malaysia

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم نجیب رزاق بھی عدالتی فیصلے کے پابند سلاسل ہوگئے

EjazNews

ملائیشیا میں عدالت کے باہر نجیب رزاق کے سیکڑوں حامی تھے، جو کبھی ملک کا طاقتور ترین شخص سمجھا جاتا تھا۔ آج عدالت کے کٹہرے میں کھڑا تھا۔جیسے ہی سزا سنائے جانے کی خبریں مجمع میں پھیلیں تو انہوں نے جج کے فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیا۔باہر انتظار کر رہے ان کے متعدد حامیوں نے چیخ چیخ کر کہا لانگ لائف مائی باس، اور ان میں سے چند نے فیصلہ سنتے ہی رونا شروع کردیا۔

عدالت کا فیصلہ سوشل میڈیا پر بھی فوری طور پر وائرل ہوگیا جہاں کئی صارفین نے جج کے فیصلے کا خیر مقدم بھی کیا۔نجیب رزاق کو 12سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان پر 7الزامات کے ثابت ہونے کی اطلاعات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  متحدہ عرب امارات غیر ملکیوں کو اب مستقل شہریت مل سکے گی

الجزیرہ پر چلنی والی رپورٹ کے مطابق بہت سارے لوگوں کے لیے یہ فیصلہ نئے ملائشیا کا آغاز ہے جہاں اختیارات سے ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز سنائی دی گئی اور جب اپیلوں کا ایک طویل عمل ہونے کا امکان تھا تو اس فیصلے نے نجیب رزاق کی واپسی کے دروازے بند کردئیے۔

جج محمد نزلان کا کہنا تھا طاقت کے ناجائز استعمال، منی لانڈرنگ اور اعتماد میں مجرمانہ خلاف ورزی کے متعدد الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے محسوس کیا ہے کہ استغاثہ نے اپنے مقدمے کو کسی معقول شک سے بالاتر ثابت کیا ہے لہٰذا میں ملزم کو مجرم سمجھتا ہوں اور ان ساتوں الزامات میں ملزم کو مجرم قرار دیتا ہوں۔فیصلے سنانے کے دوران ایک موقع پر جج نزلان غزالی نے کہا کہ 67 سالہ نجیب رزاق جو وزیر خزانہ کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں، نے قرضوں کی منظوری میں جائز طرز عمل کی حدود سے باہرکام کیا جس کے ذریعے انہوں نے فنڈز اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر میں عید کی نماز پر بھارت کی جانب سے پابندی عائد

سابق وزیر اعظم پرجیل کی سزا کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے ہیں۔ملائیشیا کے قانون کے مطابق ان الزامات میں کوڑوں کی سزا بھی عائد ہوتی ہے تاہم نجیب کو عمر کی وجہ سے یہ سزا نہ دئیے جانے کا امکان ہے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا کہ جب صرف 6 روز قبل ہی ہائیکورٹ کی جانب سے نجیب رزاق کو حکومت سے 2011 سے 2017 تک کے ٹیکسز اور جرمانے کی مد میں ایک ارب 69 کروڑ رنگٹ (40 کروڑ ڈالر) ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔