Qurbani

قربانی کی مختلف صورتیں

EjazNews

اللہ تعالیٰ کے حکم کو سرتسلیم خم کرنا:
قربانی کی حکمت اور مقصد پر غور کیا جائے تو اس میں سب سے اہم ترین پہلو سرتسلیم خم کرنا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کے حکم اور قانون کے مطابق ایک بے زبان ہمارے سامنے مطیع وفرمانبردار، بے اختیار اور لاچار ہیں اسی طرح ہمیں بھی اس مالک حقیقی کے سامنے سر تسلیم خم ہو جانا چاہیے اور اپنے آپ کو بعض چیزوں میں بے اختیار اور لا چار سمجھیں ۔ قربانی کی یہی وہ حکمت اور مقصد ہے جس کی تکمیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے فرمائی:

یہ بھی پڑھیں:  اسلام میں شجاعت اور بہادری کا بیان

اللہ تعالی کا فرمان ہے:
ترجمہ: تو جب دونوں نےحکم مان لیا اور اس نے اسے پیشانی کی ایک جانب پرگرا دیا۔(الصفات103:)
اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اور سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام دونوں باپ بیٹے نے قربانی کی حکمت و مقصد کو پالیا اور اپنی جبین نیاز کو جگا دیا اور خود کوسرتسلیم خم کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام بدکاری کو سخت ناپسند کرتا ہے

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:اور ہم نے اسے آواز دی کہ اے ابراہیم ۔ یقینا ًتو نے خواب سچا کر دکھایا، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جز ادیتے ہیں۔ بیشک یہی تو یقین کھلی آزمائش ہے۔(الصفات 104-107)

یہ بھی پڑھیں:  جانئے دین اسلام میں جانوروں کے حقوق کیا ہیں

غلط افکار ونظریات کی قربانی:
قربانی کی حکمت یہ ہے کہ انسان اپنے وجود نظریات، افکار اور جذبات سے دست بردار ہو کر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دے اور خود کو اس کا فقیر و غلام سمجھے۔ یہی وہ حکمت ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :
ترجمہ :کہہ دیجئے بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلاہوں۔(الانعام162-163)

یہ بھی پڑھیں:  قرآن پڑھنے کی فضیلت

عقل اور ہائی برے خیالات کی قربانی:
انسان کے عقائد ونظریات قرآن و سنت والے ہوں۔ اگر تمہاری عقل اور دل نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی فرما بردار ہو جائے تو تم نے قربانی کی حکمت و مقصد کو پایا۔ اسی بات کو حدیث مبارکہ میں بیان کیا گیا ہے۔
سیدنا ابو امامت ؓسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:جس نے الله تعالیٰ ہی کے لیے محبت کی ، الله تعالیٰ ہی کے لیے دشمنی کی، الله تعالیٰ ہی کے لیے دیا، الله تعالیٰ ہی کے لیے روکا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا۔(صحیح مسلم، سنن ابی دائود4681)
جس شخص کے دلی جذبات اور کیفیات کا حال یہ ہو کہ اس کی محبت ونفرت کا معیار اللہ اور اس کا رسول بن جائے ، اس کی سخاوت وبخل الله تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو، اس کی زندگی کی ہر حرکت وسکنات کی منزل الله تعالیٰ کی ذات اور دین بن جائے تو اس نے بھی قربانی کی حکمت و مقصد کو پالیا۔

یہ بھی پڑھیں:  جھوٹی قسم کھانے کے نقصانات

پرکشش اشیاء کی قربانی:
جب انسان عقل و دل کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیتا ہے تو پھر لا یخافون کی منزل پا لیتا ہے۔ اس کے سامنے خوشنما نعرے اور بڑے پرکشش نظریات آتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ مذہب کو ریاست میں دخل اندازی نہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ہر انسان کو مادر پدر آزاد ہونا چاہیے۔ کوئی کہتا ہے کہ اختلاط ومردوزن میں کوئی حرج نہیں۔ کوئی جنسی انار کی اور بے راہ روی کے لیے عقلی دلائل دیتا ہے۔ مختلف قسم کے نظریات کے درمیان اللہ کا بندہ اٹھتا ہے اور کہتا ہے: اے عقلوں کے متوالوں ! اور خواہشات کے اسیروں! مجھے بتاؤ کہ حکم ربی کیا ہے؟۔

یہ بھی پڑھیں:  دعا کا بیان

مال کی قربانی:
اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی دینا قابل قدر ہے، مگر ان قربانیوں کی قدر و قیمت موقع کے لحاظ سے متعین ہوتی ہے۔ راہ حق میں جو مال بھی صرف کیا جائے وہ اللہ کے ذمے قرض ہے، اور اللہ اسے نہ صرف یہ کہ کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس دے گا بلکہ اپنی طرف سے مزید اجر بھی عنایت فرمائے گا۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر جانی اور مالی قربانی پیش کی تو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے ان کی سنتو ں کو زندہ و جاوید با دیا۔ اگر ہم بھی دنیا و آخرت میں ذکر خیر چاہت ہیں تو اپنے مال و جان کو دین اسلام اور امت مسلمہ کی خدمت میں صرف کریں۔