یہ پایاجاتا تھاکہ یہ محض ایک احساس ہے جو بعض انسانوں پر بعض حالات میں چھا جاتا ہے اور وہ خود کو شدید دباو کے عالم میں مایوس، محروم، غمزدہ اور افسر دہ محسوس کرنے لگتے ہیں اور ان پر حزن ، پسماند گی یا درماندگی کا راج ہو جاتا ہے لیکن یہ دراصل ایک بیماری ہی ہے جس میں مبتلا افراد مایوسی اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کے موڈ پر خاصے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اگرچہ کہ ڈپریشن ایک عام بیماری ہے مگر بد قسمتی سے اسے بہت کم سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی اس کی درستگی سے تشخیص ہو پاتی ہے کیونکہ بہت سارے لوگ جو کسی نہ کسی پریشانی یا الجھن میں پھنسے ہوئے ہیں وہ اپنی کیفیات کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور نہ ہی وہ اس بات کی زحمت کرتے ہیں کہ کوئی دوسر ان کو سمجھے یا سمجھانے کی کو شش کرے۔ ہماری روز مرہ کی زندگی میں ڈپریشن مختلف وجوہات کی بناءپر بڑھتا ہی جارہا ہے اور اس میں مبتلا افراد اپنی نارمل زندگی کو بہتر انداز سے گزارنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ڈپریشن کی وجہ سے لوگوں میں چڑ چڑاپن اور غصے جیسی چیزیں جنم لینے لگتی ہیں اور وہ بات بے بات دوسروں سے لڑتے جھگڑتے یا الجھتے رہتے ہیں۔ اگر اس خاموش بیکاری میں روز افزوں اضافے کی جانب مناسب توجہ نہیں دی گئی تو بہت جلد ہم بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل دکھائی دیں گے جہاں ڈپریشن ایک بڑی بیماری کے طور پر سامنے آئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  موٹاپے سے بچنے کیلئے چکنائی کی کمی بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے

دور حاضر میں ذہنی امراض میں اضانے کا اہم ترین سبب بھی ڈپریشن ہے جو انسانی دماغ کو بہت زیادہ نقصان پہنچاتا ہے جس کے نتیجے میں اچھا بھلا انسان دیوانے پن کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ڈپریشن اور فرسٹریشن کے شکار بیشتر افراد ذہنی بیماریوں کو اپنی جانب آنے کی دعوت دے رہے ہیں اور معاشرے کے اہم ترین افراد جو کہ مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دے سکتے ہیں غیر فعال ہو کر رہ گئے ہیں جن میں جینے کی امنگ کبھی ختم ہو رہی ہے۔ ایسے افراد اپنی زندگی خوشی اور مکمل اعتماد کے ساتھ گزارنے سے قاصر ہیں اور خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگتے ہیں۔ وہ اس قدر عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اپنے بارے میں درستگی کے ساتھ نہیں سوچتے جبکہ دوسروں کے بارے میں بھی ان کے خیالات اچھے نہیں رہتے۔ ایسے افراد کو ان کے حال پر چھوڑنے کے بجائے مناسب علاج کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے کیونکہ اسی طرح وہ معاشرے کے فعال اور سرگرم فرد بن سکتے ہیں۔ ہمیں اب یہ بات تسلیم کر لینا چاہئے کہ ڈپریشن کسی خاص کیفیت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک بیماری ہے اور مغربی دنیا میں اس کا باقاعدہ علاج کیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں بھی چونکہ اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد معاشی و معاشرتی ناہمواریوں کے سبب تیزی سے بڑھ رہی ہے لہٰذا اس کا سد باب ضرور ی ہو گیا ہے۔

ذہنی ڈپریشن کیا ہے؟ :کسی حد تک ہم میں سے بیشتر افراد کو اس تجربے سے گزرناپڑتا ہے۔ سب سے زیادہ دکھ بھر ی حالت یہ ہے کہ جب اچانک یا غیر متوقع طور پر کسی قریبی عزیزیار شتے دار کی موت ہو جائے اور یہ خبر آپ کو بری طرح پریشان کر دے۔ خاندان کا کوئی فردخدانخواستہ ٹریفک کے کسی حادثے میں چل بسے تو اس وقت بھی ذہنی طور پر ڈپریشن کا سامناکرناپڑتا ہے۔ ایسے تمام واقعات میں انسان غم ، مایوسی، طیش، پریشانی اور سب سے بڑھ کر دکھ کو محسوس کرتا ہے لیکن اس کے اثرات وقتی ہوتے ہیں اور یہ رد عمل طبی اعتبار سے پریشان کن نہیں سمجھا جاتا۔ ڈپریشن کی ایک اور علامت بے چینی ہے اور یہ بھی عام سی بات ہے تاہم اکثر حالات میں یہ مصنوعی بھی ہو سکتی ہے۔ سرطان یا ایسی ہی کسی موذی بیماری کا خوف اس کی زندہ مثال ہے۔ کسی شخص کے غدود بڑھ رہے ہیں تو اسے بری طرح پریشانی لاحق ہو جاتی ہے اور بار بار کی یقین دہانی کے باوجود کہ یہ اتنا بڑا اہم مسئلہ نہیں جس کا علاج نہ ہو سکے وہ مطمئن نہیں ہوتا۔ اس نوعیت کے افراد اپنے طور پر زیادہ تر باتوں کے بارے میں غیر ضروری طور پر سوچ کر یا بعض علاماتوں سے نتیجہ نکال کر پریشان ہوتے رہتے ہیں، ان کے ہی احساسات دراصل ڈپریشن کے مرض کے گواہ ہیں۔

بے خوابی یا تنک مزاجی: بے چینی میں مبتلا بہت سارے مریض آگے چل کر بے خوابی جیسی مصیبت سے بھی دو چار ہو سکتے ہیں۔ اس میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کسی نہ کسی خوف میں مبتلا ہو کر بستر میں جانے سے گریز کرنے لگتے ہیں کہ انہیں خواب میں برے خیالات آتے ہیں، ڈراونی شکلیں دکھائی دیتی ہیں جو انہیں سونے نہیں دیتیں مگر کئی مرتبہ وہ اتنازیادہ سوتے ہیں کہ پیروں تک بستر سے نہیں نکلتے۔ بہت زیادہ جاگنے اور حد سے زیادہ سونے کی وجہ سے ان کے موڈ میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور وہ تنک مزاجی یا جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ سلسلہ دراز ہو تا چلا جائے تو یہ کیفیات ان کی ذات کا حصہ بن کر رہ جاتی ہیں۔
علاماتی ڈپریشن:اگر ناموافق حالات زیادہ عرصے تک گھیرے رہیں اور مخالف حالات کا دباو بڑھتا چلا جائے تو متاثرہ شخص کو ڈپریشن لاحق ہو سکتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آنے والے عرصے میں اس شخص کے اعصاب پر اس قدر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ وہ رعشہ کی بیماری میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے افسردگی اور اضمحلال محسوس کرے تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے اس بات پر غور کریں کہ یہ کوئی بیماری بھی ہو سکتی ہے۔

خاندان کا کردار: عام طور پر چونکہ ڈپریشن کو مرض سمجھائی نہیں جاتا ہے لہٰذا اس کے مناسب علاج کی سعی بھی کرنے میں کوتاہی سے کام لیا جاتا ہے حالانکہ ایسے مریض کو فوری طور پر توجہ کے لائق سمجھنا چاہئے تاکہ وہ مستقبل کے بڑے خطرات سے بچاو کر سکے۔ اس حوالے سے خاندان کے افراد بڑا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اور مریض ڈاکٹر کے پاس جانے پر رضامند نہ ہو اور ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہا ہو تو کسی قریبی عزیز رشتے داریا دوست کا فرض ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو ادا کرتے ہوئے اسے ڈاکٹر کے پاس جانے پر آمادہ کرے اور خود بھی مذکورہ ڈاکٹر سے مل کر اس بیماری سے متعلق نہ صرف معلومات حاصل کرے بلکہ اس کے سد باب کے طریقے بھی دریافت کرے تا کہ متاثرہ شخص کی مناسب راہنمائی ممکن ہو سکے۔

ڈپریشن اور گفتگو: عموماًڈپریشن میں مبتلا افراد خود کو تنہائی کا شکار کر لیتے ہیں اور زیادہ بات چیت سے گریز کرتے ہیں لیکن کچھ افراد ایسے بھی ہیں جن کو بات چیت کر کے سکون ملتا ہے۔ ان کی باتیں عام طور پر اپنی ذات یا مشکلات کے حوالے سے ہوتی ہیں اور ایسے مریض کی بے معنی باتوں کو سننا اور مسلسل برداشت کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ ایسے حالات میں گھر کے افراد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ الجھن یا بیزاری ظاہر کرنے کے بجائے مریض کا ذہن بنائیں اور اس سے گفتگو کرتے رہیں تاکہ اس میں تنہائی کا احساس ختم ہو جائے۔ اس کی باتوں کو بغور سنیں، مذاق اڑانے، طعنے یا اس کی باتوں کو جھٹلانے اور اپنی رائے اس پر ٹھونسنے سے گریز کریں کیونکہ ایسے مریض کو ہر سمجھانے والی بات بھی ناگوار گزرتی ہے۔

نفسیاتی معالج کا کردار : ڈپریشن کی بعض اقسام میں مریض کو نفسیاتی معالج کی ضرورت بھی محسوس ہوتی ہے اگرچہ کہ وہ خود اپنی اس کیفیت کو کسی نفسیاتی مسئلے کا نتیجہ نہیں سمجھتا ہے۔ نفسیاتی معالج کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ محض بات چیت کر کے مریض کو مطمئن اور پرسکون کر دینے میں مہارت رکھتا ہے۔ وہ مریض کے مسائل کو توجہ اور ہمدردی کے ساتھ سنتا اور مرض کی نوعیت کو سمجھتا ہے اور پھر مناسب علاج تجویز کرتا ہے لہٰذا نفسیاتی معالج کی اہمیت اور کردار کو اس حوالے سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ڈپریشن خواہ ایک بیماری سہی لیکن اس کا علاج بہر حال موجود ہے لیکن اردگرد کا ماحول اور آس پاس موجود افراد اس حوالے سے بڑا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عائشہ صدیقہ

کیٹاگری میں : صحت